الواقعہ : 46 میں فرمایا : اور وہ گناہ کبیرہ پر اصرار کرتے تھے۔
یعنی وہ شرک پر تھے اور بار بار وعظ اور نصیحت کے باوجود شرک کو ترک نہیں کرتے تھے۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : وہ بڑے بڑے گناہوں سے توبہ نہیں کرتے تھے۔ اصرارکا معنی ہے : گناہ ہر گناہ کرنا اور توبہ نہ کرنا ‘ وہ قسم کھا کر کہتے تھے کہ وہ مرنے کے بعد زندہ نہیں ہوں گے اور بتوں کو اللہ کا شریک کہتے تھے ‘ یہ ان کے وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن سے وہ تائب نہیں ہوتے تھے۔