Site icon اردو محفل

مسئلہ ایمان ابوطالب علامہ سید زینی دحلان مکی رحمہ اللہ اور حنیف قریشی

مسئلہ ایمان ابوطالب علامہ سید زینی دحلان مکی رحمہ اللہ اور حنیف قریشی ۔

حنیف قریشی نے سید سیف اللہ صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا “کہ اعلی حضرت کے استاذ علامہ سید احمد بن زینی دحلان مکی رحمہ اللہ بھی ایمان ابوطالب کے قائل تھے “
لیکن یہ بات بھی حقیقت اور تحقیق کے خلاف ہے کیونکہ علمی میدان کچھ اور کہتا ہے ۔

قائلین ایمانِ ابی طالب ، علامہ زینی کی طرف منسوب کتاب “اسنی المطالب فی نجاة ابی طالب” کا حوالہ دیتے ہیں کہ دیکھو اس مسئلہ پر انہوں نے پوری کتاب لکھی ہے حالانکہ علامہ سید زینی دحلان مکی کا ہرگز وہ موقف نہیں ، جو یہ لوگ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ، بالفرض اس کتاب کی منسوبیت آپ کی طرف درست بھی قرار پائے تو اس کے اندر بھی انہوں نے جناب ابوطالب کی بابت یہ لکھا ہے ، کہ “ھو کافر باعتبار احکام الدنیا”۔۔۔۔یعنی دنیا میں جاری ہونے والے احکام کے اعتبار سے کافر ہیں۔۔۔۔
یعنی علامہ زینی دحلان نے ان تمام روایات واحادیث کو قبول کیا ہے ، جو ان کے عدم ایمان پر دلالت کرتی ہیں۔۔۔۔۔اور صاف لکھا ہے کہ” وہ یعنی ابو طالب دنیا میں جاری ہونے والے احکام کے اعتبار سے کافر ہیں”۔۔۔۔ لیکن آپ نے آثار و قرائن کو بنیاد بنا کر یہ قیاس کیا ہے ، کہ ان کے دل میں ایمان کا نور تھا ، پر وہ کسی مصلحت کی بنا پر اسے ظاہر نہ کر پائے ، جس کی صراحت انہوں نے خود فرما دی ہے ، یہ علامہ زینی کا قیاس ہے ، اور قیاس کے مقابلے میں نص صریح موجود ہے ، لہذا ترجیح نص کو ہی ملے گی ۔

2- اگر یہ کتاب آپ ہی کی ہے تو دیکھیں کہ آپ نے اس کتاب کا نام بھی بڑا سوچ سمجھ کر رکھا ہے”اسنی المطالب فی نجاة ابی طالب”
” ایمان ابی طالب” نہیں رکھا بلکہ “نجاة ابی طالب” رکھا۔ اس لئے کہ شریعت مطہرہ میں مومن اسی کو کہہ سکتے ہیں ، جس کا اقرار باللسان معلوم و مشہور ہو ، اور لوگوں نے سُنا بھی ہو ، اب رہا نجات کا معاملہ ، تو انہوں نے نجات کو جن آثار و قرائن سے ثابت کیا ہے اُسے خود نبی کریم ﷺ نے قبول نہیں فرمایا ، اس لئے کہ اگر آثار و قرائن یعنی حمایت ، نصرت اور پرورش یہ سب چیزیں ایمان کی دلیل ہوتیں ، تو پھر نبی پاک ﷺ ان سے ایمان کا مطالبہ ہی کیوں کرتے؟
آخر وقت میں کلمہ پڑھنے کا کیوں فرماتے؟
لہذا جتنے بھی قرائن پیش کئے جاتے ہیں وہ سب کے سب نبی پاک ﷺ کے کلمہ پڑھنے کے مطالبہ کرنے پر ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔

لہذا اس منسوب کتاب سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ علامہ زینی بھی خود ایمان پر وفات کے قائل نہیں تھے ۔

اب آتے ہیں علامہ سید زینی دحلان مکی کی مشہور زمانہ کتاب “السیرة النبویہ”کی طرف جس میں آپ نے اس مسئلہ پر دو ٹوک موقف لکھا ہے ، میرے سامنے ضیاءالقرآن کا مترجم 2014 کا ایڈیشن ہے ، جس میں یہ بحث صفحہ 108 سے لے کر 117 تک پھیلی ہوئی ہے ، علامہ زینی ، جناب ابوطالب کے اشعار نقل کرنے اور اس سے اسلام ثابت ہوتا ہے یا نہیں ، اس پر روشنی ڈالنے کے بعد لکھتے ہیں ؛

“خلاصہ یہ ہے کہ اہلسنت کے مذاہب اربعہ کا نقطہ نظر یہ ہے ، کہ جناب ابوطالب ایمان نہیں لائے تھے ، قرآن پاک کی آیات طیبہ اور احادیث اسی امر پر دلالت کرتی ہیں ، اگرچہ انہیں حضور علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق قلبی حاصل تھی ، مگر انقیاد ظاہری کے بغیر وہ سود مند نہیں۔ (لاسیرة النبویہ مترجم ص111)

پھر اس کے بعد مزید روایات و واقعات پر کلام کرکے آخر میں ساری بحث کا نتیجہ یوں پیش کرتے ہیں:

” اس بحث کا لب لباب یہ ہے کہ آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ ، تمام ظاہری نصوص شرعیہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں ، کہ “جناب ابوطالب کا انتقال کفر پر ہوا” حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق تو ان کے پاس تھی ، لیکن نہ تو انہوں نے سر اطاعت خم کیا ، اور نہ ہی اسلام لائے ، صرف تصدیق نے نفع نہ دیا، جہاں تک حضرت عباس کی روایت کا تعلق ہے ، کہ جناب ابو طالب نے وفات کے وقت کلمہ پڑھ لیا تھا ، تو یہ روایت ضعیف ہے ، یہ مذکورہ بالا نصوص کے مقابل نہیں آسکتی ، اہل تشیع نے اس حدیث اور جناب ابوطالب کے بہت سے اشعار سے استنباط کرتے ہوئے ان کے اسلام کا موقف اختیار کیا ہے البتہ اہل سنت و جماعت کا موقف اس نقطہ نظر کے برعکس ہے۔(ص117)

جی جناب تو علامہ زینی دحلان مکی رحمہ اللہ کا یہ موقف بغور پڑھ لیں کہ آپ ایمان کے قائل نہیں تھے ۔ کیا اس کتاب کا آپ کو علم نہیں؟
اگر آج سے پہلے علم نہیں تھا تو اب یاد رکھ لیں اور آئندہ اسنی المطالب کا حوالہ دینے پہلے اس کو ذہن میں رکھیں وگرنہ آپ بدستور خائن قرار پائیں گے ۔

آخر میں علامہ زینی رحمہ اللہ کی اس موضوع پر ایک نصیحت بھی لکھ دیتا ہوں جو کہ ہمارا بھی موقف ہے ۔ آپ اسی کتاب “السیرة النبویہ “میں لکھتے ہیں ۔

“عوام الناس میں اس قسم کی گفتگو نہیں کرنی چاہیئے ، بلکہ اس کے متعلق زیادہ غور و فکر نہیں کرنا چاہیئے ، یہ معاملہ صرف ربّ دو جہاں کے سپرد کردینا چاہیے بندے کے لئے سلامتی کی راہ یہی ہے” (السیرة النبویہ مترجم جلد اول ص 117)

✍️ارسلان احمد اصمعی قادری
14/12/23ء

Exit mobile version