Site icon اردو محفل

ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 64

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اس کو (حقیقت میں) تم اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں

حرث (کھیتی باڑی کرنا) مخلوق کی صفت ہے اور زرع ( اگانا) اللہ تعالیٰ کی صفت اور اس کا خاصہ ہے۔

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حرث (کھیتی باڑی کرنے اور کاشت کرنے) کی نسبت بندوں کی طرف کی ہے اور زرع (اگانے) کی نسبت اپنی طرف کی ہے ‘ کیونکہ کاشت کرنا بندوں کا فعل ہے اور ان کے اختیار سے صادر ہوتا ہے اور زرع (اگانا) اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور اس کے اختیار سے صادر ہوتا ہے ‘ اس میں بندوں کا کوئی اختیار نہیں ہے ‘ بندے بیج کو کاشت کریں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ فصل اگانا نہ چاہے تو کچھ نہیں اگتا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ ” زرعت “ ( میں نے اگایا ہے) اس کو یہ کہنا چاہیے : ” حرثت “ (میں نے کھیتی باڑی کی ہے) کیونکہ ” الزارع “ (اگانے والا) صرف اللہ تعالیٰ ہے ‘ حضرت ابوہریرہ نے کہا : کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ء انتم تزرعونہ ام نحن الذرعون۔ (الواقعہ : ٤٦) آیا تم اس کو ( حقیقت میں) اُگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔

ہر وہ شخص جو زمین میں تخم ریزی کرے ‘ اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ یہ آیت پڑھے : افرء یتم ما تحرثون۔ (الواقعہ : ٣٦) بھلا یہ بتاؤکہ تم جو کچھ (بظاہر) کاشت کرتے ہو۔

پھر یہ کہے کہ بلکہ اللہ ہی الزارع ہے اور وہی حقیقت میں اگانے والا ہے ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھ کر یہ دعا کرے : اے اللہ ! ہمیں اس کا شت کا ثمر عطا فرما اور اس کے ضرر کو ہم سے دور رکھ۔ (مسند البز اور : ٩٨٢١‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث ٣٢٧٥‘ حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ٧٦٢‘ سنن بیہقی ج ٦ ص ٨٣١‘ تاریخ بغداد ج ٣١ ص ٠٠١) اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٧١ ص ٧٩١‘ دارالفکر بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

اللہ تعالیٰ کے خاص افعال کو مخلوق کی طرف نسبت کرنے کا جواز

الواقعہ 64 سے واضح ہوگیا کہ الزارع ( اگانے والا) حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور الزرع (اگانا) اللہ تعالیٰ کا فعل ہے ‘ لیکن اس کے باوجود قرآن مجید میں مخلوق کو بھی زارع (اگانے والا) فرمایا گیا ہے :

کزرع اخرج شطہ فازرہ فاستغلظ فاستوی علی سو قہ یعجب الزراع۔ (الفتح : ٩٢) اس کھیتی کی مثل جس نے اپنی کونپل نکالی پھر اس کو مضبوط کیا تو وہ تناور پوداہو گیا ‘ پھر وہ اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوگیا اور اگانے والوں کو اچھا لگنے لگا۔

اللہ تعالیٰ حقیقت میں اگانے والا ہے اور اس کی دی ہوئی طاقت سے کسان مجازاََ اُگانے والے ہیں اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے حقیقی اور خاص افعال کی مخلوق کی طرف نسبت کرنا جائز ہے اور انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کو اسی اعتبار سے داتا مشکل کشا

کار ساز اور حاجت روا کہا جاتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ حقیقی دایا ‘ کارساز اور حاجت روا ہے اور انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت سے مشکل کشا اور حاجت روا ہیں ‘ جس طرح اللہ تعالیٰ حقیقی زارع ہے اور کسان اس کی دی ہوئی طاقت سے زرّاع ‘ زارعین اور اگانے والے ہیں ‘ لیکن وہابی فکر کے حاملین اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے اور جب مسلمان انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کو داتا اور حاجت روا کہتے ہیں تو ان پر جھٹ شرک کا فتویٰ لگا دیتے ہیں۔

سید مودودی کے نزدیک شرک کی تعریف

سید ابو الاعلیٰ مودودی متوفی ٩٩٣١ ھ ” فبای الای ربکما تکزبن۔ (الرحمن : ٠٣) کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

ہر شخص جو کسی نوعیت کا شرک کرتا ہے ‘ دراصل وہ اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت کی تکذیب کرتا ہے ‘ کسی کا یہ کہنا کہ فلاں حضرت نے میری بیماری دور کردی ‘ اصل میں یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ شافی نہیں ہے بلکہ وہ شخص شافی ہیں ‘ کسی کا یہ کہنا کہ فلاں بزرگ کی عنایت سے مجھے روزگار مل گیا ‘ حقیقت میں وہ کہتا ہے کہ رازق اللہ نہیں ہے بلکہ بزرگ رازق ہیں ‘ کسی کا یہ کہنا کہ فلاں آستانے سے میری مراد بر آئی ‘ گویا دراصل یہ کہنا ہے کہ دنیا میں حکم اللہ کا نہیں بلکہ اس آستانے کا چل رہا ہے ‘ غرض ہر مشرکانہ عقیدہ اور مشرکانہ قول آخری تجزیہ میں صفاتِ الہٰی کی تکذیب ہی پر منتہی ہوتا ہے ‘ شرک کے معنی ہی یہ ہیں کہ آدمی دوسروں کو سمیع وبصیر ‘ علم الغیب ‘ فاعل الغیب ‘ فاعل مختار ‘ قادرو متصرف اور الوہیت کے دوسرے اوصاف سے متصف قرار دے رہا ہے اور اس بات کا انکار کر رہا ہے کہ اکیلا اللہ ہی ان صفات کا مالک ہے۔ (تفہیم القرآن ج ٥ ص ٢٦٢‘ ادارہ ترجمان القرآن ‘ لاہور ‘ ٢٨٩١ ئ)

مخلوق کو سمیع وبصیر ‘ فاعل مختار اور قادر کہنے کا جواز اور ان کا شرک نہ ہونا

اس عبارت میں سید مودودی نے دوسروں کو سمیع وبصیر کی صفت سے متصف قرار دینے کو بھی شرک لکھا ہے ‘ جب کہ قرآن مجید میں ہے : انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج ق نبتلیہ فجعلنہ سمیعا بسیرا۔ (الدھر : ٢) بیشک ہم نے انسان کو مختلط نطفہ سے پیدا کیا ‘ ہم اس کو آزماتے ہیں ‘ پس ہم نے انسان کو سمیع بصیر بنادیا۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے شرک کی جو تعریف کی ہے اس کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ بھی شرک قرار پاتا ہے۔ ( العیاذ باللہ) نیز اس عبارت میں سید مودودی نے دوسروں کو فاعل مختار کی صفت سے متصف کرنے کو بھی شرک لکھا ہے ‘ حالانکہ اہل سنت کا عقیدہ ہے جہ بندے فعل مختار ہیں ‘ مجبور محض نہیں ہیں اور بندوں کو مجبور مانناجبریہ عقیدہ ہے اور یہ باطل عقیدہ ہے۔

علامہ سعد الدین مسعود تفتازانی متوفی ١٩٧ ھ لکھتے ہیں : وللعباد افعل اختیار یۃ یشابون بھا ان کا نت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کا نت معصیۃ لا کما زعمت الجبریۃ انہ لا فعل للعبد اصلاًََ ۔ (شرح عقہد نسفی ص ٤٦‘ مطبوعہ کراچی) اور بندوں کے اختیاری افعال ہوتے ہیں ‘ اگر وہ افعال اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوں تو ان کو ان افعال پر ثواب دیا جائے گا اور اگر وہ افعال معصیت ہوں تو ان پر سزا دی جائے گی اس کے برخلاف جبر یہ کا زعم ہے کہ بندوں کا بالکل فعل نہیں ہوتا۔

نیز اس عبارت میں سید مودودی نے بندوں کو قادر قرار دینے کو بھی شرک کہا ہے ‘ حالانکہ اگر بندے فعل کرنے یا نہ کرنے پر قادر نہ ہوں تو وہ جمادات کی طرح ہوں گے اور ان کو مکلف کرنا صحیح نہ ہوگا ‘ قرآن مجید میں ہے : لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا۔ (البقرہ : ٦٧٢) اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی وسعت کے مطابق مکلف فرماتا ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی طرف بھی قدرت کا اسناد فرمایا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : الا الذین تابوا من قبل ان تقدر واعلیھم ج۔ (المائدہ : ٤٣) ّ (آخرت میں ڈاکوؤں کو عذاب ہوگا) سوا ان کے جو تمہارے ان پر قادر ہونے سے پہلے تو نہ کرلیں۔

سید مودودی نے دوسروں کو قادر قرار دینے کو بھی شرک کہا ہے ‘ اس اعتبار سے ( معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ بھی مشرک قرار پاتا ہے۔

سید مودودی کی شرک کی تعریف سے معاذ اللہ ‘ اللہ تعالیٰ کا بھی مشرک ہونا

اس عبارت میں سید مودودی نے الوہیت کے دوسرے اوصاف سے متصف قرار دینے کو بھی شرک کہا ہے ‘ مزید یہ لکھا ہے کہ یہ اس بات کا انکار ہے کہ اکیلا اللہ ہی ان صفات کا مالک ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں الوہیت کی یہ صف مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ ولی اور نصیر (کار ساز اور مدد گار) ہے : وکفی باللہ ولیاق وکفی باللہ نصیرا۔ (النسائ : ٥٤) اور اللہ کا ولی (کار ساز) ہوناکافی ہے اور اللہ کا نصیر (مدد گار) ہونا کافی ہے۔

ولا یجدون لہم من دون اللہ ولیا ولانصیرا۔ (الاحزاب ؛ ٧١) اور وہ اپنے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی ولی ( کار ساز) پائیں گے اور نہ نصیر ( مددگار) ۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب بندوں کو بھی ولی اور نصیر کی صفت سے متصف فرمایا ہے : (١) الذین یقولون ربنا اخر جنا من ھذہ القریۃ الظالم اھلھا ج واجعل لنا من لدنک ولیا ج واجعل لنا من لدنک نصیر ا۔ (النساء : ٥٧) (مظلوم بنے دعا کرتے ہیں :) اے ہمارے رب ! ان ظالوں کی بستی سے ہمیں نجات عطا فرما اور ہمارے لیے اپنے پاس سے ولی ( کار ساز) بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے نصیر (مدد گار) بنادے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مظلوم بندوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ولی اور نصیر کے حصول کی دعا کریں اور اگر مخلوق کا اللہ تعالیٰ کی صفت سے موصوف ہونا اور ولی اور نصیر ہوناشرک ہو تو لازم آئے گا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ شرک کی ترغیب دے رہا ہے ( العیاذ باللہ) اور یہ بہ جائے خود شرک ہے۔

نیز حضرت زکریا اپنے لیے بیٹے کی دعا کرتے ہوئے ایسی صفت والے بیٹے کی دعا کرتے ہیں جو ولی (کارساز) ہو : (٢) فھب لی من لدنک ولیا۔ (مریم : ٥) پس تو مجھے اپنے پاس سے ولی ( کار ساز) عطا فرما۔

اے ہمارے نبی سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں : (٣) وقل رب اد خلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق واجعل لی من لدنک سلطنانصیرا۔ (بنی اسرائیل : ٠٨) اور آپ کہیے : اے میرے رب ! مجھے سچائی کی جگہ داخل فرما اور مجھے سچائی کی جگہ باہر لا اور میرے لیے اپنے پاس سے غالب نصیر ( مدد گار) بنا دے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے صفت نصیر کے حامل کے حصول کی دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور اگر اللہ کی صفت کو دوسرے کے لیے ماننا شرک ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو شرک کرنے کا حکم دے رہا ہے اور یہ بجائے خود شرک ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفت رؤف ورحیم ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : اناللہ بالناس لرء وف رحیم۔ (البقرہ : ٣٤١ )

بے شک اللہ لوگوں پر شفقت کرنے والا مہربان ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے اس صفت کے ساتھ ہمارے نبی سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی متصف فرمایا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : (٤) لقدجاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمومنین رءوف رحیم۔ ( التوبہ : ٨٢١) بیشک ضرور تمہارے پاس تم میں سے معظم رسول آگئے ‘ جن پر تمہاری مشقت کے کام گراں ہیں ‘ وہ تمہاری آسانی پر حریص ہیں اور مؤمنوں پر رؤف رحیم ( شفیق ‘ مہربان) ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ہمارے نبی سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی صفت رؤف رحیم کے ساتھ متصف کیا ہے اور الدھر : ٢ میں عام انسانوں کو اپنی صفت سمیع بصیر کے ساتھ متصف کیا ہے ‘ لہٰذا سید مودودی کی شرک کی تعریف کے مطابق اللہ تعالیٰ بھی مشرک قرار پایا۔ (نعوذ باللہ من ذالک)

اسی طرح متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت حلیم (بردبار) ذکر فرمائی ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : واللہ غفور حلیم۔

(البقرہ : ٥٢٢‘ المائدہ : ١٠١) اور اللہ بہت بخشنے والا حلیم (بردباد) ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی حلیم کی صفت کے ساتھ متصف کیا ‘ قرآن مجید میں ہے : (٥) ان ابر ھیم لا واہ حلیم۔ (التوبہ : ٤١١) بیشک ابراہیم ضرور بہت نرم دل ‘ حلیم ( بردباد) ہیں۔

اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو بھی حلیم کی صفت کے ساتھ متصف فرمایا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : (٦) فبشرنہ بغلم حلیم۔ (الصّٰفّٰت : ١٠١) سو ہم نے ابراہیم کو ایک حلیم (بردبار) لڑکے کی بشارت دی۔

اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کو اپنی صفت حلیم کے ساتھ متصف کیا ہے ‘ اس لیے سید مودودی کی شرک کی تعریف سے اللہ تعالیٰ بھی معاذ اللہ مشرک قرار پایا۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفت شکور (بہت قدردان) ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : واللہ شکور حلیم۔ (التغابن : ٧١) اور اللہ بہت قدردان ‘ حلیم ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھی شکور کی صفت کے ساتھ متصف فرمایا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : (٧) ذریۃ من حملنا مع نوح ط انہ کان عبدا شکورا۔ (بنی اسرائیل : ٣) اے ان لوگوں کی اولاد ! جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا ‘ بیشک نوح شکور بندے تھے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفت علیم ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : ان اللہ واسع علیم۔ (البقرہ : ٥١١) بیشک اللہ وسعت والا ‘ علیم ہے۔

اور قرآن مجید میں ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی اپنے آپ کو علیم کی صفت کے ساتھ متصف فرمایا ہے : (٨) قال اجعلنی علی خزائن الارض ج انی حفیظ علیم۔ (یوسف : ٥٥) یوسف نے (مصر کے بادشاہ سے) کہا : آپ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجئے (یعنی مجھے اس ملک کا وزیر خزانہ بنادیں) بیشک میں حفاظت کرنے والا ‘ علیم ہوں۔

اسی طرح متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت کریم بیان فرمائی ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : حضرت سلیمان نے کہا : فان ربی غنی کریم۔ (النمل : ٠٤) پس بیشک میرا رب غنی کریم ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کریم کی صفت کے ساتھ متصف فرمایا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : (٩) ولقد فتنا قبلہم قوم فرعون وجاء ھم رسول کریم۔ (الد خان : ٧١) اور بیشک ہم نے اس سے پہلے قوم فرعون کی آزمائش کی اور ان کے پاس رسول کریم آئے۔

اور اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو بھی کریم کی صفت کے ساتھ متصف فرمایا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : (٠١) انہ لقول رسول کریم۔ (التکویر : ٩١) بیشک یہ (قرآن) رسول کریم کا قول ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی صفت صادق ذکر فرمائی ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : وانا لصدقون۔ (الانعام : ٦٤١) اور بیشک ہم ضرور صادق ہیں۔

اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لیے بھی صفت صادق کا ذکر فرمایا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : (١١) واذکرفی الکتب اسمعیل انہ کان صادق الوعد وکان رسولا نبیا۔ (مریم : ٤٥) اور اس کتاب میں اسماعیل کا ذکر کیجئے بیشک وہ وعدہ کے سچے تھے اور رسول نبی تھے۔

ہم نے جو آیات ذکر کی ہیں ‘ ان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت ولی ‘ نصیر ‘ رؤف رحیم ‘ سمیع بصیر ‘ حلیم ‘ شکور ‘ علیم ‘ کریم اور صادق ذکر فرمائی ہے اور گیارہ آیتوں میں ان صفات کے ساتھ اپنے مقرب بندوں کو متصف کیا ہے اور سید مودودی کے ذکر کردہ قاعدہ کے اعتبار سے یہ شرک ہے تو گویا قرآن مجید کی گیارہ آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے شرک کا ارتکاب کیا ہے ‘ نعو ذباللہ منہ۔ سید مودودی کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے وہابی طریقہ سے مطلقاََ لکھا کہ اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا مخلوق کے لیے ثبوت شرک ہے ‘ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کسی صفت قدیمہ یا صفت مستقلّہ کا مخلوق کے لیے ثبوت شرک ہوتا ہے نہ کہ مطلقاََ کسی صفت کا ثبوت ‘ لیکن پھر مسلمانوں کے اس قول کو شرک کہنے کا جواز نہیں ہے کہ فلاں بزرگ نے میری بیماری دور کردی یا فلاں بزرگ کی عنایت سے مجھے روزگار مل گیا ‘ کیونکہ کسی مسلمان کے نزدیک کسی بزرگ کی کوئی صفت قدیمہ یا مستقلہ نہیں ہے۔

شرک کی صحیح تعریف

دراصل بنیادی غلطی یہ ہے کہ سید مودودی نے شرک کی خود ساختہ اور طبع زاد تعریف کی ہے اور متقدمین نے جو شرک کی تعریف کی ہے اس کو اختیار نہیں کیا ‘ علامہ سعدالدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ١٩٧ ھ شرک کی تعریف میں لکھتے ہیں : الاشراک ہو اثبات الشریک فی الالوھیۃ بمعنی وجوب الوجود کما للمجوس او بمعنی استحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الاصنام۔ (شرح عقائدنسفی ص ١٦‘ مطبوعہ کراچی) یعنی اللہ کے سوا کسی کو الوہیت میں شریک کو ثابت کیا جائے ‘ یعنی اللہ کے سوا کسی کو واجب الوجود مانا جائے جیسا کہ مجوسی دو واجب الوجود مانتے ہیں ( ایک یزدان اور ایک اہرمن) یا اللہ کے سوا کسی کو عبادت کا مستحق مانا جائے جیسا کہ بت پرست بتوں کو عبادت کا مستحق مانتے ہیں۔

امام ٖفخر الدین محمد عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

اما الاشراک فوضع المعبودیۃ فی غیر اللہ تعالیٰ ولا یجوز ان یکون غیرہ معبود ا اصلاََ ۔ رہا شرک کرنا تو وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے غیر میں معبودیت رکھی جائے اور اللہ تعالیٰ کے غیر کا معبود ہونا بالکل جائز نہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٠٢١‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

قرآن مجید میں ہے :

دلایشرک بعبادۃ ربہ احدا۔ (الکہف : ٠١١) اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔ اور مشرکین مکہ کا شرک یہی تھا کہ وہ اللہ کا تقرّب حاصل کرنے کے لیے بتوں کی عبادت کرتے تھے ‘ قرآن مجید میں ہے : مانعبد ھم الا لیقر بونا الی اللہ زلفی ط۔ (الزمر : ٣) ہم ان بتوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔

حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ کے مشرکین سے لے کر مشرکین مکہ تک تمام مشرکین کا شرک یہی تھا کہ وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے اور انبیاء (علیہم السلام) کے منع کرنے کے باوجود بتوں کی عبادت کو ترک نہیں کرتے تھے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ذات کو واجب الوجود یا قدیم مانا جائے یا اس کی کسی صفت کو قدیم مانا جائے یا اس کو عبادت کا مستحق مانا جائے تو یہ شرک ہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ کے مشرکین سے لے کر مشرکین مکہ تک تمام مشرکیں کا شرک یہی تھا کہ وہ غیر اللہ کی یا بتوں کی عبادت کرتے تھے اور جن چیزوں کو سید مودودی نے شرک لکھا ہے ان میں سے ایک چیز بھی شرک نہیں ہے ‘ جیسا کہ ہم قرآن مجید کی آیات کے حوالوں سے واضع کرچکے ہیں۔

شرک کرنے والوں کے مختلف گروہ

امام ٖفخر الدین محمد عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ مشرکیں کے فرقے بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

(١) بت پرست ‘ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بت عبودیت میں اللہ کے شریک ہیں ‘ لیکن وہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ بتوں کو تخلیق اور ایجاد پر کوئی قدرت نہیں ہے۔

(٢) مشرکیں یہ کہتے ہیں کہ اس جہاں کی تدبیر کرنے والے کواکب (ستارے) ہیں اور ان کے دو فریق ہیں : اوّل وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ کواکب واجب الوجود (قدیم) ہیں۔ ثانی وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ کواکب ممکن الوجود ہیں اور حادث ہیں اور ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس جہان کی تدبیر ان کے سپرد کردی ہے۔

(٣) بعض مشرکین یہ کہتے ہیں کہ آسمانوں اور زمینوں میں دو خدا ہیں : ایک فاعل خیر ہے اور دوسرا فاعل شر ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے ” وجعلو اللہ شرکاء الجن “ (الانعام : ٠٠١) کی تفسیر میں فرمایا : یہ آیت اس زندیقوں کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ جو کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اور ابلیس آپس میں بھائی ہیں ‘ پس اللہ تعالیٰ نے انسانوں ‘ جانوروں ‘ مویشوں اور اچھی چیزوں کو پیدا کیا ہے اور ابلیس نے درندوں ‘ سانپوں ‘ بچھوؤں اور بری چیزوں کو پیدا کیا ہے۔

(تفسیر کبیرج ٥ ص ٨٨‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

سید مودودی نے لکھا ہے کہ کسی کا یہ کہنا کہ فلاں حضرت نے میری بیماری دور کردی یا کسی کا یہ کہنا کہ فلاں حضرت کی عنایت سے مجھے روزگار مل گیا یا یہ کہنا کہ فلاں آستانے سے میری مراد برآئی ‘ یہ تمام باتیں شرک ہیں۔ (تفہیم القرآن ج ٥ ص ٢٦٢‘ ملخصاََ )

حقیقت میں بیماری دور کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے ‘ اور جب کوئی مسلمان کہتا ہے کہ فلاں بزرگ نے میری بیماری دور کردی تو اس بزرگ کی طرف اسناد مجازی کرتا ہے ‘ اس کو اسناد مجاز عقلی کہتے ہیں ‘ ہم نے اپنی پہلی تصنیف ” توضیح البیان “ میں اسناد مجاز عقلی پر گفتگو کی ہے ‘ پہلے ہم ” توضیح البیان “ کی پوری عبارت نقل کریں گے ‘ اس کے بعد زیادہ تفصیل سے اسناد مجاز عقلی پر از سر نو بحث کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق۔

اسناد مجازی

علماء دیوبند کو اس مقام پر یہ شبہ لاحق ہوتا ہے کہ جب دیتا حقیقت میں اللہ ہی ہے اور انبیاء و اولیاء کا کام دعا کرنا ہے اور وہ محض واسطہ ہوتے ہیں تو پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ غوث پاک نے بیٹا دیا اور حضرت علی مشکل کشا کیسے ہوگئے اور پھر حضور کو حاجت روایا مددگار کیوں کہا جاتا ہے ؟ ان تمام باتوں کا جواب انہیں بار ہا دیا جا چکا ہے کہ یہ سب اسناد مجازی کے قبیل سے ہیں۔ ” تلخیص المفتاح “ میں لکھا ہے : اسناد الی السبب اسناد مجازی کی ایک قسم ہے۔

علامہ تفتازانی فرماتے ہیں :

ــ” وبی الامیر مدینۃ فی السبب “ (مختصر معانی ص ٩٨) یعنی یہ کہا جاتا ہے کہ شہر امیر نے بنایا ‘ حالانکہ یہ کام تو امیر کے ملازم کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہی ہے کہ جو ن کہ امیر کے حکم سے شہر بنایا گیا ‘ پس وہ شہربنانے کا سبب ہے اور اس کی طرف اسناد کرکے مجازاََ کہا جاتا ہے کہ ” بنی الا میر المدینۃ “ امیر نے شہر بنایا۔ اسی طرح سے چونکہ انبیاء و اولیاء کی دعا سے اللہ تعالیٰ رزق یا اولاد عطا فرماتا ہے اور وہ اس عطا مے سبب قرار پاتے ہیں ‘ اس لیے کہا جاتا ہے انبیاء اولیاء نے رزق یا اولاد دی اور اسناد مجازی خود قرآن کریم سے ثابت ہے ‘ سورة توبہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ومانقموا الا ان اغنھم اللہ ورسولہ من فضلہ ج۔ (التوبہ : ٤٧) اور ان منافقین کو صرف یہ برا لگا کہ مؤمنین کو اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے غنی کردیا۔

اس آیت کریمہ میں غنی کرنے کا اسناد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کیا گیا ہے ‘ حالانکہ اغناء اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ‘ پس ثابت ہوا کہ یہ اسناد مجازی ہے۔

حدیث شریف میں ہے : ماینقم ابن جمیل الا انہ کان فقیرا فاغناہ اللہ تعالیٰ ور سولہ۔ (مشکوٰہ ص ٦٥١) ابن جمیل کو صرف یہ برا لگا کہ وہ فقیر تھا ‘ پس اللہ اور اس کے رسول نے غنی کردیا۔

اس کی شرح میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ٢٥٠١ ھ فرماتے ہیں : وغنا بحقیقت از خدا است وذکرر سول بجہت آنست کہ وے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واسطہ است در افاضت خیرات و وصول نعمات از جناب حق۔ (اشعۃ اللمعات ج ٢ ص ٨) غناء حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر اس وجہ سے ہے کہ آپ اللہ کی طرف سے تمام نعمتوں اور خیرات کے پہنچنے میں واسطہ ہیں۔

اسی طرح سورت مریم میں ہے :” لاھب لک غلما زکیا “۔ (مریم : ٩١) فرشتہ نے حضرت مریم سے کہا : تاکہ میں تم کو ایک پاکیزہ لڑکا دوں ‘ اور لڑکا دینا اللہ تعالیٰ کی صفت اور خاصہ ہے ‘ مگر اس آیت کریمہ میں اس کا اسناد فرشتہ کی طرف کیا گیا ہے۔ پس اسناد مجازی پر یہ قرآن کریم کی دوسری شہادت ہے۔ مزید تفصیل اور توضیح کے لیے ” مختصر معانی ‘ مطول “ اور دیگر کتب بلاغت کی طرف رجوع فرمائیں۔

علماء دیوبند کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اسناد مجازی ایک علمی اصطلاح ہے ‘ عوام اس پر مطلع نہیں ہیں ‘ اس لیے عوام کا یہ کہنا کہ غوث پاک نے بیٹا دیا ‘ بہر صورت شرک ہے ‘ یہ ایک پرفریب مغالطہ ہے۔ عوام اسناد مجازی کے مفہوم سے واقف ہیں۔ اگرچہ اس کی تعبیر اور اصطلاح پر مطلع نہیں ہیں۔ مثلاََ سب جانتے ہیں کہ عوام اپنے عرف میں کہتے ہیں تاج محل شاہجہاں نے بنایا ہے ‘ حا لان کہ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ شاہجہاں تو اس کے بنانے کا سبب تھا ‘ حقیقت میں تاج محل مزدوروں نے بنایا تھا۔ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ حضرت غوث پاک نے بیٹا دیا ‘ حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اولاد غوث پاک کی دعا سے یا ان کے توسّل سے ملی اور دینے والا حقیقت میں اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ پس اس مفہوم کو وہ اسناد مجازی کی اصطلاح سے تعبیر کرنے پر اگر قادر نہیں ہیں ‘ مگر اس حقیقت سے وہ واقف ہیں۔

بحمداللہ ! ہم نے قرآن و حدیث ‘ شہادتِ سلف اور عوام کے عرف سے ثابت کردیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعاؤں سے سب کچھ مل سکتا ہے اور مجازاََ یہ کہنا صحیح ہے کہ حضور نواز تے ہیں ‘ عطاء فرماتے ہیں۔ (توضیح البیان ص ٥٦٤۔ ٣٦٤‘ فرید بک سٹال ‘ طبع ثانی ‘ ٢٢٤١ ھ)

اور اب ہم از سر نو اسناد مجاز عقلی کی بحث شروع کرتے ہیں۔

اسناد مجاز عقلی کی تعریف اور اس کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیات اور اس بناء پر سید مودودی او ان کے ہم مشربوں کا ردّ

اگر فعل کی نسبت ظاہر میں اس کے حقیقی فعل کی طرف کی جائے تو اس کی اسناد حقیقت عقلی کہتے ہیں اور اگر فعل کی نسبت ظاہر میں اس کے حقیقی فاعل کے غیر کی طرف کسی تاویل یا قرینہ سے کی جائے تو اس کی اسناد مجاز عقلی کہتے ہیں ‘ مثلاََ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حقیقی شفاء دینے والا اللہ تعالیٰ ہے ‘ اس لیے جب مسلمان یہ کہے گا کہ مجھے ڈاکٹر نے شفاء دی تو یہ اسناد مجاز عقلی ہوگا اور اس کا مسلمان ہونا اس پر قرینہ ہے کہ وہ تاویل سے غیر فاعل کی طرف اسناد کر رہا ہے ‘ اسی طرح جب مسلمان کہے گا کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شافی ہونے کا انکار نہیں کر رہا بلکہ تاویل سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف شفاء کی نسبت کر رہا ہے اور اس کی قرآن کریم ‘ احادیث صحیحہ اور عبارات علماء میں بہت مثالیں ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : (١) اذھبوا بقمیصی ھذا فالقوہ علی وجہ ابی بات بصیر ج۔ (یوسف : ٣٩) میری اس قمیض کو لے جاؤ اور اس کو میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو وہ بینا ہوجائیں گے۔

اس آیت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی قمیض کی طرف بینائی عطا کرنے کی نسبت کی ہے اور یہ اسناد مجاز عقلی ہے۔

حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسماء نے کہا : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جبہ ہے ‘ انہوں نے ایک طیالسی کر سروانی جبہ نکالاکک ‘ جس کی آستینوں اور گریبان پر ریشم کے نقش و نگار بے ہوئے تھے ‘ حضرت اسماء نے کہا : یہ جبہ حضرت عائشہ کی وفات تک ان کے پاس تھا اوعر جب ان کی وفات ہوئی تو پھر میں نے اس پر قبضہ کرلیا ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جبہ کو پہنتے تھے ‘ ہم اس جبہ کو دھوکر اس کا پانی (دھو ون) بیماروں کو پلاتے ہیں اور اس جبہ سے ان بیماروں کے لیے شفاء طلب کرتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٥٠٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٦٠٢‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٧١٨٢‘ سنن کبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٨٨٥٩ )

اس حدیث میں حضرت اسماء نے شفاء دینے کی نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جبہ کی طرف کی ہے اور یہ بھی اسناد مجاز عقلی ہے۔

شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ٤٦٣١ ھ لکھتے ہیں :

حضرت سری سے ایک بزرگ کے قصہ میں روایت ہے ‘ جو ان سے ایک پہاڑ پر ملے تھے کہ وہ اپاہج اور اندھوں اور دوسرے بیماروں کو تندرست کردیا کرتے تھے اور جیسے کہ شخص عبدالقادر سے روایت ہے کہ ایک مجبور محض فالج زدہ اندھے کو ڑھی بچے کو فرمایا تھا کہ خدا تعالیٰ کی اجازت سے کھڑا ہوجا ‘ وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور اس کا کوئی مرض باقی نہ رہا۔ (جمال الاولیاء ص ٤٢۔ ٣٢‘ کتبہ اسلامیہ ‘ لاہور)

شیخ تھانوی نے بزرگوں کے طرف جو شفاء دینے کی نسبت کی ہے وہ بھی اسناد مجاز عقلی ہے اور اسی کو سید مودودی نے شرک کہا ہے۔ (تفہیم القرآن ج ٥ ص ٢٦٢) نیز سید مودودی نے لکھا ہے :

کسی کا یہ کہنا کہ فلاں بزرگ کی عنایت سے مجھے روز گار مل گیا ‘ حقیقت میں یہ کہنا ہے کہ رازق اللہ نہیں ہے بلکہ وہ بزرگ رازق ہیں (تفہیم القرآن ج ٥ ص ٢٦٢) اور قرآن مجید میں ہے۔

(٢) وما نقموا الا ان اغنھم اللہ ورسولہ من فضلہ ج۔ (البوبہ : ٤٧) اور ان منافقین کو صرف یہ ناگوار ہوا کہ ان کو اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے غنی کردیا۔

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف عنی کرنے کا جو اسناد کیا ہے وہ اسناد مجاز عقلی ہے۔

(٣) ولو انھم رضواما اتھم اللہ ورسولہ لا وقالوا حسبنا اللہ سیوتینا اللہ من فضلہ ورسولہ لا انا الی اللہ رغبون۔ (التوبہ : ٩٥) اور اگر یہ لوگ اس پر راضی ہوجاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول نے عطا فرمایا ہے اور کہتے : ہمیں اللہ کا فی ہے اور عنقریب ہمیں اللہ اپنے فضل سے عطا فرمائے گا اور اس کا رسول عطا فرمائے گا ‘ بیشک ہم اللہ کی طرف رغبت کرنے والے ہیں۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف عطا فرمانے کی نسبت کی ہے اور یہ اسناد مجاز عقلی ہے۔

(٤) انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ۔ (الاضزاب : ٧٣) اللہ نے (حضرت) زید پر انعام فرماے اور آپ نے انعام فرمایا۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف انعام فرمانے کی نسبت کی ہے اور یہ اسناد مجاز عقلی ہے۔

(٥) قال انماانا رسول ربک ق لاھب لک غلما زکیا۔ (مریم : ٩١) (حضرت جبریل نے حضرت مریم سے) کہا : میں صرف آپ کے رب کا فرستادہ ہوں تاکہ آپ کو پاکیزہ بیٹا دوں۔

حضرت جبریل نے اپنی طرف بیٹا دینے کی نسبت کی ہے اور یہ اسناد مجاز عقلی ہے۔

جب حضرت ابراہیم حضرت ھاجرہ کو چھوڑ کر چلے گئے اور انہوں نے حضرت جبریل کے آنے کی آہٹ سنی تو کہا : اغث ان کان عندک خیر۔ اگر تمہارے پاس کوئی خبر ہے تو میری مدد کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٦٣٣‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٧٠١٩‘ طبع قدیم)

حضرت ھاجرہ نے حضرت جبریل کی طرف مدد طلب کرنے کی جو نسبت کی ہے ‘ یہ بھی اسناد مجاز عقلی ہے۔

(٦) قل بتو فکم ملک الموت۔ (السجدۃ : ١١) آپ کہیے : ملک الموت تمہاری روح قبض کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کی طرف روح قبض کرنے کو جو نسبت کی ہے ‘ وہ بھی اسناد مجاز عقلی ہے۔

محترمہ ام السحر شمیم اختر ‘ جامعہ اسلامیہ ‘ شی فلیڈ ‘ برطانیہ نے مجھے اسناد مجاز عقلی کے ثبوت میں حسب ذیل آیات لکھ کر ارسال کی ہیں :

(١) توتی اکلھا کل حین باذن ربھا ط (ابرہیم : ٥٢) شجرہ طیبہ ہر وقت اپنے رب کے اذن سے پھل لاتا ہے

(٢) واذا تلیت علیھم ایتہ زادتھم ایمانا۔ (الانفال : ٢) جب ان پر اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ ان کے ایمان کو زیادہ کرتی ہیں۔

(٣) یوما یجعل الولد ان شیبا۔ (المزمل : ٧١) وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔

(٤) وقالو الاتذرن الھتکم ولاتذرن ودا ولاسواعا لا ولایغوث ویعوق و نسرا۔ وقداضلوا کثیرا ج۔ (نوح : ٤٢۔ ٣٢) اور کافروں نے کہا : تم اپنے خداؤں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ بیشک انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان بتوں کی طرف گمراہ کرنے کی نسبت کی ہے اور یہ اسناد مجاز عقلی ہے ‘ حیرت ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بتوں کی طرف گمراہ کرنے کا اسناد مجاز عقلی فرما رہا ہے اور سید مودودی اور دیگر وہابی علماء انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کی طرف فعل کے اسناد مجاز عقلی کو شرک قرار دیتے ہیں۔ یاللعجب !

(٥) رب انھن اضللن کثیرا من الناس ج۔ (ابرہیم : ٦٣) اے میرے رب ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔

(٦) اوما ملکت ایما نھم۔ (المؤمنون : ٦) یا جن کے تمہارے سیدھے ہاتھ مالک ہیں۔

مخلوق کو مالک فرمانا بھی اسناد مجاز عقلی ہے۔

(٧) فاذاقرانہ فاتبع قرانہ۔ (القیامۃ : ٨١) جب ہم اس کو پڑھ لیں تو آپ اس پڑھنے کی پیروی کریں۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل کے پڑھنے کو اپنا پڑھنا فرمایا ہے اور یہ بھی اسناد مجاز عقلی ہے۔

(٨) وعلی المولودلہ رزقھن۔ (البقرہ : ٣٣٢) اور جن کے بچے ہیں ان کے ذمہ ان کی ماؤں کا رزق ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بچوں کے باپ کی طرف رزق دینے کی نسبت فرمائی ہے اور یہ مجاز عقلی ہے۔

(٩) یھامن ابن لی صرحا۔ (المؤمن : ٦٣) (فرعون نے کہا :) اے ھامان ! میرے لیے ایک بلند عمارت بنادو۔

عمارت تو مزدور بناتے ہیں ‘ ھامان کو جو حکم دیا ہے ‘ یہ مجاز عقلی ہے۔

ومارمیت اذرمیت۔ (الانفال : ٧١) اور آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی جب آپ نے خاک کی مٹھی پھینکی تھی۔

آپ کی طرف خاک کی مٹھی پھینکنے کا اسناد مجاز عقلی ہے۔

(٠١) فنفخنا فیھا من روحنا۔ (الانبیائ : ١٩) پس ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔

یہ پھونک حضرت جبریل نے دی تھی ‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم نے پھونک دی ‘ سو یہ اسناد مجاز عقلی ہے۔

(١١) فسخرنا لہ الریح تجری با مرہ۔ (ص ٓ٦٣) پس ہم نے ہوا کو سلیمان کے تابع کردیا وہ ان کے حکم سے چلتی تھی۔

(٢١) ھذا عطا ونافامنن اوامسک بغیر حساب۔ (صٓ: ٩٣) یہ ہماری عطاء ہے ‘ اب آپ کسی پر احسان کرکے ( اس میں سے) دیں یا اپنے پاس رکھیں ‘ آپ سے محاسبہ نہیں ہوگا۔

اسناد مجاز عقلی کے ثبوت میں چھ آیات ہم نے پیش کی ہیں اور بارہ آیات محترمہ ام السحر نے لکھی ہیں ‘ اس طرح مجاز عقلی کے ثبوت میں یہ اٹھارہ آیات ہیں ‘ ان کے علاوہ قرآن مجید ‘ احادیث اور عباربِ علماء میں اور بہت تصریحت ہیں ‘ ہمارا مقصد ان سب کا استیعا اور احصاء کرنا نہیں ہے ‘ صرف یہ بتانا ہے کہ اسناد مجاز عقلی پر بہت بڑی دلائل ہیں ‘ پس جب مسلمان کسی کام کا اسندا انبیاء (علیہم السلام) یا اولیاء کرام کی طرف کریں تو سید مودودی یا دیگر دیوبندی اور وہابی علماء کی طرح اس پر شرک کا حکم نہیں لگانا چاہیے بلکہ اس کو اسناد مجاز عقلی پر محمول کرنا چاہیے۔

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 64

Exit mobile version