اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا تَحۡرُثُوۡنَؕ- سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 63
sulemansubhani
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا تَحۡرُثُوۡنَؕ ۞
ترجمہ:
بھلا یہ بتاؤکہ تم جو کچھ (بظاہر) کاشت کرتے ہو
الواقعہ 64۔ 63 میں فرمایا : بھلا یہ بتاؤکہ تم جو کچھ (بظاہر) کاشت کرتے ہو۔ اس کو (حقیقت میں) تم اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔
حیات بعد الموت پر ایک اور دلیل
اس آیت میں حشرونشر پر اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک اور دلیل ہے ‘ یعنی یہ بتاؤ کہ تم جو زمین میں کاشت کرتے ہو اور بیج بو کر آجاتے ہو ‘ پھر اس بیج سے غلہ تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں ‘ تم نے تو زمین میں ہل چلا کر صرف بیج ڈالا ہے ‘ پھر اس بیج کو پھاڑ کر سبز کو نپل کس نے نکالی ؟ پھر اس نرم و نازک کونپل میں یہ توانائی کس نے رکھی کہ وہ میں کے سینے کو شق کرکے اس سے باہر نکل آئی ؟ پھر اس کو نپل کو تناور پودے کا روپ کس نے دیا ؟ اس کو نشو و نما کے لیے سورج کی شعائیں ‘ چاند کی رو پہلی کرنیں کس نے مہیا کیں ؟ اس کو سینچنے کے لیے آسمان سے پانی کس نے نازل کیا ؟ اس کی بالیدگی کے لیے ہواؤں کو کس نے رواں دواں رکھا ؟ پھر بتاؤ کہ کھتیوں سے گلہ اور باغوں سے پھل پیدا کرنے والا کون ہے ؟ ہم ہیں یا تم ہو !
اس آیت سے دوہ باتیں معلوم ہوئیں ‘ ایک یہ کہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے سبزہ زاروں اور مرغز اروں کو پیدا کیا ‘ پھولوں کو کھلایا ‘ پھلوں میں رنگ و روپ اور ذائقہ پیدا کیا ‘ درختوں کو کھڑا کیا ‘ فصلوں میں غلہ مہیا کیا تاکہ لوگ غذا اور خورک حاصل کرسکیں اور ان نعمتوں پر اللہ عزوجل کا شکر اد کریں ‘ دوسری بات یہ ہے کہ جو اس پر قادر ہے کہ ایک بیج سے درخت پیدا کرتا ہے ‘ پھر اسی درخت سے ایسا غلہ اور اناج اور پھل اور پھول پیدا کرتا ہے ‘ جن میں ایسے ہزاروں بیج ہوتے ہیں اور ان بیجوں سے پھر کھڑی فصل پیدا کردیتا ہے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے ‘ وہ اس پر کیوں قادر نہیں ہے کہ تمہارے مرنے کے بعد پھر تم کو دوبارہ پیدا کردے ؟
اس آیت سے ایک اور بات یہ معلوم ہوئی کہ ” افرء یتم ماتحرثون “ میں بندوں کے فعل کا ذکر ہے ‘ کیونکہ ” تحرثون “ کے معنی ہیں : زمین میں بیج ڈالنا ‘ ہل چلانا اور کھیتی باڑی کرنا اور یہ اللہ تعالیٰ کا فعل نہیں ہے بلکہ بندوں کا فعل ہے ‘ جب کہ ” الزرع “ یعنی بیج سے غلہ یا پھل اگانا یہ اللہ کا فعل ہے ‘ بندوں کا فعل نہیں ہے اور ” تحرثون “ میں اسناد مجاز عقلی نہیں ہے ‘ البتہ سورة الفتح میں جو ” الزرّاع “ فرمایا ہے اور بندوں کی طرف ” زرع “ کی نسبت کی ہے یہ اسناد مجازِ عقلی ہے۔
حرث (کھیتی باڑی کرنا) مخلوق کی صفت ہے اور زرع ( اگانا) اللہ تعالیٰ کی صفت اور اس کا خاصہ ہے۔
علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں :
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حرث (کھیتی باڑی کرنے اور کاشت کرنے) کی نسبت بندوں کی طرف کی ہے اور زرع (اگانے) کی نسبت اپنی طرف کی ہے ‘ کیونکہ کاشت کرنا بندوں کا فعل ہے اور ان کے اختیار سے صادر ہوتا ہے اور زرع (اگانا) اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور اس کے اختیار سے صادر ہوتا ہے ‘ اس میں بندوں کا کوئی اختیار نہیں ہے ‘ بندے بیج کو کاشت کریں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ فصل اگانا نہ چاہے تو کچھ نہیں اگتا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ ” زرعت “ ( میں نے اگایا ہے) اس کو یہ کہنا چاہیے : ” حرثت “ (میں نے کھیتی باڑی کی ہے) کیونکہ ” الزارع “ (اگانے والا) صرف اللہ تعالیٰ ہے ‘ حضرت ابوہریرہ نے کہا : کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ء انتم تزرعونہ ام نحن الذرعون۔ (الواقعہ : ٤٦) آیا تم اس کو ( حقیقت میں) اُگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔
ہر وہ شخص جو زمین میں تخم ریزی کرے ‘ اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ یہ آیت پڑھے : افرء یتم ما تحرثون۔ (الواقعہ : ٣٦) بھلا یہ بتاؤکہ تم جو کچھ (بظاہر) کاشت کرتے ہو۔
پھر یہ کہے کہ بلکہ اللہ ہی الزارع ہے اور وہی حقیقت میں اگانے والا ہے ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھ کر یہ دعا کرے : اے اللہ ! ہمیں اس کا شت کا ثمر عطا فرما اور اس کے ضرر کو ہم سے دور رکھ۔ (مسند البز اور : ٩٨٢١‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث ٣٢٧٥‘ حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ٧٦٢‘ سنن بیہقی ج ٦ ص ٨٣١‘ تاریخ بغداد ج ٣١ ص ٠٠١) اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٧١ ص ٧٩١‘ دارالفکر بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)