*روحانی تجربہ اور ايک علمی حقيقت۔*
۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : ابو البرکات مفتی حق النبی سکندری الازہری زیدہ شرفہ
۔۔۔۔۔۔۔
*اہلسنت وجماعت کے متفقہ عقائد میں دو ضروری باتیں ہیں :
*ایک۔ حضرت سيدنا أبوبكر صديق رضي الله تعالي عنه،تمام صحابہ کرام میں سے افضل ہیں، اس پر قطع نظر ادلہ کے (جو کہ سینکڑوں ہیں) یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ عقیدہ لاکھوں فقہاء مجتہدین محدثين صوفياء و اولياء كا ہے۔*
جب کوئی شخص اسكی مخالفت كرتا ہے تو وہ عقلی و نقلی ادلہ کی مخالفت تو كرتا ہی ہے پر اسکے ساتھ وہ روحانی طور ان لاکھوں نفوس قدسيہ کے طريق كو چھوڑ کر جماعت کے طريقے کی مخالفت كا مرتكب ہوتا ہے،جو کہ ایک نہایت مہلک امر ہے۔
*دو۔صحابہ کرام کے آپس کے بعض ظاہری ناخشگوار معاملات میں اہلسنت کا موقف نہایت ہی محتاط، معتدل اور ادب پر قائم ہے وہ یہ ہیکہ کسی بھی صحابی کے متعلق زبان درازی،بدنيتی آپکے ایمان کے ضياع كا سبب بن سكتی ہے لہذا اسمیں ادب پاس خاطر رہے اور احترام صحابيت کے طريق كو نہ چھوڑنا چاہئے۔*
اب آئیے اس تجربے کی طرف جو سمجهانا ضروری ہے وہ یہ کہ ہر وہ عالم يا شخص جس نے اہلسنت کے اس راستے کو چھوڑا اسمیں فقير نے ذاتی طور یہ باتیں دیکھیں:
*آخر كار وه شخص اہلسنت سے نکل کر رفض كا مذہب اختيار كرليتا ہے۔*
اسکے اعمال وعقائد حتی کہ طبيعت ميں بھی ایک عجیب تشنج (بےقراری،سختی،بےچینی) دیکھا گیا ہے۔
تاريخ ميں ایسے لائق علماء بھی گذرے ہیں جنکی صلاحيت علم فہم کے سب معترف تھے مگر صحابہ کے حق میں بے احتياطی کی وجہ سے انکی سب محنت رائیگاں گئی اور تاريخ كا گم گشتہ باب بن گئے،انکا علم اور انکی زندگی سے برکت ختم ہوگئی۔
*ماضي قريب كی فقط ايک مثال اور عصر حاضر سے آنکھوں دیکھي عبرت پیش کرکے بات ختم كرتا ہوں۔*
ماضي قريب ميں *علامہ زاہد الکوثري* جيسا محقق حنفي عالم تركي اور عرب ممالك ميں نہیں دیکھا گیا انکی خدمت میں جو شخص سب سے زیادہ رہا وہ انکا شاگرد *احمد خيري مصري* عالم تها،ایک ذہین محنتی عالم دین *احمد خيري مصري* اپنی اس صلاحيت اور شاندار كتب خانے کے باوجود ايک عيب ميں مبتلا تھا کہ وہ صحابي جليل. حضرت سيدنا امير معاوية كے متعلق اچھے خيالات نہ رکھتا تھا، افضليت صديق اکبر كا بھی قائل نہ تھا .
وہ *احمد خيري* جسکا مستقبل ایک محقق حنفي عالم کا مستقبل تھا،وہ گمنامی میں چلا گیا ،حتي كہ اسکی وفات كا بھی اکثر لوگوں کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ زندہ بھی ہے یا مرگیا۔
انکا مایہ ناز کتب خانہ کوڑیوں کے عيوض مصر، سعودي اور تركي ميں بکا۔
انكا مستقبل تو روشن نہ ہوسکا پر انکا نام تک کسی کو یاد نہیں۔
دوسری مثال: عصر حاضر میں افضليت كے موضوع پر بھبکیاں مارنے والے ہندوستانی وپاکستانی منتسبین علم کے روح رواں جنہوں نے کچھ لوگوں کو افضليت اور صحابہ پر جری کیا،بولنے لکھنے کے قابل بنایا وہ مصري عالم دين محدث *محمود سعيد ممدوح* ہیں۔
پہلے انکے علم و فہم کا کچھ سنئے،عرب ممالک میں شیخ البانی ۔جو وہابی فكر کے حامل تھے۔ نے علم حديث میں اپنی انوکھی کھچڑی نما تحقيق سے دھوم مچائی،حديث كے فن پر ایک نئے باب کو کھولا، *لوگوں کو امام بخاري سے لیکر ابن حجر عسقلاني جيسے اکابر کی تحقيقات پر انگلیاں اٹھانا سکھایا۔*
ساری عرب دنیا مین اکثريت انکے اس علمي منہج وطريق كی مخالفت میں کھڑی ہوئی،شورمچا،مگر اس عالم کے رد میں کوئی محققانہ رد نہ لکھا جاسکا،جو کچھ لکھا گیا وہ اس درجے کا نہ تھا جس سے شیخ البانی کا سحر ٹوٹتا یا جسے ایک تفصيلی رد کہا جاسکتا،جو کچھ لکھا گیا تھا وہ محدود تھا،یا قابل اعتناء نہ تھا۔
شيخ الباني كا خالص علمي رد جس نے کیا وہ مصري عالم *محمود سعيد ممدوح* ہی تھے، جنہوں نے *”التعريف في اوہام من قسم السنن الی الصحيح والضعيف”* لکھ کر اسكا قرض بھی اتارا اور شيخ الباني كی حديث دانی کا پول بھی کھول کر رکھ دیا۔اس کتاب اور اسکے مصنف كو شہرت کی بلندیاں نصيب ہوئیں۔
علم حديث پر اتنی مہارت، ذہن ثاقب رکھنے کے باوجود شيخ *محمود سعيد ممدوح* تفضيلي نکلے، سیدنا امیر معاویہ پر وہ گستاخانہ گفتگو کرتے ہیں، جسکا شاہد خود يہ فقير ہے۔
انہوں نے پہلے تو تفضيل پر کتاب لکھی پھر ترقی کرتے گئے اور اب وہ زیدی مذہب پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
*امام مالک ،امام ابو حنيفہ کے متعلق انتہائی برے خيالات محض اسلئے رکھتے ہیں کہ وہ تمام صحابہ کے ادب کا حكم ديتے ہیں،* سني علماء سے ملتے ہوئے انہیں کوفت ہوتی ہے پر شیعہ علماء سے انہیں خاص انس ہے۔
انکے علم فضل کا چرچہ مانند پڑچکا ہے،صلاحيت کے باوجود اپنے گھر تک محدودہیں،نہ تو علم پھیلا سکے نہ ہی کسی کو بافيض بناسكے۔
*یہ سب کیوں ہوا ؟*
کیونکہ وہ صحابہ کرام کے حق میں اہلسنت وجماعت کے نہایت ہی محتاط مذہب سے الگ ہوئے،انہیں اس بات نے دھوکے میں ڈال دیا کہ میرا موقف بھی تو اسلامی تاريخ كے چند علماء کے موافق ہے! حالانکہ انکو یہ دیکھنا تھا کہ
چند کی موافقت تو ہے پر دوسری جانب لاکھوں محققين،علماء و اولياء ہیں،غلطي كا امكان ان چند لوگوں میں زیادہ ہے لیکن لاکھون علماء و اولیاء غلطی پر متفق نہیں ہوسکتے۔
الله تعالى ہم سبھی کو صحابه اور اہلبیت کا سچا ادب نصيب كرے اور اہلسنت وجماعت کے طريقے پر ثابت قدم رکھے۔
