Site icon اردو محفل

اَفَبِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَۙ سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 81

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَبِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

کیا تمام اس قرآن کو معمولی سمجھ رہے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا تمام اس قرآن کو معمولی سمجھ رہے ہو !۔ اور تم نے تکذیب کو اپنا رزق بنا لیا ہے۔ پس جب روح نرخرے تک پہنچ جائے۔ اور تم اس وقت (روح کو نکلتا ہوا) دیکھ رہے ہو۔ اور ہم ان ( مرنے والے) کی یہ نسبت تم سے بہت قریب ہوتے ہیں لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔ پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں ہو۔ تو تم اس روح کو لوٹاتے کیوں نہیں ‘ اگر تم سچے ہو۔ (الواقعہ : ٨٧۔ 81)

مداھنت کا معنی

الواقعہ : 81 میں ” مدھنون “ کا لفظ ہے ‘ ” دھن “ کا اصل معنی تیل ہے اور اس سے مراد ہے : نرمی ‘ یعنی انسان کے باطن میں سختی ہو اور وہ نرمی اور لچک کا اظہار کرے اور ” مدھن “ سے مراد کافر یا منافق ہے ‘ جو اپنے کفر کو چھپانے کے لیے نرمی کا اظہار کرے اور ” مداھنت “ تکذیب ‘ کفر اور نفاق کو کہتے ہیں ‘ جو مسلمان ذاتی مفاد کے لیے احکام شرعیہ کو چھپائے اور فساق فجار کے سامنے نرم روّیہ کا اظہار کرے اس کو بھی ” مداھنت “ کہتے ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے :

” ودوالوتدھن فیدھنون۔ “ (القلم : ٩) کفار یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ ان کے معاملہ میں نرمی کریں تو وہ بھی نرم ہوجائیں۔

یعنی آپ ان کے معبودوں کے متعلق نرمی کریں تو وہ بھی آپ کے خلاف سختی اور دشمنی نہ کریں۔

اور یہاں اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کیا تم اس قرآن سے اعراض کر رہے ہو اور اس کے کفر کرنے کو سرسری اور معمولی سمجھ رہے ہو۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 81

Exit mobile version