الواقعہ : 80 میں فرمایا : یہ رب العلمین کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے۔
یہ قرآن مجید کی ایک اور صفت ہے ‘ اس آیت میں ” تنزیل “ کا لفظ ہے ‘ ” تنزیل “ کا معنی ہے : کسی چیز کو تدریجاََ نازل کرنا ‘ اصل میں قرآن مجید کی صفت منزل ہے ‘ لیکن اس کو مبالغۃ تنزیل فرمایا ‘ گویا کہ یہ نفس تنزیل ہے ‘ باقی آسمانی کتابیں یکبارگی نازل کی گئی ہیں اور قرآن مجید کو تھوڑا تھوڑا کرکے تئیس سال میں نازل کیا گیا ہے۔ اس کو تھوڑا تھوڑا نازل کرنے کی حکمتیں ہم نے الفرقان : ٢٣ اور بنو اسرائیل : ٦٠١ میں بیان کیں ہیں ‘ ازاں جملہ یہ ہیں : قرآن مجید کو نازل کرنے لے لیے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس بار بار آتے رہے ‘ وحی کا رابطہ آپ سے بار بار ہوتا رہے ‘ مشرکین اور یہود و نصاریٰ آپ سے سوالات کرتے رہتے تھے اور ان کے جوابات میں آیات نازل ہوتی رہتی تھیں ‘ صحابہ کرام بعض احکام کی وضاحت کے لیے سوال کرتے تھے ‘ ان کے جواب میں آیت نازل ہوتی تھیں ‘ ابتداء میں تمام احکام نازل نہیں کیے گئے تاکہ مسلمانوں کے لیے ان پر عمل کرنا دشوار نہ ہو ‘ شراب اور جوئے کو بہ تدریج حرام کیا گیا ‘ پہلے صرف رات کی ایک نماز فرض تھی ‘ پھر فجر کی نماز بھی فرض کی گئی اور معراج کے موقع پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں ‘ پہلے مشرکین کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم تھا ‘ پھر ہجرت کے بعد جہاد فرض کیا گیا۔ اسی طرح اور بہت حکمتیں ہیں جن کو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔