اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس مجھے ستاروں کے وقوع کی جگہوں کی قسم !۔ اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت عظیم قسم ہے۔ بیشک یہ بہت عزت والا قرآن ہے۔ جو کتاب (لوح) محفوظ میں ہے۔ اس کتاب کو صرف پاک لوگ ہی چھوسکتے ہیں۔ یہ رب العلمین کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے۔ (الواقعہ : 80۔ 75)
” مواقع النجوم “ کی قسم کی توجیہ
اللہ تعالیٰ نے سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کاملہ اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف عموماََ اور اہل مکہ کی طرف خصوصاََ رسول بنا کر بھیجا ‘ آپ اہل مکہ کے سامنے اپنی نبوت اور رسالت پر معجزات پیش کیے اور سب سے بڑا معجزہ اور سب سے قوی دلیل قرآن مجید کو پیش کیا اور فرمایا : یہ اللہ کا کلام ہے اور اگر تمہارا یہ گمان ہے کہ یہ کلام میرا بنایا ہوا ہے تو تم بھی میری طرح نوح انسان سے ہو ‘ سو تم بھی ایسا کلام بنا کرلے آؤ اور کوئی بھی اس کلام کی مثل بنا کر نہ لاسکا ‘ اور جب دلائل اور براھین سے ان کا انکار زائل نہ ہوسکا اور وہ مسلسل اپنے انکار اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو پھر صرف یہ صورت باقی رہی کہ قسم کھا کر انکو مطمئن کرنے کی اور ان کے انکار کو زائل کرنے کی کوشش کی جائے ‘ اسی وجہ سے قرآن مجید کی آخری مکی سورتوں میں بہ کثرت قسموں کا ذکر ہے اور اس صورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا : مجھے ستاروں کے وقوع کی جگہوں کی قسم !
” مواقع النجوم “ کے مصادیق
ستاروں کے وقوع کی جگہوں کی تفسیر میں مفسرین کے حسب ذیل اقوال ہیں :
(١) اس مراد مشارق اور مغارب ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد صرف مغارب ہیں ‘ کیونکہ ستارے وہیں غروب ہوتے ہیں۔
(٢) اس سے مراد آسمان میں بروج اور سیاروں یا ستاروں کی منازل ہیں۔
(٣) جب آسمان پر شیاطین ‘ فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے جاتے ہیں اور فرشتے ان کو آگ کے گولے مارتے ہیں تو اس سے ان آگ کے گولوں کے گرنے کی جگہیں مراد ہیں ‘ آگ کے ان گولوں کو شہاب ثاقب کہا جاتا ہے۔
(٤) قیامت کے دن جب ستارے منتشر ہوجائیں گے اور جن جگہوں پر وہ ٹوٹ کر گریں گے ‘ اس سے وہ جگہیں مراد ہیں۔
(٥) النجوم کے معنی اقساط اور حصص بھی ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” مواقع النجوم “ سے مراد نجوم قرآن کے وقوع کی جگہیں ہوں اور قرآن کے حصص اور اقساط سے مراد قرآن مجید کے معانی اور احکام ہوں اور یہ معانی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب اطہر اور مؤمنین کاملین مثلاََ صحابہ ‘ فقہاء تابعین ‘ مجہتدین اور اولیاء اور عارفین کے قلوب پر واقع ہوتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب اطہر اور آپ کے وسیلہ سے مؤمنین کاملین کے قلوب کی قسم کھائی ہے۔