Site icon اردو محفل

فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُـلۡقُوۡمَۙ – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 83

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُـلۡقُوۡمَۙ ۞

ترجمہ:

پس جب روح نرخرے تک پہنچ جائے

اللہ تعالیٰ کی سلطنت کا اثبات اور مخلوق کی سلطنت کا ابطال

الواقعہ : 84۔ 83 میں فرمایا : پس جب روح نرخرے تک پہنچ جائے۔ اور تم اس وقت (روح کو نکلتا ہوا) دیکھ رہے ہو۔

” حلقوم “ کا معنی معروف ہے ‘ حدیث میں ہے کہ ملک الموت کے مددگار ہیں ‘ وہ بہ تدریج روض کو نکالتے ہیں حتیٰ کہ روح حلقوم تک پہنچ جاتی ہے پھر وہ اس روح کو قبض کرلیتے ہیں۔ (کنز العمال رقم الحدیث : ٥٨١٢٤ )

اور تم اس وقت میرے حکم اور میری سلطنت کا مشاہدہ کرتے ہو ‘ ایک قول یہ ہے کہ تم اس وقت میت کو دیکھ رہے ہوتے ہو اور تم اس کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔

ایک قول یہ ہے کہ اس آیت کا معنی ہے : جب تم میں سے کسی شخص کی روح اس کے حلقوم تک پہنچ جائے اور تم اس شخص کے سامنے حاضر تھے تو تم نے اس کی روح کو اس کے جسم میں روک کیوں نہ لیا اور کیوں اس روح کو اس کے جسم سے نکلنے دیا حالانکہ تمہاری یہ شدید خواہش تھی کہ وہ تمہارے ساتھ کچھ اور دن زندہ رہتا۔

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 83

Exit mobile version