آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے اور وہ بہت غالب بےحد حکمت والا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے اور وہ بہت غالب بےحد حکمت والا ہے۔ آسمانوں اور زمینوں میں اسی کی حکومت ہے ‘ وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہی اوّل اور آخر ہے اور ظاہر اور باطن ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ (الحدید : ٣۔ ١)
اللہ تعالیٰ کی تسبیح کی اقسام
زمین اور آسمان کی ہر چیز اللہ کی تمجید اور تعظیم کرتی ہے اور عیوب اور قبائح سے اس کے بری ہونے کو بیان کرتی ہے ‘ خواہ وہ چیز جان دار ہو یا بےجان ہو۔
امام فخر الدین محمد بن عمررازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
اللہ تعالیٰ کی تسبیح کی کئی اقسام ہیں ‘ اس کی ذات کی عیوب سے برات بیان کرنا ‘ اس کی صفات کی عیوب سے برات بیان کرنا ‘ اس کے افعال کی عیوب سے برات بیان کرنا ‘ اس کے اسماء کی عیوب سے برات بیان کرنا اور اس کے احکام کی عیوب سے برات بیان کرنا۔
اس کی ذات کی عیوب سے برات یہ ہے کہ اس کی ذات واجب الوجود اور قدیم ہے اور اس کی ذات امکان اور حدوث کے عیب سے بری ہے اور اس کی ذات واحد ہے اور دہ شرکت اور کثرت کے عیب سے بری ہے ‘ کیونکہ اگر واجب الوجود متعدد ہوں تو ان میں نفس و جوب مشترک ہوگا اور کوئی امر ممیز ہوگا اور جو چیز دو چیزوں سے مرکب ہو وہ ممکن اور حادث ہوتی ہے ‘ واجب اور قدیم نہیں ہوتی۔
اور اس کی صفات کی عیوب سے برات یہ ہے کہ وہ تمام معلومات کا عالم ہے اور وہ جہل کے عیب سے بری ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور عجز کے عیب سے بری ہے۔
اور اس کے افعال کی عیوب سے برات یہ ہے کہ وہ جس فعل کا ارادہ کرے اس کو کر گزرتا ہے ‘ اس کے افعال زمان پر موقوف ہیں نہ مکان پر ‘ مادے پر نہ اس کی استعداد پر ‘ وہ کسی چیز کے متعلق فرماتا ہے : ” ہو “ تو وہ ہوجاتی ہے۔
اس کے اسماء کی عیوب سے برات یہ ہے ک کہ اس کے تمام اسماء حسنیٰ ہیں اور اس کے اوپر کسی ایسے اسم کا اطلاق نائز نہیں ہے جس میں کسی وجہ سے نقص اور عیب ہو بلکہ اس پر اسی اسم کا اطلاق جائز ہے جس کا ذکر قرآن اور احادیث میں آگیا ہو اور محض اپنی عقل سے اس پر کسی اسم کا اطلاق جائز نہیں ہے۔
(تفسیر کبیرج ٠١ ص ١٤٤‘ ملخصاََ و موضحا ‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)
اس میں بھی اختلاف ہے کہ ہر چیز جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے اس سے مراد تسبیح حالی ہے یا تسبیح قولی ہے ‘ امام فخرالدین رازی کی تحقیق یہ ہے کہ اس سے مراد تسبیح حالی ہے اور ہماری تحقیق یہ ہے کہ اس سے مراد تسبیح قولی ہے ‘ بنی اسرائیل : ٤٤ میں اس کو ہن نے تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے ‘ اس کے لیے دیکھئے : ” بیتان القرآن “ ج ٦ ص ٦٢٧‘ ٣٢٧۔