Site icon اردو محفل

فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَۙ‏ سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 88

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

پس اگر وہ (مرنے والا) مقربین میں سے ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس اگر وہ (مرنے والا) مقربین میں سے ہے۔ تو اس کے لیے راحت اور نفیس پھول اور انعام والی جنت ہے۔ اور اگر وہ (مرنے والا) دائیں طرف والوں میں سے ہے۔ (اے دائیں طرف والے ! ) تجھ پر سلام ہو کیونکہ تو دائیں طرف والوں سے ہے۔ اور اگر وہ (مرنے والا) تکذیب کرنے والا ‘ گمراہوں میں سے ہے۔ تو اس پر سخت کھولتے ہوئے پانی کی ضیافت ہے۔ اور دوزخ میں جلنا ہے۔ بیشک یہی ضرور حق الیقین ہے۔ پس آپ اپنے رب ِ عظیم کے اسم کی تسبیح کرتے رہیے۔ (الواقعہ : 96۔ 88)

” رَوح “ اور ” ریحان “ کے معانی

اس سے پہلی آیتوں میں موت کے وقت مخلوق کی حالت اور کیفیت بیان فرمائی تھی اور اس سے اپنی حا کمیت اور سلطنت پر استدلال فرمایا تھا اور ان آیتوں میں قیامت کے دن مخلوق کے درجات بیان فرمائے ہیں ‘ نیک لوگوں کے لیے اچھی مہمانی اور بداعمال لوگوں کے لیے عذاب پر مشتمل مہمانی کا ذکر فرمایا ہے اور اس سے اپنے وعدہ کے صدق اور ہر عیب سے بَری اور سبحان ہونے پر استدلال فرمایا ہے۔

الواقعہ : 89۔ 88 میں بتایا کہ اگر وہ مرنے والا نیک اور مومن ہو تو اس کو رحمت ‘ راحت اور دائمی نعمتوں کی جنت ملے گی۔ اس آیت میں ” رَوح “ کا لفظ ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس کا معنی دنیا کی راحت ہے۔ حسن بصری نے کہا : اس کا معنی راحت ہے۔ ضحاک نے کہا : اس کا معنی استراحت ہے۔ قنبی نے کہا : اس کا معنی ہے : اس کے پاس قبر میں پاکیزہ اور خوشبودار ہوائیں آئیں گی۔ ابوالعباس بن عطاء نے کہا :” رَوح “ کا معنی ہے : اس کو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے خوشی ہوگی اور ” ریحان “ کا معنی ہے : وہ اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کی وحی سے استفادہ کرے گا اور ” جنت نعیم “ سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محجوب نہیں ہوگا۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” رُوح “ (ر پر پیش) پڑھا اور فرمایا : اس سے مراد جنت میں بقاء اور حیات ہے اور رحمت سے یہی مراد ہے۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ١٩٩٣‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٨٣٩٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٦‘ المستدرک ج ٦ ص ٦٣٢)

الربیع بن خیثم نے کہا : موت کے وقت مومن کو ضوشبودار پھول سنگھایا جائے گا اور جنت اس کو قیامت کے بعد عطا کی جائے گی۔ ابوالعالیہ نے کہا : مقربین میں سے کسی ایک کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جائے گی حتیٰ کی اسے خوشبودار پھولوں کی دو شاخیں دی جائیں گی ‘ وہ ان کو سونگھے گا پھر اس کی روح قبض کرلی جائے گی۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 88

Exit mobile version