Site icon اردو محفل

وَ مَا لَـكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡـرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ‌ؕ لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ ؕ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 10

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ مَا لَـكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡـرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ‌ؕ لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ ؕ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی وراثت ہے ‘ ( اے مسلمانو ! ) تم میں سے کوئی بھی ان کے برابر نہیں ہوسکتا جنہوں نے فتح (مکہ) سے پہلے ( اللہ کی راہ میں) خرچ کیا اور (کافروں سے) قتال کیا ‘ ان کا ( ان مسلمانوں سے) بہت بڑا درجہ ہے جنہوں نے بعد میں (اللہ کی راہ میں) خرچ کیا اور (کافروں سے) قتال کیا ‘ اللہ نے ان سب سے اچھے انجام کا وعدہ فرمایا ہے ‘ اور اللہ تمہارے تمام کاموں کی خوب خبر رکھنے والا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی وراثت ہے ‘ ( اے مسلمانو ! ) تم میں سے کوئی بھی ان کے برابر نہیں ہوسکتا جنہوں نے فتح (مکہ) سے پہلے ( اللہ کی راہ میں) خرچ کیا اور (کافروں سے) قتال کیا ‘ ان کا ( ان مسلمانوں سے) بہت بڑا درجہ ہے جنہوں نے بعد میں (اللہ کی راہ میں) خرچ کیا اور (کافروں سے) قتال کیا ‘ اللہ نے ان سب سے اچھے انجام کا وعدہ فرمایا ہے ‘ اور اللہ تمہارے تمام کاموں کی خوب خبر رکھنے والا ہے۔ (الحدید : ٠١)

جس عمل میں زیادہ مشقت ہو اس کا زیادہ اجروثواب ہوتا ہے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنے پر مذمت کی گئی ہے ‘ یعنی تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کون سی چیز منع کرتی ہی اور کون سی چیز تم کو اللہ کا قرب حاصل کرنے سے روکتی ہے ‘ جب کہ تم اس دنیا میں اس مال کو یوں ہی چھوڑ کر مرجاؤ گے اور یہ مال تمہارے کسی کام نہیں آئے گا اور اگر تم اس مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کردو تو تمہارے مرنے کے بعد بھی تمہیں اس مال سے نفع پہنچے گا۔

اس کے بعد فرمایا : (اے مسلمانو ! ) تم میں سے کوئی بھی ان کے برابر نہیں ہوسکتا جنہوں نے فتح (مکہ) سے پہلے (اللہ کی راہ) میں خرچ کیا اور ( کافروں سے) قتال کیا۔

اکثر مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں فتح سے مراد فتح مکہ ہے اور شعبی اور زہری نے یہ کہا کہ اس سے مراد فتح حدبیہ ہے۔ قتادہ نے کہا : جن مسلمانوں نے فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور کفار سے قتال کیا ‘ وہ ان مسلمانوں سے بہت افضل ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور کفار سے قتال کیا ‘ کیونکہ فتح مکہ سے پہلے مسلمان بہت کمزور تھے اور بہت ضرورت مند تھے اور اس وقت ان کے لیے مال خرچ کرنے میں اور اسلام کی راہ میں جہاد کرنے میں بہت مشقت تھی اور جس عبادت میں جتنی زیادہ مشقت ہو اس کا اجر وثواب اسی قدر زیادہ ہوتا ہے ‘ حدیث میں ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا : کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس عمل میں سب سے زیادہ مشقت ہو۔ (النہایہ ج ١ ص ٢٢٤‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ٨١٤١ ھ)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لیکن عمرہ کا اجر تمہارے خرچ کرنے اور تمہاری مشقت کے اعتبار سے ملے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٨٧١‘ سنن ابوداؤدرقم الحدیث : ١٨٧١‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٤٦٧٢)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! کون سا صدقہ افضل ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو تنگ دست آدمی مشقت برداشت کرکے دے اور دینے کی ابتداء اپنے عیال سے کرو۔

(سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٧٧٦١‘ المستدرک ج ١ ص ٤١٤)

حضرت ابوبکر (رض) کا افضل الامت ہونا

مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے اور اس میں حضرت ابوبکر (رض) کے مقدم ہونے اور ان کی فضیلت پر واضح دلیل ہے۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا کہ ہم لوگوں کو ان کے درجہ میں رکھیں۔

(سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٤٨٤‘ مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث : ٦٢٨٤)

اور سب سے بڑا درجہ نماز کا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیماری کے ایام میں فرمایا :

مروا ابابکر فلیصل بالناس۔ ابوبکر سے کہو : وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢١٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨١٤‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٤٣٨)

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر (رض) امت میں سب سے بڑے درجہ پر فائز ہیں کیونکہ حضرت ابوبکر کو نماز کی امامت کے درجہ میں رکھا اور کسی کو اس درجہ میں نہیں رکھا گیا اور نماز کی امامت کا درجہ سب سے بڑا درجہ ہے

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جس نے فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور اللہ کے دشمنوں سے قتال کیا وہ بعد والوں سے بہت زیادہ افضل ہے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ اسلام کے لیے نمایاں خرچ کرنے والے حضرت ابوبکر تھے اور اسلام کے لیے نمایاں قتال کرنے والے حضرت علی تھے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے والے کے ذکر کو قتال کرنے والے کے ذکر پر مقدم کیا ہے ‘ اس میں یہ اشارہ ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت علی (رض) پر مقدم ہیں ‘ نیز خرچ کرنا باب رحمت ہے اور قتال کرنا باب ِ غضب سے ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

سبقت رحمتی غضبی۔ میری رحمت میرے غضب پر سابق ہے۔

(مسند حمیدی رقم الحدیث : ٦٢١١)

لہٰذا خرچ کرنے والا قتال کرنے والے پر سابق ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کی حضرت علی (رض) بھی خرچ کرنے والے تھے کیونکہ ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے۔

ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا۔ (الدھر : ٨) اور جو اللہ کی محبت میں مسکین کو ‘ یتیم کو اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔

تو ہم کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کا اسلام کی راہ میں مال خرچ کرنا اسی وقت ثابت ہوگا جب انہوں نے بڑے بڑے مواقع پر بہت زیادہ مال خرچ کیا ہو اور یہ چیز صرف حضرت ابوبکر کے لیے ثابت ہے نیز امام واحدی نے ” البسیط “ میں ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) عنہنے اسلام کے لیے سب سے پہلے قتال کیا ‘ کیونکہ اسلام کے ظہور کی ابتداء میں حضرت علی چھوٹے بچے تھے اور اس وقت وہ قتال کرنے والے نہ تھے اور حضرت ابوبکر (رض) اس وقت شیخ اور مقدم تھے اور اسی وقت وہ اسلام کی مدافعت کرتے تھے ‘ حتیٰ کہ وہ کئی مرتبہ لڑتے لڑتے موت تک پہنچے۔

علماء نے کہا ہے کہ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص پہلے اسلام لایا اور جس نے پہلے جہاد کیا اور جس نے فتح مکہ سے پہلے اسلام کی راہ میں خرچ کیا ‘ وہ بعد والوں سے افضل ہے ‘ کیونکہ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کا عظیم موقع حاصل ہوا اور اس نے اس وقت مال خرچ کیا جب مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور کفار کی تعداد بہت زیادہ تھی اور اس وقت مسلمانوں کی مدد اور معاونت کی بہت ضرورت تھی ‘ اس کے بر خلاف فتح مکہ کے بعد اسلام قوی ہوچکا تھا اور کفر بہت ضعیف تھا۔ (تفسیر کبیر ج ٠١ ص ٣٥٤۔ ٢٥٤‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

اس مضمون پر یہ آیت دلالت کرتی ہے :

والسبقون الاولون من المھجرین والانصار والذین اتبعو ھم باحسان رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ واعدلہم جنت تجری تحتھا الا نھر خلدین فیھا ابدا ط ذلک الفوزالعظیم۔ (التوبہ : ٠٠١) جو مہاجرین اور انصار (اسلام میں) سابق اور اوّل ہیں اور جن لوگوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی ‘ اللہ ان سب سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور ان کے لیے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہہ رہے ہیں ‘ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی عظیم کامیابی ہے۔

علامہ ابوالحسن علی بن احمد الواحدی النیشاپوری المتوفی ٨٦٤ ھ لکھتے ہیں :

محمد بن فضیل نے کہا : یہ آیت حضرت ابوبکر (رض) کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ انہوں نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنا مال خرچ کیا اور سب سے پہلے اسلام کے لیے قتال کیا۔ حضرت ابن مسعود نے کہا : انہوں نے سب سے پہلے اسلام کے لے تلوار اٹھائی۔ عطاء نے کہا : جنت کیا مختلف درجات ہیں اور جس نے سب سے پہلے اسلام کے لیے خرچ کیا اور تلوار اٹھائی ‘ وہ لوگ سب سے افضل درجہ میں ہوں گے۔ الزجاج نے کہا : کیونکہ متقدمین نے بعد والوں کی بہ نسبت اسلام کے لیے بہت زیادہ مشقت اٹھائی ہے۔ (الوسیط ج ٤ ص ٦٤٣٢۔ ٥٤٢‘ دارالکتب العلیمہ ‘ بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

حضرت ابوبکر (رض) کے فضائل میں احادیث

حسب ذیل احادیث میں حضرت ابوبکر (رض) کے افضل ہونے کی دلیل ہے :

(١) حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنی رفاقت اور اپنے مال سے سب سے زیادہ (دنیا میں) مجھ پر احسان کیا وہ ابوبکر ہیں ‘ اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا ‘ لیکن ( اس کے ساتھ) اسلام کی اخوت اور محبت ہے اور ابوبکر کے دروازہ کے سوا مسجد کے تمام دروازے بند کر دئیے جائیں۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٥٦٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٥٦٣‘ سنن دارمی رقم الحدیث : ٠٩١٢‘ مسند احمد ج ١ ص ٠٧٢)

(٢) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیماری کے ایام میں فرمایا : میرے لیے اپنے باپ ابوبکر اور اپنے بھائی کو بلاؤ‘ تاکہ میں ان کے لیے ایک مکتوب لکھ دوں ‘ کیونکہ مجھے یہ خطرہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور یہ کہے گا کہ میں ہی خلافت کا مستحق ہوں اور کوئی نہیں ہے ‘ اور اللہ اور مؤمنین غیر ابوبکر کا انکار کردیں گے۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٨٣٢‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٠٦٦٤‘ مسند احمد ج ٤ ص ٢٢٣ )

(٣) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے بھی ہم پر کوئی احسان کیا ہم نے اس کا بدلہ اتار دیا ‘ سوا ابوبکر کے ‘ کیونکہ ان کے ہم پر ایسی نیکی ہے جس کی جزاء ان کو اللہ قیامت کے دن دے گا اور کسی کے مال نے مجھے وہ نفع نہیں پہنچایا جو ابوبکر کے مال نے مجھے نفع پہنچایا ہے۔

(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٥٥‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٥٣ )

(٤) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمانوں کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ابوبکر کے ہوتے ہوئے کسی اور کو امام بنائیں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٧٣)

(٥) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس جبریل آئے ‘ پس انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ‘ پھر انہوں نے مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہوگی ‘ حضرت ابوبکر نے کہا : یا رسول اللہ ! میں چاہتا ہوں کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوں تاکہ آپ کو دیکھتا رہوں ‘ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر ! تم میری امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگئے۔

فضائل صحابہ میں احادیث

نیز اس آیت میں فرمایا : اللہ نے ان سب سے اچھے انجام کا وعدہ فرمایا ہے۔

صحابہ میں سے خواہ مقدم ہوں یا موخر ہوں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان سب سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے ‘ البتہ ان کے درجات اور مراتب مختلف ہوں گے۔

(١) حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے اصحاب کو بُرا نہ کہو ‘ کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ جتنا سونا بھی خیرات کردے تو وہ ان کے صدقہ کئے ہوئے ایک کلو یا نصف کلو کے برابر نہیں ہوگا۔

صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٧٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٤١‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٥٨‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦٨١‘ مسند احمد ج ٣ ص ١١)

(٢) حضرت ابو بردہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا اور آپ بکثرت آسمان کی طرف سر اٹھاتے تھے ‘ سو آپ نے فرمایا : ستارے آسمان کے لئے امان ہیں ‘ جب ستارے چلے جائیں گے تو آسمان پر اس کی وعید آجائے گی اور میں اپنے اصحاب کے لئے امان ہوں ‘ جب میں چلا جائوں گا تو میرے اصحاب کے پاس وہ چیز آجائے گی جس سے ان کو ڈرایا گیا۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٣١)

(٣) حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ اس مسلمان کو آگ نہیں جلائے گی جس نے مجھے دیکھا ہو یا اس کو دیکھا ہو جس نے مجھے دیکھا ہو۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٨٥٨ )

(٤) حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے بہترین لوگ میرا قرن ہیں ‘ پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہیں ‘ پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے قریب ہیں۔ (الحدیث)

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٥٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٣٥‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٥٧‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٨٥٩ )

تبیان القرآن سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 10

Exit mobile version