Site icon اردو محفل

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ وَّزِيۡنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيۡنَكُمۡ وَتَكَاثُرٌ فِى الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ‌ؕ كَمَثَلِ غَيۡثٍ اَعۡجَبَ الۡكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيۡجُ فَتَرٰٮهُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ يَكُوۡنُ حُطٰمًا‌ؕ وَفِى الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ۙ وَّمَغۡفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانٌ‌ؕ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 20

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ وَّزِيۡنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيۡنَكُمۡ وَتَكَاثُرٌ فِى الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ‌ؕ كَمَثَلِ غَيۡثٍ اَعۡجَبَ الۡكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيۡجُ فَتَرٰٮهُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ يَكُوۡنُ حُطٰمًا‌ؕ وَفِى الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ۙ وَّمَغۡفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانٌ‌ؕ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ۞

ترجمہ:

یاد رکھو ! دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے ‘ زیب وزینت ہے اور آپس میں فخر کرنا ہے اور مال اور اولاد میں کثرت کو طلب کرنا ہے ‘ اس بارش کی مثل ہے جس کی پیداوار کسانوں کو اچھی لگتی ہے پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو (اے مخاطب ! ) تو اس کو زرد رنگ کی دیکھتا ہے پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (فساق کے لئے) سخت عذاب ہے اور (نیکوں کے لئے) اللہ کی طرف سے مغفرت ہے اور خوش نودی ہے اور دنیا کی زندگی صرف دھوکے کا سامان ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یاد رکھو ! دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے ‘ زیب و زیبنت ہے اور آپ میں فخر کرنا اور مال اور اولاد میں کثرت کو طلب کرنا ہے ‘ اس بارش کی مثل ہے جس کی پیداوار کسانوں کو اچھی لگتی ہے ‘ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو (اے مخاطب ! ) تو اس زرد رنگ کی دیکھتا ہے ‘ پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (فساق کے لئے) سخت عذاب ہے اور (نیکوں کے لئے) اللہ کی طرف سے مغفرت ہے اور خوش نودی ہے اور دنیا کی زندگی صرف دھوکے کا سامان ہے۔ اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف سبقت کرو جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کی مثل ہے جس کو ان لوگوں کے لئے تیار کیا گیا ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ (الحدید : ٢١۔ ٢٠ )

اس سوال کا جواب کہ دنیا میں اچھی اور مقدس چیزیں بھی ہیں ‘ پھر دنیا کی زندگی صرف دھوکے کا سامان کیوں ہے ؟

الحدید : ٢٠ کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے دنیا کی زندگی مذموم ہے اور آخرت کی زندگی محمود ہے ‘ حالانکہ بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں بھی اچھائی ہے ‘ انبیاء (علیہم السلام) دنیا میں مبعوث کئے گئے اور اولیاء اللہ بھی دنیا میں ہیں۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا :

ترجمہ : (البقرہ : ١٣٠)… بیشک ہم نے ابراہیم کو دنیا میں بزرگی دی اور وہ آخرت میں نیکوکاروں میں سے ہیں۔

ترجمہ : (البقرہ : ٢٠١)… اور بعض لوگ یہ دعا کرتے ہیں : اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما۔

ترجمہ : (آل عمران : ٤٥ )… ان کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے ‘ وہ دنیا میں بھی سرخ رو ہیں اور آخرت میں بھی۔

ربیون کا متعلق فرمایا :

ترجمہ : (آل عمران : ١٤٨ )… سو اللہ نے ان کو دنیا کا ثواب عطا فرمایا اور آخرت کے ثواب کی خوبی بھی۔

ترجمہ : (النسائ : ١٣٤)… جو شخص دنیا کا ثواب چاہتا ہو (تو یاد رکھو کہ) اللہ کے پاس دنیا اور آخرت دونوں کا ثواب ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی :

ترجمہ : (الاعراف : ١٥٦ )… اور ہمارے لئے دنیا کی اچھائی لکھ دے اور آخرت کی۔

اولیاء اللہ کے متعلق فرمایا :

ترجمہ : (یونس : ٦٤ )… ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی خوش خبری ہے اور آخرت میں بھی۔

اور ایسی اور بہت آیتیں ہیں۔

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ فی نفسہٖ دنیا اور اس کی چیزیں مذموم نہیں ہیں کیونکہ دنیا میں کعبہ اور بیت المقدس بھی ہے ‘ مسجد نبوی بھی ہے اور دیگر مساجد بھی ہیں۔ قرآن مجید اور دیگر دینی کتب بھی ہیں۔ انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء اللہ کے مزارات ہیں۔ دینی مدارس اور دینی لائبریریاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نیک اور برگزیدہ بند ہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کے مراکز ہیں۔ دنیا صرف اس اعتبار سے مذموم ہے کہ اس میں اللہ کی اطاعت کے بجائے شیطان کی اطاعت کی جائے اور اس میں وہ چیزیں ہوں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل کرتی ہیں اور شیطان کی اطاعت کی طرف راغب کرتی ہیں ‘ جیسے شراب خانے ‘ قحبہ خانے ‘ قمار خانے ‘ بت کدے اور رقص و موسیقی کے کلب ہیں اور اس آیت میں ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا ہے۔ اب ہم اس آیت میں مذکور بعض الفاظ کے معانی ذکر کررہے ہیں۔

لہو ولعب اور زینت کا معنی

اس آیت میں لہو و لعب کا ذکر ہے۔ ” لعب “ اس چیز کو کہتے ہیں جو دنیا کی طرف راغب کرے اور ” لہو “ اس چیز کو کہتے ہیں جو آخرت سے غافل کردے۔ ایک قول یہ ہے کہ لعب بچوں کے اس کھیل کو کہتے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہ ہو اور لہو جوانوں کے اس کھیل کو کہتے ہیں جس کے ختم ہونے کے بعد سوائے تھکاوٹ اور حسرت کے کچھ حاصل نہ ہو۔

اور زینت کا ذکر ہے ‘ زیب وزینت عام طور پر عورتوں کا طریقہ ہے۔ وہ سونے ‘ چاندی کے زیورات ‘ ہیرے ‘ جواہرات ‘ ریشمی اور زرق برق لباس اور آرائشی ساز و سامان کی دل دادہ ہوتی ہیں اور مرد بھی عالی شان بنگلوں ‘ خوبصورت کپڑوں اور گھڑیوں اور دیگر عیش و عشرت کی چیزوں کو پسند کرتے ہیں۔

تفاخر کی مذمت میں حدیث

اور اس آیت میں ایک دوسرے پر فخر کرنے کا ذکر ہے ‘ اس کی ممانعت کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت عیاض بن عمار (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری طرف یہ وحی کی ہے کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ تواضع کے ساتھ پیش آئو ‘ حتیٰ کہ کوئی شخص دوسرے پر ظلم نہ کرے اور نہ کوئی شخص دوسرے پر فخر کرے۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٨٩٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢١٤)

مال اور اولاد میں کثرت کی طلب مطلقاً مذموم نہیں ہے

اور اس آیت میں مال اور اولاد میں کثرت کو طلب کرنے کا ذکر ہے کیونکہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین زیادہ بیٹوں اور زیادہ مال پر فخر کیا کرتے تھے اور مسلمان ایمان اور عبادت اور اطاعت کی کثرت کو قابل فخر شمار کرتے تھے۔

حضرت علی (رض) نے حضرت عمار (رض) سے فرمایا : دنیا نہ ملنے پر غم نہ کرو کیونکہ دنیا کی خاص چیزیں چھ ہیں : ماکولات ‘ مشروبات ‘ ملبوسات ‘ خوشبویات ‘ سواریاں اور بیویاں۔ سب سے خوش ذائقہ طعام شہد ہے اور وہ شہد کی مکھی کی قے ہے اور انسان سب سے زیادہ پانی پیتا ہے اور اس میں ان اور حیوان برابر ہیں اور ملبوسات میں سب سے افضل ریشم ہے اور وہ ریشم کے کیڑے کے تھوک سے بنتا ہے اور سب سے عمدہ خوشبو مشک ہے اور وہ ہرن کی ناف کا جما ہوا خون ہے اور بیویوں سے لذت جماع میں ہے اور وہ المبال فی المبال ہے یعنی ایک کی پیشاب گاہ کا دوسرے کی پیشاب گاہ میں داخل ہونا اور عورت خوب زینت اور میک اپ کرتی ہے تاکہ اس سے یہ قبیح کام کیا جائے۔

(الجامع لاحکام القرآن جز ١٧ ص ٢٣٠)

تاہم مطلقاً مال اور اولاد کی کثرت کو طلب کرنا مذموم نہیں ہے۔ اگر اللہ کی راہ میں اور نیک کاموں میں خرچ کرنے کے لئے مال کی کثرت کو طلب کیا جائے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت میں اضافہ کے لئے اولاد کی کثرت کو طلب کیا جائے تو یہ محمود ہے ‘ کیونکہ حدیث میں ہے :

حضرت معقل بن یسار (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے پوچھا : مجھے ایک ایسی عورت ملی ہے جس کا خاندان بہت اچھا ہے اور وہ خوبصورت بھی ہے لیکن اس کے ہاں بچے نہیں ہوتے۔ کیا میں اس سے نکاح کرلوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! پھر اس نے دوبارہ پوچھا تو آپ نے منع فرمایا ‘ پھر اس نے سہ بار پوچھا تو آپ نے فرمایا : اس عورت سے نکاح کرو جو محبت کرنے والی ہو اور بچے جننے والی ہو ‘ کیونکہ میں دوسری امتوں کی بہ نسبت زیادہ امت والا ہوں گا۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٠٥٠‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٢٢٧ )

حضرت سہل بن حنیف (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نکاح کیا کرو کیونکہ میں تمہاری وجہ سے دوسری امتوں کی بہ نسبت کثرت حاصل کرنے والا ہوں گا۔ الحدیث

(المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٥٧٤٢‘ حافظ الہیثمی نے کہا : اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ مجمع الزوائد ج ٣ ص ١١)

اسی طرح مال کی فضیلت کے متعلق بھی یہ حدیث ہے :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صرف دو چیزوں پر رشک کرنا مستحسن ہے ‘ٔ ایک شخص کو اللہ نے مال دیا ہو اور اسخ اس مال کو راہ حق میں صرف کرنے پر مسلط کردیا ہو اور ایک شخص کو اللہ نے حکمت دی ہے اور وہ اس حکمت کے مطابق فیصلہ کرے اور اس کی تعلیم دے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨١٦‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٣٦٥١‘ دارالفکر)

ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ اولاد اور مال میں کثرت کو طلب کرنا مطلقاً مذموم نہیں ہے۔ یہ اس وقت مذموم ہے جب اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کے لئے ان کو طلب کیا جائے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 20

Exit mobile version