اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف سبقت کرو ‘ جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کی مثل ہے ‘ جس کو ان لوگوں کے لئے تیار کیا گیا ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ‘ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے
الحدید : ٢١ میں فرمایا : اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف سبقت کرو جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کی مثل ہے ‘ جس کو ان لوگوں کے لئے تیار کیا گیا ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ الایۃ
یعنی نیک اعمال میں سبقت کرو تاکہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور جنت حاصل ہو۔ ایک قول یہ ہے کہ اگر تم سے شامت نفس سے گناہ ہوجائے تو پھر توبہ کرنے میں جلدی کرو ‘ تاکہ تمہیں مغفرت حاصل ہو۔
ایک سوال یہ ہے کہ اس آیت میں فرمایا : جس (جن) کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کی مثل ہے اور آل عمران : ١٣٣ میں فرمایا : جس (جنت) کی وسعت آسمانوں اور زمینوں کی مثل ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ واقع میں جنت کی وسعت سات آسمانوں اور سات زمینوں کی وسعت کی مثل ہے ‘ جس طرح آل عمران ١٣٣ میں فرمایا ہے ‘ لیکن عام انسان کے مشاہدہ میں صرف یہی ایک آسمان اور یہی ایک زمین ہے ‘ اس لئے یہاں عام انسان کے مشاہدہ کے اعتبار سے صرف آسمان اور زمین فرمایا۔
۔ مرجئہ کی دلیل اور اس کا رد
اس آیت میں جنت کے حصول کے لئے صرف ایمان کا ذکر فرمایا ہے اور اس کے ساتھ اعمال صالحہ کی قید نہیں لگائی اور اس سے بظاہر فرقہ مرجئہ کی تائید ہوتی ہے ‘ جو کہتے ہیں کہ نجات کے لئے صرف ایمان لانا کافی ہے ‘ اعمال صالحہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ قرآن مجید کی بہت آیات میں ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کا ذکر کیا گیا ہے ‘ اس لئے وہ ذکر اس پر قرینہ ہے کہ یہاں ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی معتبر اور مراد ہیں اور یا ایمان سے ایمان کامل مراد ہے اور ایمان کامل وہی ہے جس کے ساتھ اعمال صالحہ بھی ہوں۔ البتہ معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ اعمال صالحہ کے بغیر جنت نہیں ملتی۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا اس کو جنت ضرور ملے گی۔ اگر اس کے نیک اعمال نہیں ہیں یا ان میں کوئی کمی ہے ‘ تب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل سے ابتداء جنت عطا فرما دے یا پھر اس کو اس کی تقصیر کی کچھ سزا دینے کے بعد جنت عطا فرما دے۔
حصول جنت کا حقیقی اور ظاہری سبب
نیز اس آیت میں فرمایا ہے : یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے عطا فرماتا ہے۔
اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ جنت کسی عمل سے نہیں اللہ کے فضل سے ملتی ہے۔ رہے نیک اعمال تو وہ بھی بندوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی نصیب ہوتے ہیں۔ میں جب ١٩٩٤ ء میں حج کے سلسلہ میں حاجی کیمپ جارہا تھا تو مجھ سے ٹیکسی ڈرائیور نے پوچھا : آپ حج کے لئے جارہے ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں ! اس نے کہا : اپنے اپنے نصیب کی بات ہے۔ میں ملازمت کے سلسلہ میں اٹھارہ سال مکہ میں رہا اور میں نے حج نہیں کیا اور آپ کراچی سے حج کے لئے مکہ جارہے ہیں۔
رہا یہ کہ بعض آیات میں جنت کے حصول کا سبب نیک اعمال کو قرار دیا ‘ جیسے یہ آیت ہے :
ترجمہ : (الاعراف : ٤٣ )… تم اپنے (نیک) اعمال کے سبب ان جنتوں کے وارث بنائے گئے ہو۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جنت ملنے کا حقیقی سبب اللہ کا فضل ہے ‘ جیسا کہ الحدید : ٢١ میں فرمایا ہے اور اس کا ظاہری سبب نیک اعمال ہیں ‘ جیسا کہ الاعراف : ٤٣ میں فرمایا ہے۔