اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی اپنے رب کے پاس صدیق اور شہید ہیں ‘ ان کے لئے ان کا اجر ہے اور ان کا نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی وہی دوزخ والے ہیں ؏
ہر مومن کا صدیق اور شہید ہونا
الحدید : ١٩ میں فرمایا : اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی اپنے رب کے پاس صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے ان کا اجر ہے اور ان کا نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی وہی دوزخ والے ہیں۔
اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مومنین اور منافقین کا ذکر فرمایا تھا اور اس آیت میں مومنوں اور کافروں کا ذکر فرمایا ہے۔
صدیق صادق کا مبالغہ ہے ‘ یعنی جو بہت زیادہ صادق ہو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بہت قوی تصدیق کرنے والا ہو اور اس کا ثمرہ یہ ہے کہ وہ نہایت خوشی سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام پر عمل کرے اور سخت سردی اور شدید گرمی میں اس پر نماز پڑھنا اور روزے رکھنا گراں اور دشوار نہ ہو۔ زکٰوۃ ادا کرنا اس پر سہل ہو اور حج کرنے کا اس کو شوق ہو اور اس کی آرزو جہاں کرنا اور میدان جہاد میں شہید ہونا اس کی تمنا ہو۔
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت مخصوص صدیقین کے لئے ہے اور وہ یہ ہیں : پچھلی امتوں میں سے صاحب یاسین اور آل فرعون کا مومن اور ہماری امت میں سے یہ ہیں : حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ حضرت عثمان ‘ حضرت علی ‘ حضرت زید ‘ حضرت طلحہ ‘ حضرت زبیر ‘ حضرت سعد اور حضرت حمزہ (رض) ۔ (تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٤٦٢‘ الجامع لاحکام القرآن جز ١٧ ص ٢٢٩ )
مجاہد نے کہا : ہر مومن صدیق اور شہید ہے اور اس آیت کی تلاوت کی۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٩٦٣٣)
ہر مومن کے شہید ہونے کی وجوہ
بعض علماء نے کہا کہ ہر مومن کے شہید ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مومنین اللہ تعالیٰ کے سامنے گزشتہ انبیاء کے حق میں شہادت دیں گے ‘ قرآن مجید میں ہے :
ترجمہ : (البقرہ : ١٤٣ )… اور اسی طرح ہم نے تم کو بہترین امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں کے حق میں شہادت دینے والے ہو جائو۔
حسن بصری نے کہا : ہر مومن کو شہید اس لئے فرمایا ہے کہ وہ اپنے رب کے لطف و کرم پر شہید (حاضریا گواہ) ہوگا۔
اصم نے کہا : ہر مومن اس لئے شہید ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کرکے اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کا کفر کرنا اور اس کی نافرمانی کرنا حرام ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ ” والشھداء عند ربھم “ سے الگ جملہ ہے یعنی جو لوگ اپنے رب کے پاس شہید (حاضر) ہیں ‘ ان کے لئے ان کا اجر ہے اور ان کا نور ہے۔
اس قول کی بناء پر اس آیت میں شہداء سے مراد انبیاء (علیہم السلام) ہیں اور اس کی دلیل یہ آیت ہے :
ترجمہ : (النسائ : ٤١ )… (اے رسول مکرم ! ) اس وقت آپ کی کیا شان ہوگی ! جب ہم ہر امت سے ایک شہید لائیں گے اور ہم آپ کو ان سب پر شہید بنا کر پیش کریں گے۔
اور ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں شہداء سے مراد وہ مسلمان ہیں جو اللہ کی راہ میں شہید ہوں گے اور اس صورت میں اس آیت کا معنی یہ ہوگا کہ ہر مومن اللہ کے نزدیک صدیق اور شہید ہے۔
اس قول کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے :
حضرت جابر بن عتیک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے پوچھا : تم لوگ کس چیز کو شہادت شمار کرتے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ عز و جل کی راہ میں قتل کرنے کو ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو میری امت میں شہید بہت کم ہوں گے۔ اللہ کی راہ میں قتل ہونے والا شہید ہے۔ طاعون میں مرنے والا شہید ہے۔ جو شخص اللہ کی راہ میں غرق ہوا وہ شہید ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں گر کر مرا وہ شہید ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں نمونیہ میں مرا وہ شہید ہے۔
(مسند احمد ج ٢ ص ٤٤١‘ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ طبع قدیم)
ہم نے ” شرح صحیح مسلم “ ج ٥ ص ٩٤٦۔ ٩٤٥ میں احادیث کے حوالوں کے ساتھ پینتالیس (٤٥) حکمی شہادت کی اقسام بیان کیں ہیں اور ” تبیان القرآن “ ج ٢ ص ٤٦٦۔ ٤٦٥ میں اکیاون (٥١) اقسام بحوالہ بیان کی ہیں۔ ان میں سے اڑتالیس (٤٨) اقسام یہ ہیں :
حکمی شہداء کی تعداد
مذکور الصدر احادیث میں جو حکمی شہادت کی اقسام بیان کی گئی ہیں ‘ ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے :
(١) طاعون میں مرنے والا (٢) پیٹ کی بیماری میں مرنے والا (٣) ڈوبنے والا (٤) دب کر مرنے والا (٥) نمونیہ میں مرنے والا (٦) جل کر مرنے والا (٧) درد زہ میں مبتلا ہو کر مرنے والی حاملہ (٨) اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا (٩) اپنی جان کی حفاظت میں مارا جانے والا (١٠) اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا (١١) دین کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا (١٢) سواری سے گر کر مرنے والا (١٣) اللہ کے راستہ میں مرنے والا مثلاً علم دین کی طلب میں جانے والا ‘ نماز کو جانے والا ‘ حج کو جانے والا ‘ غرض ہر نیک کام کے لئے جانے والا اس دوران اگر مرجائے (١٤) پہاڑ سے گر کر مرنے والا (١٥) جس کو درندے کھا جائیں (١٦) نفاس میں مرنے والی عورت (١٧) اپنے لئے رزق حلال کی طلب کے دوران مرنے والا (١٨) اپنے اہل و عیال کے لئے رزق حلال کی طلب کے دوران مرنے والا (١٩) کسی مصیبت یا حادثہ میں مرنے والا (٢٠) صدق دل سے شہادت کی دعا کرنے والا (٢١) پھیپڑوں کی بیمار مثلاً دمہ ‘ کھانی یا تپ دق میں مرنے والا (٢٢) سفر میں مرنے والا (٢٣) جو شخص ایک دن میں پچیس بار یہ دعا کرے : ” اللھم بارک لی فی الموت و فیما بعد الموت “ (٢٤) نیزہ کی ضرب سے مرنے والا (٢٥) جو عاشق پاک دامن رہا (٢٦) بخار میں مرنے والا (٢٧) سرحد کی حفاظت کرتے ہوئے مرنے والا (٢٨) گڑھے میں گر کر مرنے والا (٢٩) ظلماً قتل کیا جانے والا (٣٠) اپنے حق کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا (٣١) اللہ کی راہ میں بستر پر فوت ہونے والا (٣٢) جس کو سانپ یا بچھو ڈس لے (٣٣) جو اچھو سے مرجائے (٣٤) پڑوسی کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے (٣٥) جو چھت سے گرے اور ٹانگ یا گردن ٹوٹنے کی وجہ سے مرجائے (٣٦) جو پتھر گرنے سے مرجائے (٣٧) جو عورت اپنے خاوند پر غیرت کرتی ہوئی مرجائے (٣٨) نیکی کا حکم دیتے ہوئے اور برائی سے روکتے ہوئے مار جائے (٣٩) اپنے بھائی کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے (٤٠) جو شخص اللہ کی راہ میں سواری سے گر جانے سے مرجائے (٤١) جو شخص کسی بھی بیماری میں فوت ہوا وہ شہید ہے (٤٢) صبح و شام سورة حشر کی آخری تین آیتیں پڑھنے والا شہید ہے (٤٣) چاشت کی نماز پڑھنے والا ‘ ہر ماہ تین روزہ رکھنے والا اور وتر قضاء نہ کرنے والاشہید ہے (٤٤) دائماً با وضو رہنے والا شہید ہے (٤٥) بیت المقدس کا خادم شہید ہے (٤٦) زکام یا کھانسی میں مرنے والا شہید ہے (٤٧) غلبہ بدعت کے وقت سنت پر عمل کرنے والا شہید ہے (٤٨) ہر مومن کامل شہید ہے۔
اس آیت کی جو یہ تفسیر کی گئی ہے کہ ہر مومن شہید ہے۔ اس سے مراد وہ مومن ہے جس کا ایمان کامل اور قابل شمار ہو ‘ ورنہ یہ بات بہت بعید ہے کہ جو شخص نفسانی تقاضوں اور شہوات میں ڈوبا ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت سے غافل ہو وہ قیامت کے دن صدیقین اور شہداء کے درجہ میں ہو۔
صدقہ کے شوق اور شہادت کی تمنا کا اجر
امام مقاتل بن سلیمان بلخی متوفی ١٥٠ ھ لکھتے ہیں :
یہ آیت حضرت ابو الدحداح انصاری (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا اور صدقہ کرنے کی ترغیب دی تو حضرت ابو الدحداح انصاری نے کہا : یا رسول اللہ ! میں نے اپنا باغ اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لئے صدقہ کردیا ‘ پھر وہ باغ میں آئے تو حضرت ام الدحداح باغ میں تھیں۔ انہوں نے کہا ؎ اے ام الدحداح ! میں نے اپنا باغ اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لئے صدقہ کردیا ہے ‘ تم اپنی بچیوں کا ہاتھ پکڑو اور ان کو باغ سے باہر نکالو ‘ پھر جب ان کی بچیوں کو تیز دھوپ لگی تو وہ رونے لگیں ‘ تو ان کی ماں نے کہا : روئو مت ‘ تمہارے باپ نے اپنا باغ اپنے رب کے ہاتھ فروخت کردیا ہے ‘ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے ابوالدحداح کی کھجوروں کے کتنے ہی خوشوں کو جنت میں دیکھا ہے ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی :
ترجمہ (الحدید : ١٨)… ان کی نیکیوں کو بڑھایا جائے گا اور ان کے لئے عزت والا اجر ہے۔
یعنی ان کو جنت میں اچھی جزاء ملے گی۔
تب فقراء صحابہ نے کہا : ہمارے پاس تو اتنا مال نہیں ہے جس سے ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں یا صدقہ کریں ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی :
ترجمہ (الحدید : ١٩)… اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی اپنے رب کے پاس صدیق ہیں۔
یعین جن لوگوں نے اللہ کی توحید کی تصدیق کی اور اس کے تمام رسولوں کی تصدیق کی وہی اللہ اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرنے والے ہیں اور انہوں نے ایک لحظہ کے لئے بھی شکایت نہ کی ہو۔
ترجمہ : (الحدید : ١٩) … اور جو ان میں سے شہید ہوگئے ان کے لئے ان کے رب کے پاس ان کا اجر اور نور ہے۔
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی وہ دوزخ والے ہیں۔ (الحدید : ١٩)
(تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص ٣٢٤‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٢٤ ھ)
خلاصہ یہ ہے کہ جن کے پاس صدقہ کرنے اور جہاد کرنے کے وسائل نہ ہوں لیکن وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے میں صادق ہوں اور ان کی نیت میں اخلاص ہو اور ان کو صدقہ کرنے کا شوق اور شہادت کی تمنا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔