Site icon اردو محفل

يُنَادُوۡنَهُمۡ اَلَمۡ نَكُنۡ مَّعَكُمۡ‌ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَلٰـكِنَّكُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَ تَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِىُّ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 14

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يُنَادُوۡنَهُمۡ اَلَمۡ نَكُنۡ مَّعَكُمۡ‌ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَلٰـكِنَّكُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَ تَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِىُّ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ ۞

ترجمہ:

(منافق) ایمان والوں کو پکاریں گے : کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے : کیوں نہیں ! لیکن تم نے اپنے اپنے آپ کو (نفاق کے) فتنہ میں ڈال دیا اور تم (مسلمانوں پر مصائب کا) انتظار کرتے رہے اور (دین میں) شک کرتے رہے اور تمہاری جھوٹی آرزئوں نے تمہیں فریب میں مبتلا رکھا ‘ حتیٰ کہ اللہ کا حکم آپہنچا ‘ اور (شیطان نے تمہیں) فریب میں مبتلا رکھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : منافق ایمان والوں کو پکاریں گے : کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے : کیوں نہیں ! لیکن تم نے اپنے آپ کو (نفاق) فتنہ میں ڈال دیا اور تم (مسلمانوں پر مصائب کا) انتظار کرتے رہے اور (دین میں) شک کرتے رہے اور تمہاری جھوٹی آرزوئوں نے تمہیں فریب میں مبتلا رکھا ‘ حتیٰ کہ اللہ کا حکم آپہنچا اور (شیطان نے تمہیں) اللہ کے متعلق فریب میں مبتلا رکھا۔ (سواے منافقو ! ) آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے گا نہ کافروں سے ‘ تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ‘ وہی تمہارا رفیق ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔ کیا ابھی تک ایمان والوں کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لئے اور اس حق کے لئے نرم ہوجائیں جو نازل ہوچکا ہے اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی ‘ پھر ان پر طویل زمانہ گزر گیا تو ان کے دل بہت سخت ہوگئے اور ان میں سے بہت سے لوگ فاسق ہیں۔ (الحدید : ١٦۔ ١٤)

قیامت کے دن مومنوں اور منافقوں کا مکالمہ

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ منافقین ‘ مومنین کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے ‘ ان کے ساتھ نکاح کرتے تھے اور ان کے ساتھ معاشرتی زندگی گزارتے تھے اور قیامت کے دن ان سب کو نور دیا جائے گا۔ پھر جب منافقین اس دیوار تک پہنچیں گے تو ان کا نور بجھ جائے گا ‘ اس وقت وہ ظلمت اور عذاب میں ہوں گے اور مومنین جنت میں ہوں گے۔ اس وقت منافقین مومنوں سے کہیں گے : کیا ہم دنیا میں تمہارے ساتھ نہیں رہتے تھے۔ ہم نماز پڑھتے تھے اور روزے رکھتے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کرتے تھے اور وارث ہوتے تھے ‘ مومنین کہیں گے : ہاں ! تم اسی طرح تھے ‘ لیکن تم نے اپنی جانوں کو فتنہ میں ڈالا ‘ تم نے منافقت کی ‘ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مصائب کا انتظار کرتے رہے اور دین میں شک کرتے رہے اور تمہاری جھوٹی آرزوئوں نے تم کو فریب میں مبتلا رکھا اور تم کو اللہ کے راستہ سے روک لیا اور تم کو گمراہ کردیا ‘ حتیٰ کہ اللہ کا حکم آگیا اور تم کو عذاب میں ڈال دیا۔ (جامع البیان جز ٢٧ ص ٢٩٤‘ ملخصا ‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 14

Exit mobile version