Site icon اردو محفل

ثُمَّ قَفَّيۡنَا عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ وَجَعَلۡنَا فِىۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ رَاۡفَةً وَّرَحۡمَةً  ؕ وَرَهۡبَانِيَّةَ اۨبۡتَدَعُوۡهَا مَا كَتَبۡنٰهَا عَلَيۡهِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا‌ ۚ فَاٰتَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡهُمۡ اَجۡرَهُمۡ‌ۚ وَكَثِيۡرٌ مِّنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ – سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 27

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ قَفَّيۡنَا عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ وَجَعَلۡنَا فِىۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ رَاۡفَةً وَّرَحۡمَةً  ؕ وَرَهۡبَانِيَّةَ اۨبۡتَدَعُوۡهَا مَا كَتَبۡنٰهَا عَلَيۡهِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا‌ ۚ فَاٰتَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡهُمۡ اَجۡرَهُمۡ‌ۚ وَكَثِيۡرٌ مِّنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

پھر ہم نے ان کے طریقہ پر اپنے اور رسول لگاتار بھیجے اور ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور ہم نے ان کو انجیل عطا فرمائی اور ہم نے ان کا پیروکاروں کے دلوں میں شفقت اور رحمت رکھی اور رہبانیت کو انہوں نے ازخود ایجاد کیا ہم نے اس کو ان پر فرض نہیں کیا تھا ‘ مگر (انہوں نے) اللہ کی رضا کی طلب کے لئے (اس کو ایجاد کیا) پھر انہوں نے اس کی ایسی رعایت نہ کی جو رعایت کا حق تھا ‘ پس ہم نے ان میں سے ایمان والوں کو ان کا اجر عطا فرمایا اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔

 

” رھبانیت “ کا لغوی اور اصطلاحی معنی

الحدید : ٢٧ میں رہبانیت کا لفظ ہے۔ علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ اس کا لغوی معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ” رھب “ کا معنی ہے ‘ ڈرنا اور خوف ‘ اور ” ترھیب “ کا معنی ہے ‘ عبادت کرنا اور ” رھبانیت “ کا معنی ہے ‘ عبادت کے افعال برداشت کرنے میں غلو اور زیادتی کرنا ‘ ” رھبان “ کا لفظ واحد اور جمع دونوں کے لئے مستعمل ہے۔

(المفردات ج ١ ص ٢٦٩‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ)

علامہ المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام میں ” رھبانیت “ نہیں ہے۔ صکشف الخفاء ج ٢ ص ٣٧٧) ” رھبانیت “ کی اصل ” رھبۃ “ ہے ‘ جس کا معنی خوف ہے۔ نصاریٰ کے راہب دنیا کے اشغال اور اس کی لذتوں کو ترک کردیتے تھے اور ان میں رغبت نہیں کرتے تھے اور اپنے گھر والوں سے الگ رہتے تھے اور مشقتوں کو برداشت کرتے تھے ‘ حتیٰ کہ ان میں سے بعض خود کو خصی کرلیتے تھے اور اپنے گلوں میں زنجیریں ڈال لیتے تھے۔ اس کے علاوہ خود کو طرح طرح کی اذیتوں میں مبتلا کرتے تھے۔ اس لئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلام سے رہبانیت کی نفی کی اور مسلمانوں کو رہبانیت کے اختیار کرنے سے منع فرمایا۔

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم جہاد کو لازم رکھو کیونکہ وہ اسلام کی رہبانیت ہے۔

(مسند احمد ج ٨٢ طبع قدیم ‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ١٠٠٠‘ المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٩٤٩‘ مسند احمد ج ١٨ ص ٢٩٨‘ طبع جدید)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی کے لئے رہبانیت ہوتی ہے اور اس کی امت کی رہبانیت اللہ عزو جل کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔

(مسند احمد ج ٣ ص ٢٦٦ طبع قدیم ‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٤٢٠٤‘ شعب الایمان رقم الحدیث : ٤٢٢٧‘ مسند احمد ج ٢١ ص ٣١٧ طبع جدید)

آپ کی مراد یہ تھی کہ ہرچند کہ راہبوں نے دنیا کو ترک کردیا ہے اور اس سے بےرغبتی کی ہے لیکن اللہ کی راہ میں اپنی جان خرچ کرنے سے بڑھ کر کوئی ترک دنیا اور دنیا سے بےرغبتی نہیں ہے اور جیسا کہ نصاریٰ کے نزدیک سب سے افضل عمل رہبانیت ہے ‘ اسی طرح اسلام میں سب سے افضل عمل جہاد ہے ‘ اسی لئے حدیث میں ہے :

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام امور کا سردار اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کے کوہان کی چوٹی جہاں ہے۔

(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦١٦‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٧٣‘ مسند احمد ج ٥ ص ٢٣١) (النہایۃ ج ٢ ص ٢٥٥‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم ابن منظور افریقی مصری متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں :

” ترھب “ کے معنی ہیں : عبادت کرنا۔ ایک قول ہے ‘ اپنے گرجا میں عبادت کرنا۔ قرآن مجید میں ہے : ورھبا نیۃ ابتداعوھا “ (الحدید : ٢٧) ابو اسحاق نے کہا : اس کے دو معنی ہیں : (١) رہبانیت کو انہوں نے ایجاد کرلیا ‘ ہم نے اس کو ان پر فرض کیا تھا اور اس کا معنی ہے : ہم نے صرف اللہ کی رضا طلب کے لئے اس کو ان پر فرض کیا تھا اور اللہ کی رضا کو طلب کرنا اس احکام پر عمل کرنا ہے۔ (٢) تفسیر میں آیا ہے کہ ان کے بادشاہ ان کو ایسے کاموں کا حکم دیتے جن پر وہ صبر نہیں کرسکتے تھے۔ پھر انہوں نے سرنگیں اور گرجے بنا لیئے اور انہوں نے نفلی طور پر ترک دنیا کو لازم کرلیا ‘ پھر ان پر اس کو پورا کرنا لازم ہوگیا جیسے کوئی شخص اپنے اوپر نفلی روزہ کی نذر مان لے جو اس پر فرض نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس روزے کو پورا کرے۔

(لسان العرب ج ٦ ص ٢٤٠‘ مطبوعہ دارصادر ‘ بیروت ‘ ٢٠٠٢ ئ)

مذاہب اربعہ کے مفسرین کا اختراع رہبانیت سے بدعت حسنہ کے جواز پر استدلال …امام رازی شافعی کی تفسیر

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

رہبانیت سے مراد یہ ہے کہ وہ دین میں فتنوں سے بھاگ کر پہاڑوں میں چلے گئے اور اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے لگے اور انہوں نے زیادہ مشقت والی عبادتیں اختیار کیں ‘ جو ان پر واجب ہوگئیں ‘ وہ تنہائی میں رہتے تھے ‘ موٹا لباس پہنتے تھے ‘ عورتوں سے دور رہتے تھے اور غاروں میں عبادت کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ اور سید نا محمد (علیہما السلام) کے ایام فترت میں بادشاہوں نے ” تورات “ اور ” انجیل “ کو بدل ڈالا تو ایک قوم نے زمین میں سفر کیا اور موٹے کپڑے پہنے اور حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (علیہ السلام) نے فرمایا : اے ابن مسعود ! کیا تم جانتے ہو کہ بنی اسرائیل میں ستر فرقے ہوئے اور تین فرقوں کے سوا سب دوزخی ہیں ؟ ایک فرقہ وہ ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا اور اس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نصرت میں ان کے دشمنوں سے قتال کیا ‘ حتیٰ کہ ان کو قتل کردیا گیا۔ دوسرا فرقہ وہ ہے جس کو قتال کرنے کی طاقت نہ تھی۔ انہوں نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا اور تیسرا فرقہ وہ ہے جس کو ان دونوں کاموں کی طاقت نہ تھی۔ انہوں نے موٹا لباس پہنا اور جنگلوں میں اور صحرائوں میں نکل گئے۔ ان ہی کے متعلق اس آیت میں ذکر ہے : اور ہم نے ان کے پیروکاروں کے دلوں میں شفقت اور رحمت رکھی اور رہبانیت کو انہوں نے ازخود ایجاد کیا۔ ہم نے اس کو ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر (انہوں نے) اللہ کی رضا کی طلب کے لئے (اس کو ایجاد کیا) ۔

اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا ہے کہ انہوں نے بدعت اختیار کی اور اس طریقہ کو ایجاد کیا ‘ اس سے اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کا ارادہ نہیں کیا بلکہ مراد یہ ہے کہ اس رہبانیت کو انہوں نے اپنی طرف سے اختیار کیا اور اس کی نذر مانی ‘ اسی لئے اس کے بعد فرمایا : ہم نے اس کو ان پر فرض نہیں کیا تھا (یعنی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رہبانیت کی بدعت کو نکالنے کی مذمت نہیں کی بلکہ اس بدعت کو پورا نہ کرنے کی مذمت کی ہے۔ ( سعیدی غفرالہ)

اس کے بعد فرمایا : ماسوا اللہ کی رضا کی طلب کے ‘ اس استثناء میں دو قول ہیں ‘ ایک یہ کہ یہ استثناء منقطع ہے یعنی لیکن انہوں نے اللہ کی رضا کی طلب کے لئے اس بدعت کو اختیار کیا اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ استثناء متصل ہے اور اس کا معنی ہے : ہم نے رہبانیت کے ساتھ اور کسی وجہ سے عبادت نہیں کی صرف اللہ کی رضا کو طلب کرنے کے لئے رہبانیت کے ساتھ عبادت کی ہے۔

(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٤٧٤۔ ٤٧٣‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

علامہ قرطبی کی تفسیر

علامہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ ہر نیا کام بدعت ہے اور جو شخص کسی بدعت حسنہ کو نکالے اس پر لازم ہے کہ وہ اس پر ہمیشہ برقرار رہے اور اس کی بدعت کی ضد کی طرف عدول نہ کرے ورنہ وہ اس آیت کی وعید میں داخل ہوجائے گا۔

حضرت ابو امامہ بابلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ تم نے تراویح کی بدعت نکالی ہے ‘ تم پر تراویح فرض نہیں کی گئی تھی۔ تم پر صرف روزے فرض کئے گئے تھے۔ اب کہ تم نے یہ بدعت اختیار کرلی ہے تو اس پر دوام کرو اور اس کو ترک نہ کرو ‘ کیونکہ بنی اسرائیل نے کئی بدعتیں نکالیں ‘ جن کو اللہ نے ان پر فرض نہیں کیا تھا اور انہوں نے صرف اللہ کی رضا کی طلب کے لئے یہ بدعتیں نکالی تھیں۔ پھر انہوں نے ان بدعتوں کی اس طرح رعایت نہیں کی جس طرح ان کی رعایت کرنے کا حق تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان بدعات کے ترک کرنے پر ان کی مذمت کی اور فرمایا : اور رہبانیت کو انہوں نے خود ایجاد کیا۔ ہم نے اس کو ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر (انہوں نے) اللہ کی رضا کی طلب کے لئے (اس کو ایجاد کیا) ‘ پھر انہوں نے اس کی ایسی رعایت نہیں کی جو رعایت کا حق تھا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٢٣٨‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

علامہ ابن جوزی جنبلی کی تفسیر

علامہ عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے : ” ہم نے رہبانیت کو ان پر فرض نہیں کیا تھا۔ “ اس کے دو معنی ہیں :

(١) جب یہ لوگ نفلی طور پر رہبانیت میں داخل ہوئے تو ہم نے ان پر رہبانیت کو فرض نہیں کیا تھا مگر اللہ کی رضا کو طلب کرنے کے لئے۔ حسن بصری نے کہا : انہوں نے نفلی طور پر اس بدعت کو اختیار کیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اس بدعت رہبانیت کو فرض کردیا۔ الزجاج نے کہا : جب انہوں نے اس کو نفلاً اپنے اوپر لازم کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا کرنا ان پر لازم کردیا۔ جیسے کوئی شخص نفلاً روزہ رکھ لے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس روزے کو پورا کرے۔ قاضی ابو یعلیٰ نے کہا : کسی بدعت کو اختیار کرنا قول سے بھی ہوتا ہے جیسے کوئی شخص کسی نفلی عبادت کی نذر مان کر اس کو اپنے اوپر واجب کرلے اور کسی بدعت کو فعل سے بھی اختیار کیا جاتا ہے کہ وہ اس نفلی عبادت کو کرے اور اس آیت کا عموم دونوں قسموں کو شامل ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو کسی عبادت کی اپنے قول یا فعل سے بدعت نکالے اس پر اس کی رعایت کرنا اور اس کو پورا کرنا لازم ہے۔

(٢) اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے ان کو صرف اس کام کا مکلف کیا ہے جس سے اللہ عز و جل راضی ہو۔

(زادالمسیرج ٨ ص ١٧٧۔ ١٧٦‘ مکتب اسلامی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ سمری قندی کی تفسیر

علامہ ابو اللیث نصر بن محمد سمری قندی حنفی متوفی ٣٧٥ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں یہ دلیل ہے اور مومنوں کو اس پر تنبیہ ہے کہ جس شخص نے اپنے نفس پر کسی ایسے کام کو واجب کرلیا جو اس پر پہلے واجب نہیں تھا تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کام کو کرے اور اس کو ترک نہ کرے ورنہ وہ فاسق کہلائے گا اور بعض صحابہ نے یہ کہا کہ تم پر تراویح کو پورا کرنا لازم ہے کیونکہ یہ پہلے تم پر واجب نہیں تھی۔ تم نے خود اس کو اپنے اوپر واجب کیا ہے۔ اگر تم نے اس کو ترک کیا تو تم فاسق ہو جائو گے ‘ پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی۔

(بحر العلوم ج ٣ ص ٣٣٠‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ)

علامہ رومی حنفی کی تفسیر

علامہ مصلح الدین مصطفیٰ بن ابراہیم رومی حنفی متوفی ٨٨٠ ھ لکھتے ہیں :

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے اور سب سے اچھی ہدایت (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایت ہے اور بدترین امور محدثات (نئے نکالے ہوئے کام) ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٦٧‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٥٧٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٥‘ مسند احمد رقم الحدیث : ١٤٤٣٨‘ دارالفکر بیروت)

صاحب ” جامع الاصول “ (علامہ ابن اثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ) نے کہا : محدثات الامور ‘ وہ ہیں جو کتاب ‘ سنت اور اجماع سے ثابت نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ابتداع کرنے کا معنی یہ ہے کہ وہ کسی چیز کو عدم سے وجود کی طرف لاتا ہے جبکہ وہ چیزپہلے موجود نہیں ہوتی۔ اسی کو تکوین اور تخلیق بھی کہتے ہیں اور مخلوق جو ابتداع (بدعت کا ارتکاب) کرتی ہے۔ اگر وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے خلاف ہو تو وہ مذموم اور منکر ہے اور اگر وہ ان احکام کے تحت داخل ہو جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مستحب قرار دیا ہے تو وہ بدعت مستحبہ ہے۔ خواہ اس کی مثال پہلے موجود نہ ہو اور یہ افعال محمودہ سے ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے نیک طریقہ ایجاد کیا ‘ اس کو اپنے عمل کا بھی اجر ملے گا اور اس طریقہ پر عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملے گا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠١٧) اور اس کی ضد کے متعلق فرمایا : جس نے برا طریقہ ایجاد کیا اس کو اپنے عمل کا بھی گناہ ہوگا اور اس طریقہ پر عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ہوگا اور یہ اس وقت ہے جب وہ طریقہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے خلاف ہو اور اس کی تائید حضرت عمر بن الخطاب (رض) کے اس قول سے ہوتی ہے جو انہوں نے تراویح کے متعلق فرمایا تھا :

نعمت البدعۃ ھذہ : (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠١٠) یہ بہت اچھی بدعت ہے۔

جب کہ تراویح نیک افعال سے ہے تو اس کو اچھی بدعت فرمایا۔ (جامع الاصول ج ١ ص ٢٠٢‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

علامہ محی الدین نووی متوفی ٦٧٦ ھ نے ” شرح صحیح مسلم “ میں لکھا ہے کہ علماء نے کہا ہے کہ بدعت کی پانچ قسمیں ہیں : (١) واجبہ (٢) مستحبہ (٣) مکروہہ (٤) محرمہ (٥) اور مباحہ۔ بدعت واجبہ جیسے متکلمین کے دلائل اور ان کا ملحدین اور مبتدعین پر رد ‘ اور مستحبہ جیسے علم کی کتابوں کی تصنیف اور دینی مدارس اور سرائے وغیرہ کو بنانا ‘ بدعت مباحہ جیسے طرح طرح کے کھانے اور حرام اور مکروہ ظاہر ہیں۔

(صحیح مسلم بشرح النوادی ج ٤ ص ٢٤٦٨‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ)

(جیسے ماتم کرنا ‘ پیروں کو دھونے کے بجائے ان کا مسح کرنا اور نماز میں عمامہ کو لازم قرار دینا ‘ سعیدی غفرلہ ‘) پس جس حدیث میں ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے ‘ یہ عام مخصوص البعض ہے ‘ اس کا معنی ہے : ہر بدعت سیئہ گمراہی ہے اور بدعت حسنہ اس سے مستثنیٰ ہے۔

(حاشیۃ ابن التمجید علی البیضادی ج ١٨ ص ٤٧٧‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں یہ مذکور نہیں ہے کہ مطلقاً بدعت مذموم ہے ‘ بلکہ مذمت اس بات کی فرمائی ہے کہ انہوں نے اللہ کی رضا کی طلب کے لئے ایک بدعت کو اختیار کیا اور پھر اس کی رعایت نہیں کی۔ علامہ نووی نے ” شرح صحیح مسلم “ میں یہ کہا ہے کہ بدعت کی پانچ قسمیں ہیں۔ (علامہ آلوسی نے ان ہی اقسام کا ذکر کیا ہے جن کو ہم علامہ مصلح الدین کی عبارت میں ابھی ذکر کرچکے ہیں۔ ) علامہ آلوسی لکھتے ہیں : صاحب ” جامع الاصول “ المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ نے کہا… (اس کے بعد علامہ آلوسی نے ” جامع الاصول “ ج ١ ص ٢٠٢ کی عبارت نقل کی ہے جس کو ہم ابھی علامہ مصلح الدین حنفی کی عبارت میں ذکر کرچکے ہیں۔ )

(روح المعانی جز ٢٧ ص ٢٩٥۔ ٢٩٤‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

علامہ اسماعیل حقی حنفی کی تفسیر

علامہ اسماعیل حقی متوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں :

جس طرح تراویح ابتداء میں واجب نہیں تھی ‘ پھر بعد میں مسلمانوں نے اس کو پڑھنا شروع کردیا تو اب تراویح شروع کرنے کے بعد ان پر لازم ہوگئی ‘ اسی طرح صلاۃ رغائب ہے ‘ اور شب برأت کے نوافل ہیں ‘ یہ نوافل بھی تراویح کے ساتھ ملحق ہیں کیونکہ تراویح کی طرح یہ بھی رات کو پڑھے جاتے ہیں۔ بعض کبار نے کہا ہے کہ تمام وہ نئے نیک کام جن کو بطور عبادت ایجاد کیا گیا ہے ‘ وہ سب اس شریعت میں داخل ہیں جن کو رسل کرام لے کر آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رہبانیت کیش مذمت نہیں کی بلکہ مذمت اس بات کی کی ہے کہ بعد کے لوگوں نے اس کی رعایت نہیں کی اور ان کے ایجاد کئے ہوئے اس فعل پر بدعت کا اطلاق فرمایا۔ اس کے برخلاف ہماری امت نے جس نئے کام کو بطور عبادت ایجاد کیا ‘ اس پر سنت کا اطلاق فرمایا جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” من سن فی الاسلام سنۃ حسنۃ۔ “ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠١٧) جس نے اسلام میں نیک سنت (طریقہ) کو ایجاد کیا۔ پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اسلام میں نیک طریقہ نکالنے کی اجازت دی ہے اور اس کا نام سنت رکھا ہے اور اس طریقہ کے نکالنے والے اور اس طریقہ پر عمل کرنے والوں کو اجر کی بشارت ہے۔

بعض علماء نے کہا ہے کہ العلماء اور العارفون نے جو تمام ایسی نئی عبادات نکالی ہیں جن کا شریعت میں صراحتہً امر نہیں ہے ‘ وہ بدعت نہیں ہیں۔ سوا اس کے کہ وہ صریح سنت کے خلاف ہوں۔ پس اگر وہ نکالی ہوئی نئی عبادات صریح سنت کے خلاف نہیں ہیں تو وہ محمود ہیں۔ جیسے سرمنڈانا ‘ پیوند لگے ہوئے کپڑے پہننا ‘ کم کھانے اور کم سونے سے ریاضت کرنا اور مخصوص ہیئت کے ساتھ ذکر کرنا یا ذکر بالجہر کرنا اور اس طرح کے اور اوصاف ‘ جن کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عام لوگوں کو حکم نہیں دیا کیونکہ یہ مخصوص سالکین کا طریقہ ہے۔

(روح البیان ج ٩ ص ٤٥٤۔ ٤٥٣‘ ملخصاً ‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

” ورھبانیۃ ابتدا عوھا “ (الحدید : ٢٧) کی تفسیر میں سید مودودی کی جمہور مفسرین اور احادیث کثیرہ کی مخالفت

ہم اس سے پہلے مذاہب اربعہ کے مفسرین کے حوالہ سے یہ لکھ چکے ہیں کہ ایام فترت میں ایک قوم نے بادشاہ کے مظالم سے بھاگ کر محض اللہ کی رضا کی طلب کے لئے رہبانیت کی بدعت نکالی اور اللہ تعالیٰ نے اس بدعت نکالنے پر ان کی مذمت نہیں کی بلکہ ان کے بعد کے لوگوں نے اس بدعت کو جو کماحقہ ‘ رعایت نہیں کی اس پر ان کی مذمت کی۔ تمام مفسرین نے اسی طرح لکھا ہے ‘ اس کے برخلاف سید ابوالاعلیٰ مودودی نے یہ لکھا ہے کہ ان کی رہبانیت کی بدعت کو نکالنا بھی مذموم تھا اور اللہ تعالیٰ نے رہبانیت نکالنے پر بھی ان کی مذمت کی ہے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں : اصل الفاظ ہیں : ” الا ابتغاء رضوان اللہ “۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں : ایک یہ کہ ہم نے ان پر اس رہبانیت کو فرض نہیں کیا تھا بلکہ جو چیز ان پر فرض کی تھی وہ یہ تھی کہ وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ رہبانیت ہماری فرض کی ہوئی نہ تھی بلکہ اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے اسے خود اپنے اوپر فرض کرلیا تھا۔ دونوں صورتوں میں یہ آیت اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ رہبانیت ایک غیر اسلامی چیز ہے اور یہ کبھی دین حق میں شامل نہیں رہی ہے۔

(تفہیم القرآن ج ٥ ص ٣٢٤‘ ترجمان القرآن ‘ لاہور ‘ ١٩٨٢ ئ)

اگلے صفحہ پر سید مودودی لکھتے ہیں :

یعنی وہ دوہری غلطی میں مبتلا ہوگئے۔ ایک یہ کہ اپنے اوپر وہ پابندیاں عائد کیں جن کا اللہ نے کوئی حکم نہدیا تھا اور دوسری غلطی یہ کہ جن پابندیوں کو اپنے نزدیک وہ اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ سمجھ کر خود اپنے اوپر عائد کئے بیٹھے تھے ان کا حق ادا نہ کیا اور وہ حرکتیں کیں جن سے اللہ کی خوشنودی کے بجائے الٹا اس کا غضب مول لے بیٹھے۔

(تفہیم القرآن ج ٥ ص ٣٢٥‘ ترجمان القرآن ‘ لاہور ‘ ١٩٨٢ ئ)

اس عبارت میں سید مودودی نے کہا کہ اس قوم نے رہبانیت کی بدعت جو نکالی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت کی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رہبانیت کی بدعت نکالنے کی مذمت نہیں کی بلکہ اس کی رعایت نہ کرنے کی مذمت کی ہے۔ باقی ہماری شریعت میں رہبانیت نہیں ہے جیسا کہ ہم نے اس بحث کے شروع میں متعدد احادیث اور آثار سے واضح کیا ہے۔

سید مودودی کی تفسیر کے رد میں مفتی شفیع کی تفسیر سے تائید

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ حافظ ابن کثیر کے حوالے سے (تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٣٤٧) حضرت ابن مسعود (رض) کی ایک روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

اس حدیث سے معلوما ہوا کہ بنی اسرائیل میں سے اصل رہبانیت اختیار کرنے والے جنہوں نے رہبانیت کے لوازم کی رعایت کی اور مصائب پر صبر کیا وہ بھی نجات یافتہ لوگوں میں سے ہیں۔

آیت مذکورہ کی اس تفسیر کا حاصل یہ ہوا کہ جس طرح کی رہبانیت ابتداء اختیار کرنے والوں نے اختیار کی تھی ‘ وہ اپنی ذات سے مذموم اور بری چیز نہ تھی ‘ البتہ وہ کوئی حکم شرعی بھی نہیں تھا۔ ان لوگوں نے اپنی مرضی و خوشی سے اس کو اپنے اوپر لازم کرلیا تھا۔ برائی اور مذمت کا پہلو یہاں سے شر وع ہوا کہ اس التزام کے بعد بعض لوگوں نے اس کو نبھایا نہیں اور چونکہ تعداد ایسے ہی لوگوں کی زیادہ ہوگئی تھی ‘ اس لئے ” للاکثرحکم الکل ‘ یعنی اکثریت کے عمل کو کل کی طرف منسوب کردینا عرف عام ہے۔ اس قاعدہ کے موافق قرآن نے عام بنی اسرائیل کی طرف یہ منسوب کیا کہ انہوں نے جس رہبانیت کو اپنے اوپر لازم کرلیا تھا اس کو نبھایا نہیں اور اس کی شرائط کی رعایت نہیں کی ‘ اسی کو فرمایا : ” فما رعوھا حق رعایتھا “ (الحدید : ٢٧ )

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس رہبانیت کے متعلق جو قرآن نے فرمایا : ” ابتدا عوھا “ یعنی اس کو انہوں نے ایجاد کرلیا ‘ اس میں لفظ ” ابتداع “ جو بدعت سے مشتق ہے۔ وہ اس جگہ اپنے لغوی معنی یعنی اختراج و ایجاد کے لئے بولا گیا ہے ‘ شریعت کی اصطلاحی بدعت مراد نہیں ہے جس کے بارے میں حدیث میں ارشاد ہے : ” کل بدعۃ صلالۃ “ یعنی ہر بدعت گمراہی ہے۔

قرآن کریم کے نسق و نظم میں غور کریں تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ سب سے پہلے تو اس جملے پر نظر ڈالئے : ” وجعلنا فی قلوب الذین اتبعوۃ رافۃ و رحمۃ ورھبانیۃ “ (الحدید : ٢٧) جس میں حق تعالیٰ نے اپنی نعمت کے اظہار کے سلسلے میں فرمایا کہ ہم نے ان کے دلوں میں رافت ‘ رحمت ‘ رہبانیت پیدا کردی۔ نسق کلام بتلاتا ہے کہ جس طرح رأفت و رحمت مذموم نہیں ‘ اسی طرح ان کی اختیار کردہ رہبانیت بھی اپنی ذات سے کوئی مذموم چیز نہ تھی ‘ ورنہ مقام امتنان میں رأفت و رحمت کے ساتھ رہبانیت کا ذکر کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی ‘ اسی لئے جن حضرات نے مطلقاً رہبانیت کو مذموم و ممنوع قرار دیا ان کو اس جگہ رہبانیت کے عطف میں غیر ضروری تاویل کرنا پڑی کہ اس کو رأفت و رحمت پر عطف نہیں مانا بلکہ ایک مستقل جملہ یہاں محذوف قرار دیا ‘ یعنی ” ابتدعوا “ (کمافعلہ القرطبی (رح) ) لیکن مذکورہ تفسیر پر اس تاویل کی کوئی ضرورت نہیں رہتی ‘ آگے بھی قرآن کریم نے ان کے اس ابتداع پر کوئی نکیر اور رد نہیں فرمایا بلکہ نکیر اس پر کی گئی ہے کہ انہوں نے اختیار کردہ رہبانیت کو نبھایا نہیں۔ اس کے حقوق و شرائط کی رہایت نہیں کی۔ یہ بھی جب ہی ہوسکتا ہے کہ ابتداع کو لغوی معنی میں لیا جائے ‘ شرعی اور اصطلاحی معنی ہوتے تو قرآن خود اس پر بھی نکیر کرتا ‘ کیونکہ بدعت اصطلاحی خود ایک گمراہی ہے۔

اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مذکورہ حدیث سے اور بھی یہ بات واضح ہوگئی کہ ترہب اختیار کرنے والی جماعت کو نجات یافتہ جماعتوں میں شمار فرمایا ‘ اگر یہ بدعت اصطلاحی کے مجرم ہوتے تو نجات یافتہ شمار نہ ہوتے بلکہ گمراہوں میں شمار کئے جاتے۔

(معارف القرآن ج ٨ ص ٣٢٩۔ ٣٢٨‘ ادارۃ المعارف ‘ کراچی ‘ ١٤١٤ ھ)

حضرت ابن مسعود کی روایت کے کتب تفسیر اور کتب حدیث سے حوالے جات

حافظ ابن کثیر کی ذکر کردہ جس روایت سے ان راہبوں کا نجات یافتہ ہونا معلوم ہوتا ہے ‘ وہ روایت یہ ہے :

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم سے پہلے لوگ اکہتر فرقوں میں بٹ گئے ‘ ان میں سے تین فرقوں نے نجات پائی ‘ باقی ہلاک ہوگئے۔ ان تین میں سے ایک فرقہ بادشاہوں کے سامنے ڈٹ گیا اور ان سے حضرت عیسیٰ ابن مریم کے دین کی حمات میں قتال کیا۔ پس بادشاہوں نے ان کو شہید کردیا۔ دوسرے فرقہ میں قتال کرنے کی طاقت نہ تھی ‘ انہوں نے بادشاہوں کے سامنے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین کی تبلیغ کی۔ بادشاہوں نے ان کو بھی شہید کردیا اور ان کو آرو سے چیر ڈالا اور تیسرا فرقہ جس کو بادشاہوں سے قتال کرنے کی قوت تھی نہ ان کے سامنے تبلیغ کرنے کی طاقت تھی ‘ وہ جنگلوں اور پہاڑوں میں چلے گئے اور رہبانیت اختیار کی ‘ جیسا کہ اس آیت میں ہے کہ انہوں نے یہ رہبانیت صرف اللہ کی رضا کے لئے اختیار کی تھی۔ ہم نے اس کو ان پر فرض نہیں کیا تھا پھر انہوں نے اس کی کماحقہ ‘ رعایت نہیں کی۔ آپ نے فرمایا : ان راہبوں کے بعد کے لوگوں نے اس کی کماحقہ ‘ رعایت نہیں کی تھی۔ پس ان میں سے جو لوگ ایمان لائے ‘ ہم نے ان کو ان کا اجر عطا کیا اور ان میں سے اکثر فاسق تھے۔

(جامع البیان رقم الحدیث : ٢٦٠٨١‘ تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٨٨٣٤‘ معالم التنزیل ج ٥ ص ٣٥‘ تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٣٤٧‘ روح العانی جز ٢٧ ص ٢٩٤‘ الدرالمنشورج ٨ ص ٦٣۔ ٦٢‘ کتب تفسیر کے علاوہ یہ روایت ان کتب حدیث میں ہے : المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٦٢٤‘ المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٤٤٧٦‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٠٥٣١۔ ١٠٣٥٧‘ المستدرک ج ٢ ص ٤٨٠ قدیم ‘ رقم الحدیث : ٣٧٩٠ جدید ‘ الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث : ٩٠٦٥‘ مجمع الزوائد ج ٧ ص ٢٦١۔ ٢٦٠‘ تاریخ دمشق الکبیر ج ٣٨ ص ١٣٤‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ٢٧٥١٩‘ کنز العمال رقم الحدیث : ٤٣٥٢٥‘ سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی رقم الحدیث : ١٧٢٨ )

سید ابوالا علیٰ مودودی کی تفسیر ان تمام کتب تفسیر اور کتب حدیث کے خلاف ہے۔

بدعت کا لغوی اور اصطلاحی معنی

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ بدعت کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

” الابداع “ کا معنی ہے : کسی چیز کو ابتداء ً کسی مثال کے بغیر بنانا اور جب اس کا استعمال اللہ تعالیٰ کے لئے ہو تو اس کا معنی ہے کسی چیز کو بغیر آلہ ‘ بغیر مادہ اور بغیر زمان و مکان کے بنانا اور یہ معنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

ترجمہ : (البقرہ : ١١٧)… آسمانوں اور زمینوں کو ابتداء ًبغیر کسی نمونہ کے بنانے والا۔

اور مذہب میں بدعت کا معنی ہے : کسی شخص کا ایسا قول جس میں اس نے صاحب شریعت کی اتباع کی ہو نہ متقدمین کی نہ اصول شریعہ کی۔

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ فرمایا : ہر نیا کام (یا نیا قول) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی دوزخ میں ہے۔

(سنن نسائی رقم الحدیث : ١٥٧٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٦٧‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٥ ) ۔ (المفردات ج ١ ص ٤٩‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٨ ھ)

علامہ المبارک بن محمد بن اثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

بدعت کی دو قسمیں ہیں : بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ ‘ جو کام اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو ‘ وہ مذموم اور ممنوع ہے اور جو کام کسی ایسے عام حکم کا فرد ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے مستحب قرار دیا ہو یا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کام پر برانگیختہ کیا ہو اس کام کا کرنا محمود ہے اور جن کاموں کی پہلے مثل موجود نہ ہو جیسے سخاوت کی اقسام اور دوسرے نیک کام ‘ بشرطیکہ وہ خلاف شرع نہ ہوں کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے نیک کاموں پر ثواب کی بشارت دی ہے۔ آپ نے فرمایا : جس شخص نے کسی سنت حسنہ (نیک طریقہ) کو ایجاد کیا تو اس کو بھی اس کا اجر ملے گا اور اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی اس کو ملے گا اور اس کی ضد میں فرمایا : اور جس نے کسی برے طریقہ کو ایجاد کیا تو اس کو بھی اس کا گناہ ہوگا اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اس کو گناہ ہوگا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠١٧) اور یہ اس صورت میں ہوگا جب وہ کام اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کے خلاف ہو۔ (انہایہ ج ١ ص ١٠٦‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم ابن منظور افریقی مصری متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں :

بدعت کا معنی : حدیث ‘ نیا کام ‘ دین کے مکم ہونے کے بعد اس میں کوئی نئی چیز نکالی جائے۔ حضرزت عمر (رض) نے تراویح کے متعلق فرمایا : یہ اچھی بدعت ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠١٠) اس کے بعد علامہ ابن منظور نے علامہ ابن اثیر جزری کی مذکور الصدر پوری عبارت نقل کی ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے جو فرمایا : ” نعمت البدعۃ ھذہ “ یہ بھی اس قبیل سے ہے ‘ کیونکہ جب تراویح اچھے کاموں سے ہے تو وہ مدح کے تحت داخل ہے۔ اس لئے حضرت عمر نے اس کا نام بدعت رکھا اور اس کی مدح کی اور اس لئے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کے لئے تراویح کا طریقہ مقرر نہیں فرمایا تھا۔ آپ نے صرف چند راتیں تراویح پڑھی پھر اس کو ترک کردیا تھا۔ اس کی حفاظ نہیں کی اور نہ اس کے لئے لوگوں کو جمع کیا تھا اور نہ یہ حضرت ابوبکر (رض) کے زمانہ میں تھی۔ صرف حضرت عمر (رض) نے اس کے لئے لوگوں کو جمع کیا اور اس کی ترغیب دی اور اس وجہ سے انہوں نے اس کا نام بدعت رکھا اور حقیقت میں یہ سنت ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری سنت کو لازم رکھو اور میرے بعد خلفاء راشدین کی سنت کو لازم رکھو۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦٧٦‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٠٧‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢‘ مسند احمد ج ٤ ص ١٢٦) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پس ان لوگوں کی اقتداء کرو جو میرے بعد ہیں ‘ ابوبکر اور عمر کی۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٦٣‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٩٧‘ مسند احمد ج ٥ ص ٣٨٢)

اسی طرح جس حدیث میں ہے : ہر نیا کام بدعت ہے ‘ اس کا بھی محمل یہ ہے کہ جو نیا کام اصول شریعت کے خلاف ہو اور سنت کے موافق نہ ہو وہ بدعت ہے اور اکثر بدعت کا استعمال مذمت میں ہوتا ہے۔

(لسان العرب ج ٢ ص ٣٧‘ دار صادر ‘ بیروت ‘ ٢٠٠٣ ئ)

علامہ سید محمد مرتضیٰ زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ نے بدعت کے معنی میں من و عن علامہ ابن منظور کی عبارت نقل کردی ہے۔

(تاج العروس ج ٥ ص ٢٧١‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

علامہ محمد طاہر پٹنی گجراتی متوفی ٩٨٦ ھ نے بدعت کے معنی میں پہلے علامہ ابن اثیر اور علامہ ابن منظور کی عبارات کا خلاصہ لکھا ہے ‘ جس حدیث میں ہے : ہر بدعت گمراہی ہے ‘ اس سے اس بدعت کو خاص کرلیا ہے جو واجب ہے جیسے متکلمین کے دلائل اور جو بدعت مستحب ہے جیسے علم کی کتابوں کو تصنیف کرنا ‘ مدارس بنانا اور تراویح پڑھنا اور وہ بدعت جو مباح ہے ‘ جیسے کھانے پینے کی اشیاء میں وسعت۔

(مجمع بحار الانور ج ١ ص ١٦١۔ ١٦٠‘ مکتبہ دارالایمان ‘ المدینۃ المنورہ ‘ ١٤١٥ ھ)

علامہ ابو عمر یوسف بن عبداللہ ابن عبدالبر اندلسی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں :

بدعت کی دو قسمیں ہیں اگر وہ کام کسی مستحسن شرعی کے تحت درج ہو تو وہ بدعت حسنہ ہے اور اگر وہ کام کسی مستقبح شرعی کے تحتح درج ہو تو پھر وہ بدعت مستقبحہ ہے۔ (الاسد کار ج ٥ ص ١٤٧‘ مئوسسۃ الرسالۃ ‘ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ)

علامہ ابو العباس احمد بن عمر القرطبی المالکی المتوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں :

بدعت کی حقیقت یہ ہے کہ جس کام کی کسی اصل شرعی کے بغیر ابتداء کی گئی ہے۔

(المفہم ج ٢ ص ٥٠٨‘ دارابن کثیر ‘ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

علامہ بدالدین محمد بن بہادر زر کشی متوفی ٧٩٤ ھ لکھتے ہیں :

جو کام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں اور حضرت ابوبکر (رض) کے زمانہ میں نہ کیا گیا ہو وہ بدعت ہے اور بدعت کی دو قسمیں ہیں : خیر اور شر ‘ اور مذموم وہ بدعت ہے جو کسی امر شرعی کو زد کرے یا اس کی نفی کرے۔

(التنقیح علی الجامع الصحیح مع کشف المشکل ج ٣ ص ٥٣‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ٢٠٠٤ ئ)

علامہ بد الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

بدعت کی دو قسمیں ہیں اگر وہ کسی مستحسن شرعی کے تحت درج ہو تو وہ بدعت حسنہ ہے اور اگر وہ کسی مستقبح شرعی کے تحت درج ہو تو وہ بدعت مستقبحہ ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١١ ص ١٧٨‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

حافظ شمس الدین محمد بن عبدالرحمان سخاوی شافعی متوفی ٩٠٢ ھ لکھتے ہیں :

صحیح یہ ہے کہ اذان کے بعد صلٰوۃ وسلام پڑھنا بدعت حسنہ ہے۔ (القول البدیع ص ٢٨٠‘ مکتبۃ المئوید ‘ الطائف)

علامہ ابو یحییٰ زکریا بن محمد الانصاری الشافعی المتوفی ٩٢٦ ھ لکھتے ہیں :

حضرت عمر (رض) نے تراویح کی جماعت کو اس لئے بدعت فرمایا کہ اس کے لئے جماعت کا اہتمام مسنون نہیں تھا اور یہ بات گزر چکی ہے کہ بدعت کبھی مستحب بھی ہوتی ہے اور جس حدیث میں ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے ‘ وہ عام مخصوص البعض ہے کیونکہ تراویح کی جماعت بدعت ہے اور گمراہی نہیں ہے ‘ اسی وجہ سے حضرت عمر (رض) نے اس کی ترغیب دی ہے۔

(تحفۃ الباری شرح صحیح البخاری ج ٢ ص ٥٤٩۔ ٥٤٨‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٢٥ ھ)

ملا علی بن سطان محمد القاری الحنفی المتوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں :

امام شافعی نے فرمایا : جو کام کتاب ‘ سنت ‘ اثریا اجماع کے خلاف ہو وہ بدعت ضلالہ ہے اور جو نیا اور نیک کام ان میں سے کسی کے خلاف نہ ہو وہ مذموم نہیں ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر (رض) نے تراویح کی جماعت کے متعلق فرمایا : یہ اچھی بدعت ہے۔

(مرقاۃ المفاتیح ج ١ ص ٣٦٨‘ مکتبہ حقانیہ ‘ پشاور)

وہ فقہاء اسلام جن کے نزدیک بدعت کی پانچ قسمیں ہیں

علامہ یحییٰ بن شرف نودی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں :

بدعت کا شرعی معنی یہ ہے کہ وہ نیا کام جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں نہ ہو اور اس کی دو قسمیں ہیں : حسنہ اور قبیحہ (سیئہ) ۔ شیخ امام ابو محمد عبدالعزیز بن عبدالسلام (رح) و (رض) جو تمام علوم میں ماہر اور فائق ہیں اور جن کی جلالت اور امامت پر تمام کا اتفاق ہے ‘ انہوں نے ” کتاب القواعد “ کے آخر میں فرمایا : بدعت کی حسب ذیل اقسام ہیں : واجب ‘ حرام ‘ مستحب ‘ مکروہ اور مباح۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کے جاننے کا طریقہ یہ یکہ بدعت کا قواعد شریعہ سے موازنہ کیا جائے ‘ اگر وہ بدعت قواعد ایجاب کے تحت داخل ہو تو واجب ہے اور اگر قواعد تحریم کے تحت داخل ہے تو حرام ہے اور اگر قواعد استحباب کے تحت داخل ہو تو مستحب ہے اور اگر کراہت کے قاعدہ کے تحت داخل ہے تو مکروہ اور اباحت کے قاعدہ میں داخل ہے تو مباح ہے۔ بدعات واجبہ کی بعض مثالیں یہ ہیں : علم نحوکا پڑھنا ‘ جس پر قرآن اور حدیث کا سمجھنا موقوف ہے ‘ یہ اس لئے واجب ہے کہ عم شریعت کا حصول واجب ہے اور قرآن اور حدیث کے بغیر علم شریعت حاصل نہیں ہوسکتا اور جس چیز پر کوئی واجب موقوف ہو وہ بھی واجب ہوتی ہے۔ دوسری مثال : قرآن اور حدیث کے معانی جاننے کے لئے علم لغت کا حاصل کرنا ‘ تیسری مثال ہے : دین کے قواعد اور اصول فقہ کو مرتب کرنا ‘ چوتھی مثال ہے : سند حدیث میں جرح اور تعدیل کا علم حاصل کرنا تاکہ صحیح اور ضعیف حدیث میں امتیاز ہوسکے اور قواعد شرعیہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اپنی ضروریات سے زیادہ علم شریعت حاصل کرنا فرض کفایہ ہے اور یہ علم مذکور الصدر علوم کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ بدعات محرمہ کی بعض مثالیں یہ ہیں : قدریہ ‘ جبریہ ‘ مرحبہ اور مجسمہ کے نظریات (آج کل پرویزی ‘ چکڑالوی ‘ بہائی ‘ مرزائی ‘ رافضی ‘ اسماعیلی وغیرہ کے نظریات ‘ سعید غفرلہ ‘) اور ان لوگوں پر رد کرنا بدعات واجبہ کی قسم میں داخل ہے۔ بدعات مستحبہ کی بعض مثالیں یہ ہے : سرائے اور مدارس بنانا اور ہر ایسا اصلاحی اور فلاحی کام جو عہدرسالت میں نہیں تھا ‘ (تمام رمضان میں) جماعت تراویح ‘ تصوف کی دققبق ابحاث ‘ بدعقیدہ فرقوں سے مناظرہ اور اس مقصد کے لئے جلسے منعقد کرنا بشرطیکہ اس سے مقصود رضائے الٰہی ہو۔ بدعات مکروہ کی بعض مثالیں یہ ہیں : مساجد کی زیب وزینت (متاخرین فقہاء نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔ سعید غفرلہ ‘) مصحف قرآن کو مزین کرنا (یہ بھی متاخرین کے نزدیک جائز ہے۔ سعیدی غفرلہ ‘) بدعات مباح کی بعض مثالیں یہ ہیں : صبح اور عصر (کی نماز) کے بعد مصافحہ کرنا ‘ کھانے پینے پہننے اور رہائش کے معاملات میں وسعت کو اختیار کرنا ‘ سبز چادریں اوڑھنا ‘ کھلی آستینوں کی قمیص پہننا ‘ ان امور میں اختلاف ہے ‘ بعض علماء نے ان امور کو بدعات مکروہ میں داخل کیا ہے اور بعض علماء نے ان کو عہد رًسالت اور عہد صحابہ کی سنتوں میں داخل کیا ہے جیسے نماز میں ” اعوذ باللہ “ اور ” بسم اللہ “ جہراً پڑھنے میں سنت ہونے نہ ہونے کا اختلاف ہے۔

یہاں تک امام عبدالعزیز بن عبدالسلام کا کلام ہے ‘ اس کے بعد علامہ نووی فرماتے ہیں : امام بیہقی نے ” مناقف شافعی “ میں اپنی سند کے ساتھ امام شافعی (رض) سے روایت کیا ہے کہ بدعات کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ جو کتاب ‘ سنت ‘ اثریا اجماعل کے خلاف ہو ‘ یہ بدعت سیئہ ہے۔ دوسری قسم وہ نئے کام ہیں جن میں خیر ہو۔ ان میں کسی عالم کا اختلاف نہیں ہے اور یہ بدعت غیر مذموم ہے۔ حضرت عمر (رض) نے رمضان میں جماعت قائم کراکر فرمایا : یہ اچھی بدعت ہے ‘ یعنی یہ وہ کام ہے جو پہلے نہیں تھا کیونکہ یہ شریعت کے خلاف نہیں ہے ‘ یہ امام شافعی (رض) کی مکمل عبارت ہے۔

(تہذیب الاسماء و اللغات ج ١ ص ٢٣۔ ٢٢‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

علامہ شرف الدین حسین بن محمد الطیبی الشافعی المتوفی ٧٤٣ ھ لکھتے ہیں :

علامہ عزالدین بن عبدالسلام نے ” کتاب القواعد “ کے آخر میں لکھا ہے کہ بدعت کی پانچ قسمیں ہیں : (١) بدعت واجبہ جیسے قرآن اور حدیث کو سمجھنے کے لئے علم نحو میں مشغول ہونا (٢) بدعت محرمہ جیسے جبریہ ‘ قدریہ اور مرجئہ کے مذاہب اور ان کا رد کرنا بدعت واجبہ ہے۔ (٣) بدعت مستحبہ ‘ جیسے سرائے اور دینی مدارس بنانا اور ہر وہ نیک کام جو عہد رسالت میں نہیں تھا ‘ جیسے تراویح کی جماعت اور وعظ اور علمی مسائل کے لئے مجالس کو منعقد کرنا (٤) بدعت مکروہہ جیسے (دکھاوے کے لئے) مساجد کو مزین کرنا اور مصاحف کو مزین کرنا (٥) بدعت مباحہ جیسے صبح اور عصر کی نمازوں کے بعد مصافحہ کرنا اور انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مشروبات۔

(شرح العلیمی ج ١ ص ٢٩٦‘ ادارۃ القرآن کراچی ‘ ١٤١٣ ھ)

علامہ محمد بن خلیفہ الوشتانی الابی المالکی المتوفی ٨٢٨ ھ اور علامہ سنوسی مالکی متوفی ٨٩٥ ھ لکھتے ہیں :

جس حدیث میں ہے : ہر بدعت گمراہی ہے ‘ وہ عام مخصوص البعض ہے اور بدعت کی پانچ قسمیں ہیں : واجبہ ‘ مستحبہ ‘ مباحہ ‘ مکروہہ اور محرمہ۔ پھر ان کی وہی تعریفیں کی ہیں جو علامہ طیبی نے کی ہیں۔

(اکمال اکمال المعلمج ٣ ص ٢٣٥۔ ٢٣٤‘ ومکمل اکمال الاکمال ج ٣ ص ٢٣٥‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :

بدعت ‘ اصل میں اس نئے کام کو کہتے ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو اور شریعت میں اس نئے کام کو کہتے ہیں جو سنت کے مقابلہو ‘ پس بدعت مذموم ہوتی ہے اور تحقیق یہ ہے کہ وہ نیا کام اگر اس اصول کے تحت درج ہو جو شریعت میں مستحسن ہو تو وہ بدعت حسنہ ہے اور اگر وہ نیا کام اس اصول کے تحت درج ہو جو شریعت میں قبیح ہے تو وہ بدعت قبیحہ ہے ‘ ورنہ وہ مباح کی قسم ہے اور بدعت پانچ احکام کی طرف منقسم ہوتی ہے۔

(فتح الباری ج ٤ ص ٧٨٢‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

علامہ شہاب الدین احمد القسطلانی المتوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں :

بدعت کی پانچ قسمیں ہیں : واجبہ ‘’ مستحبہ ‘ محرمہ ‘ مکروہہ ‘ مباحہ اور جس حدیث میں ہے : ہر بدعت گمراہی ہے ‘’ وہ عام مخصوص البعض ہے۔

(ارشاد الساری ج ٤ ص ٦٥٦‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں :

حدیث میں ہے : ہر بدعت گمراہی ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٦٧) علامہ نووی شافعی ٦٧٦ ھ نے کہا : یہ حدیث عام مخصوص البعض ہے اور اس سے مراد غالب بدعات ہیں۔ علماء نے کہا : بدعت کی پانچ قسمیں ہیں : واجبہ ‘ مستحبہ ‘ محرمہ ‘ مکروہہ اور مباحہ۔ (صحیح مسلم بشرح النواوی ج ٤ ص ٢٤٦٨) (الدیباج ج ١ ص ٤٣٣‘ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ‘ ١٤١٢ ھ)

علامہ احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیتمی مکی شافعی متوفی ٩٧٤ ھ لکھتے ہیں :

بدعت پانچ احکام کی طرف منقسم ہوتی ہے : وجوب ‘ استحباب ‘ اباحت ‘ کراہت اور تحریم ‘ پھر ہر ایک کی مثالیں دی ہیں۔

(الفتاویٰ الحدیثیہ ص ٢٠٣‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

علامہ محمد بن عبدالباقی بن یوسف الزرقانی مالکی متوفی ١١٢٢ ھ لکھتے ہیں :

بدعت کا لغوی معنی ہے وہ نیا کام جس کی پہلے مثال نہ ہو اور اس کا شر عی معنی ہے وہ کام جو سنت کے خلاف ہو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں نہ ہو اور یہ پانچ احکام کی طرف منقسم ہوتی ہے۔

(شرح الزرقانی علی الموطاء امام مالک ج ١ ص ٣٦١‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین دمشقی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

بدعت کی پانچ قسمیں ہیں : واجبہ ‘ مستحبہ ‘ مباحہ ‘ مکروہہ اور محرمہ ‘ پھر ہر ایک کی مثالیں دی ہیں اور بدعت محرمہ کی یہ تعریف کی ہے :

ہر وہ نیا کام جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حاصل شدہ حق کے خلاف ہو ‘ خواہ وہ علم (اعتقاد) ہو یا عم ہو یا حال ہو اور اس کی بنیاد کسی قسم کے شبہ یا استحسان پر ہو اور اس کو دین قویم اور صراط مستقیم بنا لیا جائے۔

(ردالمحتارج ٢ ص ٢٥٦‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

بدعت کی تقسیم کے متعلق علماء دیوبند کی تصریحات

شیخ شبیر احمد عثمانی متوفی ١٣٦٩ ھ نے علامہ نووی کے حوالے سے بدعت کی مذکور الصدر پانچ قسمیں لکھی ہیں۔

(فتح الملھم ج ٢ ص ٤٠٦‘ مکتبۃ الحجاز ‘ کراچی)

شیخ محمد زکریا بن محمد بن یحییٰ الکاندھلوی متوفی ١٣٩٦ ھ/١٩٧٦ ء لکھتے ہیں :

علامہ عینی نے کہا ہے : بدعت اصل میں اس نئے کام کے کرنے کو کہتے ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں نہ ہو اور اس کی دو قسمیں ہیں : اگر وہ کام کسی مستحسن شرعی کے تحت درج ہو تو وہ بدعت حسنہ ہے اور اگر وہ کام کسی مستقبح شرعی کے تحت درج ہو تو وہ بدعت مستقبحہ ہے۔

(اوجز المسالک ج ٢ ص ٣٨٢‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤٢٠ ھ)

شیخ محمد ادریس کا ندھلوی متوفی ١٣٩٤ ھ لکھتے ہیں ‘ بدعت کی حسب ذیل قسمیں ہیں :

واجبہ ‘ محرمہ ‘ مستحبہ ‘ مباحہ اور مکروہہ اور ہر ایک کی مفصل مثالیں لکھی ہیں۔ (التعلیق الصبیح ج ١ ص ١١٥‘ مکتبہ عثمانیہ ‘ لاہور)

بدعت کی تقسیم کے متعلق شیخ ابن تیمیہ کی تصریحات

شیخ تقی الدین احمد بن تیمیہ الحرانی المتوفی ٧٢٨ ھ لکھتے ہیں :

دین میں بدعت نکالنا اگرچہ اصل میں مذموم ہے ‘ جیسا کہ کتاب اور سنت کی اس پر دلالت ہے اور اس میں بدعات قولیہ اور فعلیہ برابر ہیں کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ طریق عموم فرمایا : ہر بدعت گمراہی ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٦٧‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٥٧٨‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٥‘ مسند احمد ج ٣ ص ٣١٠) اور اس حدیث کے عموم پر عمل کرنا واجب ہے اور جس نے بدعت کی دو قسمیں کی ہیں ‘ حسن اور قبیح اس نے خطا کی ہے ‘ جیسا کہ فقہائ ‘ متکلمین اور صوفیاء نے کیا ہے اور ہر وہ طریقہ جو نص نبوت کے خلاف ہو وہ گمراہی ہے۔

اور جس کام کا نام بدعت حسنہ رکھا گیا ہے اس کا حسن دلائشرعیہ سے ثابت ہے تو اس کے لئے دو چیزوں میں سے ایک لازم ہے۔

(١) یا تو یہ کہا جائے گا کہ وہ کام دین میں بدعت نہیں ہے ‘ اگرچہ اس کو لغت کے اعتبار سے بدعت کہا جائے گا جیسا کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ” نعمت البدعۃ ھذہ “۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠١٠)

(٢) یا یہ کہا جائے کہ یہ حدیث : ہر بدعت گمراہی ہے ‘ اس کا حکم عام ہے ‘ مگر اس سے بعض بدعات خاص کرلی گئی ہیں کیونکہ اس عموم کا معارض راجح ہے اور جیسا کہ کتاب اور سنت کے اور عمومات تخصیص کے بعد اپنے عموم پر باقی رہتے ہیں ‘ اسی طرح یہ حکم عام بھی ہے۔

(مجموعۃ الفتاویٰ ج ١٠ ص ٢١٥۔ ٢١٤‘ دارالنجیل ‘ ریاض ‘ ١٤١٨ ھ)

نیز شیخ ابن تیمیہ بدعات سیئہ کا ذکر کرتے ہیں :

اسی معنی کیوجہ سے شطرنج اور جوئے کی دیگر اقسام مکرو ہیں کیونکہ یہ آپس میں عداوت اور بغض پیدا کرتی ہیں۔ اسی طرح غنا ہے کیونکہ یہ دل میں نفاق پیدا کرتا ہے اور زنا کی طرف ابھارتا ہے اور قلب کو علم نافع اور عمل صالح سے روکتا ہے اور برائیوں کی دعوت دیتا ہے اور نیکیوں سے منع کرتا ہے۔

اسی طرح بدعات اعتقادیہ اور عملیہ ہوتی ہیں۔ جو کلمات طیبہ اور اعمال صالحہ سے روکتی ہیں اور وہ حق کے ترک کو متضمن ہوتی ہیں اور ان میں اعتقاد اور عمل کا فساد ہوتا ہے۔ (مجموعۃ الفتاویٰ ج ٢٠ ص ١٠٧ ذ دارالجیل ‘ ریاض ‘ ١٤١٨ ھ)

شیخ ابن تیمیہ بدعت حسنہ کی تعریف میں لکھتے ہیں :

جو علماء بدعت کی حسنہ اور سیئہ کی طرف تقسیم کے قائل ہیں ‘ ان کے نزدیک بدعت حسنہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ جن اہل علم کی اقتداء کی جاتی ہے انہوں نے اس کو مستحب قرار دیا ہو اور اس کے استحباب پر دلیل شرعی قائم ہو۔

(مجموعۃ الفتاویٰ ج ٢٧ ص ٨٧‘ دارالجیل ‘ ریاض ‘ ١٤١٨ ھ)

شیخ ابن تیمیہ بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کی میزد مثالیں دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

یہ کام جس کو حضرت عمر (رض) نے کیا (تراویح کی جماعت) یہ سنت ہے ‘ لیکن انہوں نے کہا : ” نعمت البدعۃ ھذہ “ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠١٠) یہ اچھی بدعت ہے کیونکہ یہ لغت کے اعتبار سے بدعت ہے اور صحابہ نے وہ کام کیا جس کو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں نہیں کرتے تھے ‘ یعنی اس کی مثل کے لئے مجتمع ہونا اور یہ شریعت میں سنت ہے۔

اسی طرح یہود اور نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکالنا اور یہ حجاز ‘ یمن اور یمامہ ہے اور ہر وہ شہر جس پر فارس اور روم نہیں پہنچا ‘ وہ جزیرہ عرب ہے اور شہروں میں سے ایک شہر ہے ‘ جیسے کوفہ اور بصرہ اور قرآن کو مصحف واحد میں جمع کرنا اور وظائف مقرر کرنا اور جمعہ کے دن پہلی اذان دینا ‘ اور عید کے دن شہر سے باہر نماز پڑھانے کے لئے امام مقرر کرنا اور اس قسم کے اور بہت کام جن کو خلفاء راشدین نے سنت قرار دیا کیونکہ ان کاموں کو انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے سنت بنایا ‘ لہٰذا یہ تمام کام سنت ہیں ‘ اگرچہ لغت کے اعتبار سے ان کاموں کو بدعت کہا جاتا ہے۔

رہابہ آواز بلند نیت کرنا اور اس کو بار بار دہرانا تو وہ بدعت سیئہ ہے اور اس پر مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ یہ مستحب نہیں ہے کیونکہ یہ وہ کام ہے جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا ہے نہ خلفاء راشدین نے۔

(مجموعۃ الفتاویٰ ج ٢٢ ص ١٤٢‘ دارالجیل ‘ ریاض ‘ ١٤١٨ ھ)

علامہ اسماعیل حقی اور شیخ ابن تیمیہ کے موقف کا تجزیہ

علامہ اسماعیل حقی حنفی اور شیخ ابن تیمیہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ وہ بدعت حسنہ پر سنت کا اطلاق کرتے ہیں اور اس کو بدعت حسنہ نہیں کہتے لیکن دونوں کی وجہ الگ الگ ہے۔ علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں : کی وجہ یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” من سن فی الاسلام سنۃ حسنۃ “۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠١٧) جو شخص اسلام میں نیک اور اچھی سنت نکال ‘ پس جو شخص اسلام میں کوئی نئی اور نیک عبادت نکالے ‘ اس کو آپ نے سنت فرمایا ہے بدعت نہیں فرمایا۔ اس لئے بدعت حسنہ درحقیقت سنت ہے اور شیخ ابن تیمیہ کہتے ہیں : دین میں جو نئے کام نکالے گئے جیسے تراویح کی جماعت ‘ قرآن کو مصحف واحد میں جمع کرنا اور جمعہ کے دن پہلی اذان دینا اور اس جیسے اور بہت کام ‘ یہ سب کام اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے ہی کئے گئے ہیں ‘ اس لئے یہ سب کام بدعت حسنہ نہیں بلکہ سنت ہی ہیں۔

بدعت کی تقسیم کے متعلق علماء غیر مقلدین کی تصریحات

مشہور غیر مقلد عالم محمد بن علی بن محمد شوکانی متوفی ١٢٥٠ ھ لکھتے ہیں :

حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ” نعمت البدعۃ “۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠١٠) حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ نے ” فتح الباری “ (ج ٤ ص ٧٨٢‘ دارالفکر ‘ بیروت) میں کہا : بدعت اصل میں اس نئے کام کو کہتے ہیں جس کی پہلی کوئی مثال نہ ہو اور شریعت میں اس نئے کام کو کہتے ہیں جو سنت کے مقابلہو۔ پس بدعت مذموم ہوتی ہے اور تحقیق یہ ہے کہ وہ نیا کام اگر اس اصول کے تحت درج ہو جو شریعت میں مستحسن ہو تو وہ بدعت حسنہ ہے اور اگر وہ نیا کام اس اصول کے تحت درج ہو جو شریعت میں قبیح ہے تو وہ بدعت قبیحہ ہے ورنہ وہ مباح کی قسم سے ہے اور بدعت پانچ احکام کی طرف منقسم ہوتی ہے۔

(نیل الاوطارج ٢ ص ٣١٢‘ دارالوفائ ‘ ١٤٢١ ھ)

ایک اور غیر مقلد عالم شیخ وحید الزمان متوفی ١٣٢٨ ھ لکھتے ہیں :

بدعت لغویہ کی یہ قسمیں ہیں : مباحۃ ‘ مکروہۃ ‘ حسنۃ اور سیئہ۔ (ہدیۃ المہدی ص ١١٦ طبع قدیم ‘ میور پریس ‘ دہلی ‘ ١٣٢٦ ھ)

شیخ ابو الحسن عبداللہ بن محمد عبدالسلام مبارک پور لکھتے ہیں :

بدعت ضلالہ سے مراد وہ بدعت ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو اور جس کی شریعت میں کوئی اصل ہو جو اس پر دلالت کرے وہ بدعت لغوی ہے اور سلف صالحین کے کلام میں جس بدعت کو حسن کہا گیا ہے ‘ اس سے مراد یہی بدعت ہے ‘ جیسے حضرت عمر (رض) نے تراویح کے متعلق کہا : یہ اچھی بدعت ہے۔ (مرعاۃ المفاتیح ج ١ ص ٢٦٤‘ مکتبۃ الرحمان سلفیہ ‘ سرگودھا ‘ طبع ثانی)

رہبانیت کی رعایت نہ کرنے والوں کے مصادیق

الحدید : ٢٧ کے آخر میں فرمایا : پھر انہوں نے اس (رہبانیت) کی ایس یرعایت نہ کی جو رعایت کرنے کا حق تھا ‘ پس ہم نے ان میں سے ایمان والوں کو ان کا اجر عطا فرمایا اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔

امام ابو جعفر محمد بن جریرطبری متوفی ٣١٠ ھ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

صحت اور صواب کے سب سے زیادہ قریب قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کے متعلق فرمایا ہے کہ انہوں نے رہبانیت کی کماحقہ ‘ رعایت نہیں کی۔ یہ ان لوگوں میں سے بعض ہیں جنہوں نے رہبانیت کی بدعت نکالی تھی ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ پس ہم نے ان میں سے ایمان والوں کو ان کا اجر عطا فرمایا اور آیت کا یہ حصہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ رہبانیت کی بدعت نکالنے والوں میں سے بعض وہ بھی تھے ‘ جنہوں نے رہبانیت کی کماحقہ ‘ رعایت کی تھی اور اگر ان میں سے ایسے لوگ نہ ہوتے تو وہ اس اجر کے مستحق نہ ہوتے جس کا اللہ عز و جل نے ذکر فرمایا ہے اور جن لوگوں نے رہبانیت کی کماحقہ ‘ رعایت نہیں کی ‘ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہی لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے رہبانیت کی بدعت نکالی تھی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ان کے بعد کے لوگوں میں سے ہوں۔

(جامع البیان جز ٢٧ ص ٣١٢‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے اس کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ذکر کئے ہیں :

(١) یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے رہبانیت کی بدعت نکالی تھی اور انہوں نے اس کی کماحقہ ‘ رعایت نہیں کی اور اس کے ساتھ انہوں نے تثلیث اور اتحاد کو ملا دیا اور ان میں سے بعض لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر قائم رہے حتیٰ کہ انہوں نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ پالیا ‘ پھر وہ آپ پر ایمان لے آئے اور ان ہی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا : پس ہم نے ان میں سے ایمان والوں کو ان کا اجر عطا فرمایا۔

(٢) ہم نے ان پر رہبانیت کو صرف اس لئے فرض کیا تھا کہ وہ اس کے وسیلہ سے اللہ کی رضا کو حاصل کریں ‘ پھر انہوں نے یہ افعال ‘ دنیا کی طلب اور ریا کاری کے طور پر کئے۔

(٣) پھر جب ہم نے ان پر رہبانیت کو فرض کردیا تو انہوں نے اس کو ترک کردیا سو ان کی مذمت اس فرض کو ترک کرنے کی وجہ سے ہے۔

(٤) جن لوگوں نے رہبانیت کی کماحقہ ‘ رعایت نہیں کی۔ یہ وہیں جنہوں نے سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پایا اور آپ پر ایمان نہیں لائے اور جن کے متعلق فرمایا : پس ہم نے ان میں سے ایمان والوں کو ان کا اجر عطا فرمایا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اور جن کے متعلق فرمایا ہے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آپ پر ایمان نہیں لائے ‘ اس پر دلیل اس حدیث میں ہے :

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص مجھ پر ایمان لایا اور میری تصدیق کی اور میری اتباع کی اس نے رہبانیت کی کماحقہ ‘ رعایت کی اور جو لوگ مجھ پر ایمان نہیں لائے ‘ سو وہی لوگ ہلاک ہونے والے ہیں۔

(المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٤٤٧٦‘ مجمع الزوائد ج ١ ص ١٦٣ )

(٥) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے صالحین نے رہبانیت کی بدعت نکالی اور وہ اس بدعت پر قائم رہتے ہوئے گزر گئے۔ پھر ان کے بعد ایک اور قوم جس نے محض زبانی ان کی اقتداء کی اور عمل میں ان کے اتباع نہیں کی اور انہوں نے رہبانیت کی کماحقہ ‘ رعایت نہیں کی۔ عطاء نے کہا : انہوں نے الحواریون کی طرح رہبانیت کی رعایت نہیں کی ‘ پھر فرمایا : اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ اس کا معنی ہے : بعض لوگوں نے اس کی رعایت کی اور ان میں سے اکثر لوگوں نے فسق (نافرمانی) کو ظاہر کیا اور رہبانیت کے طریقہ کو ظاہر اور باطناً ترک کردیا۔ (تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٤٧٤‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

علامہ الحسین بن مسعود البغوی متوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

یعنی ان صالحین نے رہبانیت کی بدعت نکالی تھی پھر بعد میں آنے والے لوگوں نے اس کی کماحقہ ‘ رعایت نہیں کی اور جن لوگوں نے اللہ کی رضا کے لئے رہبانیت کی بدعت نکالی تھی ‘ ان کے متعلق فرمایا : پس ہم نے ان میں سے ایمان والوں کو ان کا اجر عطا فرمایا اور جو لوگ ان کے بعد آئے اور انہوں نے رہبانیت کی کماحقہ ‘ رعایت نہیں کی ‘ ان کے متعلق فرمایا : اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو ان صالحین میں سے بہت کم باقی بچے تھے ‘ حتیٰ کہ ان میں سے ایک شخص اپنے گرجا سے نکلتا اور آپ پر ایمان لے آتا اور ایک سیاح اپنی سیاحت سے واپس آتا اور آپ پر ایمان لے آتا۔

(معالم التنزیل ج ٥ ص ٣٥‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

زجاج نے کہا : رہبانیت کی کماحقہ ‘ رعایت نہ کرنے والوں کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ ہیں جنہوں نے رہبانیت میں تقصیر کی اور جو کچھ انہوں نے اپنے اوپر لازم کیا تھا اس میں کوتاہی کی اور دوسری قسم وہ ہے اور وہی عمدہ ہے کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تک رہے اور آپ پر ایمان نہیں لائے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو ترک کرنے والے تھے ‘ سو انہوں نے اس رہبانیت کی کماحقہ رعایت نہیں کی اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پس ہم نے ان میں سے ایمان والوں کو ان کا اجر عطا فرمایا اور یہ ایمان لانے والے وہ ہیں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تک رہبانیت پر رہے اور آپ پر ایمان لائے اور فرمایا : اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کا زمانہ پایا اور آپ پر ایمان نہیں لائے۔

اور اس آیت کی یہ تفسیر کرنا صحیح نہیں ہے کہ کماحقہ ‘ رہبانیت کی رعایت کرنے والے وہ ہیں جو رہبانیت کے منسوخ ہونے سے پہلے اس پر عمل کرتے تھے اور رہبانیت کی کماحقہ ‘ٔ رعایت نہ کرنے والے وہ ہیں جنہوں نے اس میں تثلیث ‘ اللہ اور حضرت عیسیٰ کے اتحاد کے قول اور ریاکاری کو ملا دیا تھا۔ نیز یہ تفسیر حضرت ابن مسعود کی اس روایت کے بھی خلاف ہے جس کو امام طبرانی ‘ امام حاکم اور امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ (روح المعانی جز ٢٧ ص ٢٩٤‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

صحیح بات یہ ہے کہ جن صالحین نے رہبانیت کی بدعت نکالی تھی۔ انہوں نے اس کی کماحقہ ‘ رعایت کی اور ان ہی کی اللہ تعالیٰ نے تحسین فرمائی ہے اور ان کو اجر عطا فرمانے کا ذکر کیا ہے پھر بعد کے زمانہ میں رہبانیت میں بگاڑ شروع ہوگیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تک اس میں کافی بگاڑ ہوچکا تھا اور اسی رہبانیت کی آپ نے مذمت فرمائی ہے اور اس کا رد فرمایا ہے :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ‘ ورنہ تم پر بھی سختی کی جائے گی کیونکہ ایک قوم نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کی۔ یہ ان کے باقی ماندہ گرجے اور معاہد ہیں ‘ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی : ” ورھبانیۃ ابتدعوھا ما کتبنھا علیہم “ (الحدید : ٢٧ ) ۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٩٠٤)

القرآن – سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 27

Exit mobile version