(یہ اموال) ان فقراء مہاجرین کے لئے ہیں جن کو ان کے گھروں سے اور ان کے اموال سے نکال دیا گیا وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کو طلب کرتے ہیں اور اللہ (کے دین) کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، وہ لوگ وہی سچے ہیں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ اموال ان فقرئا مہاجرین کے لئے ہیں جن کو ان کے گھروں سے اور ان کے اموال سے ناکل دیا گیا وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کو طلب کرتے ہیں اور اللہ (کے دین) کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، وہ لوگ وہی سچے ہیں۔ اور (یہ اموال) ان لوگوں کے لئے ہیں جو دار ہجرت میں اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا چکے ہیں اور وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ان کی طرف ہجرت کر کے آئے اور وہ آپ دلوں میں اس چیز کی کوئی طلب نہیں پاتے جو ان مہاجروں کو دی گئی ہے اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں خواہ انہیں شدید ضرورت ہو اور جن کو ان کے نفسوں کے بخل سے بچایا گیا سو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (الحشر :8-9)
فقراء مہاجرین کا صادق ہونا حضرت ابوبکر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلافت کے صادق ہونے کو مستلزم ہے
اس آیت (الحشر : ٨) میں مہاجرین سے مراد وہ لوگ ہیں، جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت اور آپ کی نصرت کے لئے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی، قتادہ نے کہا : یہ وہ مہاجرین ہیں جنہوں نے اپنے گھروں، اپنے مالوں اور اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور اپنی اولاد کو اور اپنے وطن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاطر چھوڑ دیا، حتیٰ کہ ان میں سے ایک شخص بھوک کی شدت سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا تاکہ اس کی کمر سیدھی رہے اور ان میں سے کسی شخص کے لئے سردی سے بچائو کے لئے گرم کپڑے نہیں ہتے تھے۔
اور فرمایا : ان کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، کفار نے ان کو ان کے گھروں سے نکال دیا اور ان کو ان کا وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا اور یہ ایک سو نفر تھے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 18 ص 20)
نیز فرمایا : وہی لوگ سچے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ففقراء مہاجرین کو صادق فرمایا ہے اور یہی لوگ ہیں جنہوں نے حضرت ابوبکر (رض) کے ہاتھ پر بیعت کی اور انہوں نے حضرت ابوبکر (رض) کو سب سے پہلے خلافت کا مستحق قرار دیا تھا اور ان کا صادق ہونا حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت کے صادق ہونے کو مستلزم ہے۔