Site icon اردو محفل

مَا قَطَعۡتُمۡ مِّنۡ لِّيۡنَةٍ اَوۡ تَرَكۡتُمُوۡهَا قَآئِمَةً عَلٰٓى اُصُوۡلِهَا فَبِاِذۡنِ اللّٰهِ وَلِيُخۡزِىَ الۡفٰسِقِيۡنَ – سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 5

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا قَطَعۡتُمۡ مِّنۡ لِّيۡنَةٍ اَوۡ تَرَكۡتُمُوۡهَا قَآئِمَةً عَلٰٓى اُصُوۡلِهَا فَبِاِذۡنِ اللّٰهِ وَلِيُخۡزِىَ الۡفٰسِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ دیئے یا جن کو ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا سو وہ اللہ کے اذن سے ہوا اور تاکہ وہ فاسقوں کو ذلیل کرے

صحابہ کے اجتہاد کی تصدیق

الحشر : ٥ میں فرمایا : تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ دیئے یا جن کو ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا سو وہ اللہ کے اذن سے ہوا۔

اس آیت میں ” لینۃ “ کا لفظ ہے ” لینۃ “ کا معنی ہے : کھجور کا تروتازہ اور شاداب درخت خواہ وہ کسی قسم کی کھجور ہو۔

ابو عبیدہ نے کہا :” لینۃ “ اس درخت کو کہیت ہیں : جس کی کھجوریں نہ عجوہ ہوں، نہ برنی ہوں۔

علامہ ابو اسحاق احمد بن ابراہیم ثعلبی متویف ٤٢٧ ھ لکھتے ہیں :

جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بن وضنیر کی بستی میں پہنچے تو بنو نضیر اپنے قلعوں میں بند ہوگئے، آپ نے حکم دیا کہ ان کی کھجور کے درختوں کو کاٹ دیا جائے اور جلا دیا جائے، اس وقت اللہ کے ان دشمنوں نے فرمایا کی : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ نیک کام کرتے ہیں، کیا یہی نیکی ہے کہ درختوں کو کاٹ دیا جائے، کیا آپ کی کتاب میں یہ حکم نازل کیا گیا ہے کہ زمین میں فساد کیا جائے ؟ مسلمان ان کی یہ بات سن کر ڈرے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ کام فساد ہو، پھر مسلمانوں میں اختلاف ہوگیا، بعض نے کہا، ان درختوں کو نہ کاٹو ان درختوں کو اللہ تعالیٰ نے ہماری ملک میں لوٹا دیا ہے اور بعض نے کہا، نہیں ! ہم ان درختوں کو کاٹ کر بنو نضیر کو غیظ اور غم و غصہ میں مبتلا کریں گے، تب اللہ تعالیٰ نے ان دونوں فریقوں کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی کہ جن مسلمانوں نے ان درختوں کو کاٹا ہے، وہ بھی اللہ کے حکم سے ہے اور جن مسلمانوں نے ان درختوں کو بغیر کاٹے چھوڑ دیا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے۔ (الکشف و البیان ج ٩ ص ٢٧٠ داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤٢٢ ھ)

بنو نضیر کے درختوں کو کاٹنا اور چھوڑ دینا، آیا صحابہ کے اجتہاد سے تھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) … کے اجتہاد سے ؟

علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو نضیر کے قلعوں کے پاس مقام البویرہ میں پہنچے تو آپ نے ان کی بستی کا محاصرہ کرلیا، کیونکہ غزوہ احد میں انہوں نے مشرکین کی مدد کر کے آپ سے کئے ہوئے معاہدہ کی خلاف ورزی کی، تو مسلمانوں نے ان کے کھجور کے درختوں کو کاٹ ڈالا اور چھ درختوں کو جلا دیا اور امام محمد بن اسحاق نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک درخت کو کاٹ دیا تھا اور ایک درخت کو جلا دیا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس کارروائی پر برقرار رکھا تھا۔ (النکت والیعون ج ٥ ص ٥٠١)

اور امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے اپنی سند سے روایت کیا ہے :

یزید بن رومان نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو نضیر کی بستی میں پہنچے تو وہ قلعہ بند ہوگئے، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ ان کے کھجور کے درختوں کو کاٹ دیا جائے اور جلا دیا جائے، اس پر انہوں نے اعتراض کیا کہ آپ تو فساد کرنے سے منع کرتے تھے اور اس کی مذمت کرتے تھے اور اب خود درختوں کو کاٹ رہے ہیں اور جلا رہے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :” ما قطعتم من لینۃ اوترکتموھا قآئمۃ علی اصولھا فباذن اللہ “ (الحشر : ٥)

قتادہ نے کہا، بعض مسلمانوں نے درخت کاٹ دیئے اور بعض نے اس خیال سے نہیں کاٹے کہ کہیں یہ فساد نہ ہو۔ (جامع البیان جز 28 ص 44 رقم الحدیث :26219-26220 دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابوالحسن الماوردی لکھتے ہیں کہ درختوں کو کاٹنے اور جلانے کے بعد مسلمانوں کے دل میں خدشہ ہوا، بعض نے کہا، یہ زمین میں فساد کرنا ہے اور بعض نے کہ کا، ان میں حضرت عمررضی اللہ عنہا بھی تھے، کہ یہ اللہ کا اپنے دشمنوں کو ذلیل کرنا ہے اور مسلمانوں کی مدد کرنا ہے، پھر مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : یا رسول اللہ ! ہم نے جو کارروائی کی ہے اس پر ہم کو اجر ملے گا یا گناہ ہو گاڈ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ دیئے یا جن کو ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا، سو وہ اللہ کے اذن سے ہوا اور تاکہ وہ فاسقوں کو ذلیل کرے۔ (الحشر : ٥) اس سے معلوم ہوا کہ جن مسلمانوں نے اپنے اجتہاد سے درختوں کو کاٹ دیا تھا وہ بھی صحیح تھا اور جنہوں نے اپنے اجتہاد سے درختوں کو نہیں کاٹا ان کا اجتہاد بھی صحیح تھا۔ (النکتت و العیون ج ٥ ص 502 دارالکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی المالکی المتوفی ٥٤٣ ھ لکھتے ہیں :

بعض علماء نے کہا، اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر مجتہد کا اجتہاد صحیح ہوتا ہے، لیکن یہ قول باطل ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے مسلمانوں کا اجتہاد کرنا جائز نہ تھا، البتہ یہ آیت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اجتہاد پر دلیل ہے کیونکہ اس خاص معاملہ میں آپ پر کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا اور چونکہ عمومی طور پر کفار کو ذلیل کرنے کا حکم ہے، اس لئے آپ نے کافروں کے درختوں کو کاٹنے کا حکم دیا یا مسلمانوں کو کاٹنے سے منع نہیں فرمایا اور جب اس پر بنو نضیر نے اعتراض کیا تو آپ کی تائید اور تصویب میں الحشر : ٥ نازل ہوگئی۔ (احکام القرآن ج ٤ ص ٤١١، دارلاکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٠٨ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 5

Exit mobile version