Site icon اردو محفل

وَلَوۡلَاۤ اَنۡ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمُ الۡجَـلَاۤءَ لَعَذَّبَهُمۡ فِى الدُّنۡيَا‌ؕ وَلَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 3

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡلَاۤ اَنۡ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمُ الۡجَـلَاۤءَ لَعَذَّبَهُمۡ فِى الدُّنۡيَا‌ؕ وَلَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ ۞

ترجمہ:

اور اگر اللہ نے ان کے لئے جلا وطنی کو مقدر نہ کردیا ہوتا تو وہ ان کو ضرور دنیا میں عذاب دیتا اور ان کے لئے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر اللہ نے ان کے لئے جلا وطنی کو مقدر نہ کردیا ہوتا تو وہ ان کو ضرور دنیا میں عذاب دیتا اور ان کے لئے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی، اور جو اللہ کی مخالفت کرے تو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ دیئے یا جن کو ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا، سو وہ اللہ کے اذن سے ہوا اور تاکہ وہ فاسقوں کو ذلیل کرے۔ (الحشر : ٥-٣)

” الجلاء “ کا معنی

اس آیت میں ” الجلائ “ کا لفظ ہے ” الجلائ “ کا معنی ہے : وطن سے نکل کر دوسری جگہ منتقل ہونا، اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں جلا وطن نہ کرتا تو دنیا میں ان کو قتل کرنے کی سزا دی جاتی جیسا کہ ان کے بھائی بنو قریظہ کو قتل کی سزا دی گئی تھی اور آخرت میں ان کو اس سزا کے علاوہ عذاب ہوگا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 3

Exit mobile version