امام بخاری نے غیر مقلدین کو مشکل میں پھنسا دیا
امام بخاری نے اپنی تصنیف جز میں “رفع الیدین” کی حدیث روایت کرنے پر استددلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وكان الثوري , ووكيع , وبعض الكوفيين لا يرفعون أيديهم ,وقد رووا في ذلك أحاديث كثيرة , ولم يعنفوا على من رفع يديه , ولولا أنها حق ما رووا تلك الأحاديث
●》امام سفیان ثوری ، امام وکیع بن جراح اور بعض کوفہ کے محدثین رفع الیدین نہیں کرتے تھے لیکن انہوں نے بہت سی رفع الیدین کی احادیث بیان کی ہیں اور اس پر نقد نہیں کیا اور اگر وہ اسکو حق نہ سمجھتے تو وہ یہ احادیث روایت نہ کرتے
[جز رفع الیدین للبخاری]
معلوم ہوا امام بخاری کے اس قیاس پر کہ اگر محدثین جو ترک رفع الیدین کے قائل ہیں جب وہ بغیر نقد کے رفع الیدین کرنے کی احادیث بیان کرتے ہیں تو یہ انکے نزدیک ثابت ہوتی ہیں تبھی روایت کرتے ہیں:
اسی پر جب ہم کہتے ہیں امام ابن مبارک کا ترک رفع الیدین کی روایت کو بیان کرنا اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ بھی ترک رفع الیدین کی احادیث کو حق سجھتے تھے تبھی روایت کرتے تھے!! بغیر نقد کے
تو وہابیہ امام بخاری کے اس اصول کے باغی ہو جاتے ہیں!
بلکہ امام بخاری سے افضل اور انکے شیخ اور امیر المومنین فی حدیث امام یحیی بن معین علیہ رحمہ بھی ترک رفع الیدین کی احادیث بیان کرتے تھے!
جیسا کہ انکے شاگرد امام دوری روایت کرتے ہیں :
سمعت يحيى يقول حديث البراء أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه ليس هو بصحيح الإسناد
●》امام یحییٰ بن معین کو فرماتے سنا کہ حضرت براء کی حدیث کے رسولﷺ رفع الیدین کرتے تھے اسکی صحیح اسناد نہیں ہیں
[تاریخ ابن معین بروایہ الدوری ، برقم:۱۲۳۹]
《《یہ جرح امام ابن معین کی اثبات رفع الیدین کی روایت پر ہے کیونکہ اس میں ترک رفع الیدین کا ذکر ہے ہی نہیں اسکی دلیل یہ ہے کہ امام ابن معین خود حضرت براء بن عازب کی ترک رفع الیدین کے باب میں حدیث خود بیان کرتے تھے
●》جیسا کہ امام دوری سے ہی رویت ہے :
حدثني العباس بن محمد الدوري قال: سمعت يحيى معين يقول عافية القاضي ثقة. حدثني بشير بن موسى قال: حدثنا موسى بن داود الضبي قال: حدثنا عافية بن يزيد بن أبي ليلى عن الحكم عن البراء كذا قال: لم يدخل بينهما أحدا أن النبي صلى الله عليه وسلم: كان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة ثم لا يعود.
امام یحیی بن معین اپنی سند سے بیان کرتے ہیں حضرت براء نے جو فرمایا ہے:
کوئی بھی انکے درمیان داخل نہیں ہوتا تھا۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو ہاتھوں کو بلند کرتے (رفع الیدین کرتے) اور پھر (یہ فعل) نہ فرماتے۔
[اخبار القضاة، ج۳، ص ۲۵۳]
امام یحییٰ بن معین سے انکے شاگرد ابن محرز امام یحییٰ بن معین سے بیان کرتے ہیں :
سمعت شريح بن يونس يقول: ” رفع الأيدي في الصلاة هو تزين في الصلاة، ومن ترك الرفع فهو خشوع في الصلاة “
●》میں نے شریح بن یونس کو کہتے سنا کہ نماز میں رفع الیدین نماز کی خوبصورتی ہے ۔ اور جو رفع الیدین کو ترک کرنے والے ہیں انکے لیے نماز میں خشوع (انکساری) ہے ۔
[معرفة الرجال للإمام أبي زكريا يحيى بن معين: 885]
سمعت يحيى بن معين يقول : من رفع في الصلاة فقد أحسن ، ومن لا ، فلا شيء عليه .
●》امام یحیٰ بن معین سے سنا وہ کہتے ہیں کہ جو نماز میں ہاتھ اٹھاتے ہیں وہ احسن (عمل)ہے اور جو (رفع الیدین) نہیں کرتے تو ان پر کوئی (عذر)نہیں ہے
[کتاب ایضا برقم: 889]
اور پھر انکا عمل بیان کرتے ہوئے امام ابن معین کے شاگرد کہتے ہیں :
رأيت يحيى بن معين ما لا أحصيه كثرة يرفع يديه في الصلاة إذا افتتح، وإذا أراد أن يركع، وإذا رفع رأسه من الركوع.
●》میں نے امام یحییٰ بن معین کو دیکھا اور میں اسکا شمار نہیں کر سکتا کہ وہ نماز میں کتنا زیادہ رفع الیدین کرتے جب وہ ارادہ کرتے رکوع جانے کا اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد
[کتاب ایضا برقم: 1023]
پس ان دلائل سے ثابت ہوا کہ بقول امام بخاری
جس طرح امام سفیان ثوری امام وکیع بن جراح امام سفیان بن عیینہ جس طرح رفع یدین نہ کرنے کے باوجود اثبات رفع الیدین کی احادیث بغیر نقد روایت کرنے کے سبب انکو حق سمجھتے تھے۔
ویسے ہی امام ابن مبارک، مام یحیی بن معین وغیرہم بھی رفع الیدین کرنے کے باوجود ترک رفع الیدین کی اغادیث بغیر نقد کے روایت کرنے کو بھی حق سمجھتے تھے تو روایت کرتے تھے!
جماعت غیر مقلدین جو امام بخاری کے جز پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے!
انکو امام بخاری کے اس اصول پر بجائے بغاوت کے اسکو من و عن تسلیم کرنا چاہیے!
اسدالطحاوی ✍
http://www.asadaltahawi.com
