Site icon اردو محفل

كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ‌ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّىۡ بَرِىۡٓءٌ مِّنۡكَ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ – سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 16

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ‌ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّىۡ بَرِىۡٓءٌ مِّنۡكَ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

ان کی مثال شیطان کی طرح ہے جس نے انسان سے کہا، کفر کر، پھر جب اس نے کفر کرلیا تو شیطان نے کہا : میں تجھ سے بےزار ہوں، اللہ رب العلمین سے ڈرتا ہوں.

الحشر : ١٦ میں فرمایا : ان کی مثال شیطان کی طرح ہے۔ الایۃ

یعنی جب منفاقین نے بنو نضیر سے جھوٹے وعدے کئے، ان کی مثال شیطان کی طرح ہے جس نے انسان سے کہا : کفر کر، پھر آخرت میں اس سے بےزار ہوگیا، اس سے مراد یا تو شیطان کی عام دعوت کفر ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ شیاطن نے جنگ بدر میں کفار قریش سے کہا تھا۔ قرآن مجید میں یہ :

(الانفال : ٤٨) جب شیطان کافروں کو ان کے اعمال خوش نما بنا کر دکھا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ آج لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہیں آسکتا، میں تمہارا حامی ہوں، پس جب دو جماعتیں صف آراء ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے لوٹ گیا اور کہنے لگا : میں تم سے بےزار ہوں، میں ان چیزوں کو دیکھ رہا ہوں جن کو تم نہیں دیکھ رہے، میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 16

Exit mobile version