Site icon اردو محفل

عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ عَادَيۡتُمۡ مِّنۡهُمۡ مَّوَدَّةً ؕ وَاللّٰهُ قَدِيۡرٌ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ سورۃ نمبر 60 الممتحنة آیت نمبر 7

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ عَادَيۡتُمۡ مِّنۡهُمۡ مَّوَدَّةً ؕ وَاللّٰهُ قَدِيۡرٌ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

عنقریب اللہ تمہارے درمیان اور تمہارے دشمنوں کے درمیان محبت پیدا فرما دے گا، اور اللہ بہت قادر ہے اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : عنقریب اللہ تمہارے درمیان اور تمہارے دشمنوں کے درمیان محبت پیدا فرما دے گا، اور اللہ بہت قادر ہے اور اللہ بخشنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ اور اللہ تم کو ان کے ساتھ نیکی کرنے اور تھوڑا تھوڑا دینے سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین میں جنگ نہیں کی، اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، بیشک اللہ تھوڑا تھوڑا دینے والوں کو (بھی) پسندفرماتا ہے۔ اللہ تمہیں ان ہی لوگوں کے ساتھ دوستی رکھنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے تمہارے ساتم دین میں جنگ کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں مدد کی اور جو ان سے دسوتی کریں گے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ (الممتحنہ :7-10)

غیر متحارب کافروں کے ساتھ سلوک کرنے کی تحقیق

الممتحنہ : ٧ میں فرمایا : عنقریب اللہ تمہارے درمیان اور تمہارے دشمنوں کے درمیان محبت پیدا فرما دے گا۔ الایۃ

اس کی صورت یہ ہے کہ کافر مسلمان ہوجائے اور فتح مکہ کے بعد بہت کافر اسلام لے آئے اور مسلمانوں کے ساتھ مل جل کر رہنے لگے، مثلاً ابوسفیان بن حرب اور الحارث بن ہشام اور سہیل بن عمرو اور حکیم بن حزام وغیرہ۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 60 الممتحنة آیت نمبر 7

Exit mobile version