Site icon اردو محفل

هُوَ الَّذِىۡ بَعَثَ فِى الۡاُمِّيّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ – سورۃ نمبر 62 الجمعة آیت نمبر 2

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُوَ الَّذِىۡ بَعَثَ فِى الۡاُمِّيّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۞

ترجمہ:

وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں ان ہی میں سے (عظیم) رسول بھیجا، جو ان پر اس کی آیات تلاوت کرتا ہے اور ان کے باطن کو صاف کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور بیشک وہ اس سے پہلے کھلی گم راہی میں تھے.

 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات

الجمعہ : ٢ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات بیان فرمائی ہیں۔

ایک صفت یہ ہے کہ آپ امیین کے رسول ہیں، اہل مکہ کو امیین کہا جاتا تھا، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ یہود اور نصاریٰ کی طرح اہل کتاب نہیں تھے، دوسری وجہ یہ تھی کہ ان میں سے اکثر پڑھنے لکھنے والے نہ تھے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ان کے پاس کتاب تھی نہ ان میں کوئی نبی بھیجا گیا تھا، تیسری وجہ یہ ہے کہ وہ جس طرح اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوئے تھے وہ اسی حالت پر تھے، چوتھی وجہ یہ ہے کہ وہ ام القریٰ (مکہ مکرمہ) کے رہنے والے تھے، ان وجوہ کی وجہ سے ان کو امیین کہا جاتا تھا۔

دوسری صفت یہ ہے کہ آپ ان ہی میں سے تھے یعنی ان کے نسب سے تھے اور ان کی جنس سے تھے، قرآن مجید میں ہے :

لقد جآء کم رسول من انفسکم (التوبہ : ١٢٨) بیشک تمہارے پاس ایک عظیم رسول تم میں سی آئے ہیں۔

لقد من اللہ علی الممونین اذبعث فیہم رسولاً من انفسھم (آل عمران : ١٦٤ ) ۔ بیشک اللہ نے مئومنین پر احسان فرمایا کیونکہ اس نے ان ہی میں سے ان میں ایک (عظیم) رسول بھیجا۔

اور یہ اللہ کا احسان اس لئے ہے کہ اس نے نوع انسان اور بشر میں سے رسول بھیجا، فرشتے یا جن کو ان میں سے رسول بنا کر نہیں بھیجا، ورنہ انسان اس سیاستفادہ نہ کرسکتے اور اس کے افعال ان کے لئے نمونہ اور حجت نہ ہوتے۔

تیسری صفت یہ ہے کہ آپ ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کرتے ہیں اور وہ دلائل بیان کرتے ہیں اور وہ معجزات پیش کرتے ہیں جن سے آپ کی نبوت اور رسالت ثابت ہوتی ہے اور ان آیات سے احکام شرعیہ بیان کرتے ہیں۔

چوتھی صفت یہ ہے کہ آپ ان کے باطن کو صاف کرتے ہیں، جن کے دلوں میں برسوں سے بت پرستی کی اور شرک کی محبت چڑھی ہوئی تھی، آپ کی نگاہ کیمیاء اثر سے ان کی کایا پلٹ گئی تھی اور وہ توحید کے متوالے بن گئے تھے، جو لوٹ مار، بدکاری اور قتل و غارت گری کے عادی تھے، ان کی سیرت رشک ملائکہ بن گئی اور وہ تقویٰ اور پرہیز گاری کے پیکر بن گئے تھے۔

پانچویں صفت یہ ہے کہ آپ کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، کتاب سے مراد ہے : قرآن مجید کی آیات اور حکمت سے مراد ہے : قرآن مجید کے معانی اور ان سے احکام شرعیہ کا استنباط اور اجتہاد یا حکمت سے مراد ہے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال اور افعال اور آپ کی سنت مبارکہ اور قرآن مجید کے احکام کا عملی نمونہ۔

اس کے بعد فرمایا : اور بیشک اس سے پہلے وہ کھلی گم راہی میں تھے، یعنی وہ کھلم کھلا شرک اور بت پرستی کرتے تھے، مردار کھاتے تھے، چوریاں کرتے اور ڈاکے ڈالتے تھے اور پرائی عورتوں کی عزتیں لوٹتے تھے۔

آپ کی رسالت کا عموم

یہود یہ کہتے تھے کہ اس آیت میں آپ کے متعلق فرمایا ہے کہ آپ امیین کے رسول ہیں یعنی صرف مکہ والوں کے رسول ہیں، آپ کی نبوت اور رسالت تمام دنیا کے انسانوں کے لئے نہیں تھی لیکن ان کا یہ استدلال باطل ہے، کیونکہ قرآن اور حدیث میں مفہوم مخلاف معتبر نہیں ہوتا، نیز کسی ایک آیت کو دیکھ کر کوئی نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے جب تک اس مسئلہ سے متعلق تمام آیات کو نہ دیکھ لیا جائے، قرآن مجید میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے عموم کے متعلق یہ آیات ہیں :

وما ارسلنک الا کآفۃ للناس بشیراً و نذیراً (سبا : ٢٨) اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے بشارت دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیراً (الفرقان : ١) وہ بہت برکت والا ہے جس نے اپنے مکرم بندہ پر قرآن نازل کیا تاکہ وہ تمام جہان والوں کے لئے عذاب سے ڈرانے والے ہوں الجمعہ :

وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین الجمعہ : (الانبیائ : ١٠٧) اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے محض رحمت بنا کر بھیجا ہی الجمعہ :

القرآن – سورۃ نمبر 62 الجمعة آیت نمبر 2

Exit mobile version