وہ اپنے مونہوں سے (پھونکیں مار کر) اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ اپنے مونہوں سے (پھونکیں مار کر) اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے اتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام دنیوں پر غالب کر دے خواہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ (الصف :8-9)
اللہ کے نور کو بجھانے کے معانی اور مصادیق
” الاطفائ “ کا معنی ہے : آگ کو بجھا دینا اور اس کا استعمال روشنی کو مٹانے میں بھی کیا جاتا ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر چالیس دن وحی نازل نہ ہوئی تو کعب بن اشرف نے کہا، اے یہودیو ! تمہیں مبارک ہو (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو وحی کا نور نازل ہوتا تھا وہ بجھ چکا ہے اور اب ان کا نور پور انہیں ہوگا، تو رسولا لہل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غمگین ہوئے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس کے بعد مسلسل وحی نازل ہونے لگی۔ (النکت و العیون ج ٥ ص 530)
اور اللہ کے نور کی تفصیل میں علامہ الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ نے حسب ذیل اقوال لکھے ہیں :
(١) ابن زید نے کہا : اس سے مراد قرآن مجید ہے، یہود اپنے اعتراضات سے قرآن مجید کو باطل کرنا چاہتے تھے۔
(٢) اسدی نے کہا : ایس سے مراد اسلام ہے، کفار اسلام کو مٹانا چاہتے تھے۔
(٣) اس سے مراد ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، مخالفین آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔