اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ (زبان سے) ایمان لائے، پھر انہوں نے (دل کا) کفر ظاہر کردیا، سو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی تو وہ سمجھتے نہیں ہیں.
منافقوں کا اپنی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنانا
منافقوں کے ایمان اور ان کے دلوں پر مہر لگانے کی توجیہ
منافقوں : ٣ میں فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ (زبان سے) ایمان لائے، پھر انہوں نے (دل کا) کفر ظاہر کردیا۔
اس آیت میں فرمایا ہے : وہ ایمان لائے پھر انہوں نے کفر کیا، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ منافقین تو شروع سے ایمان لائے ہی نہیں تھے، پھر اس ارشاد کی کیا توجیہ ہے کہ وہ ایمان لائے، اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے انہوں نے اپنے کفر کو چھپایا اور زبان سے ایمان لائے، پھر انہوں نے اپنے دل کے کفر کو ظاہر کردیا، دوسرا جواب یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے سامنے اپنے ایمان کو ظاہر کرتے تھے اور تنہائی میں اپنے ساتھیوں کے سامنے کفر کو ظاہر کرتے تھے۔
اس کے بعد فرمایا : سو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی، چونکہ منافقین دانستہ اسلام لانے سے اعراض کرتے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے تھے، اس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔