پھر جب نماز پڑھ لی جائے تو تم زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کروْ
الجمعہ : ١٠ میں فرمایا : پھر جب نماز پڑھ لی جائے تو تم زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرنا کہ تم کامیابی حاصل کرو۔
نماز جمعہ پڑھنے کے بعد کاروبار کرنا واجب نہیں مباح ہے
اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ نماز جمعہ پڑھنے کے بعد خریدو فروخت کرنا واجب ہے، کیونکہ اس سے پہلی آیت میں نماز جمعہ کے بعد خریدو فروخت سے منع فرمایا تھا اور کسی کام کی ممانعت کے بعد جب اس کا امر کیا جائے تو وہ امر وجوب کے لئے نہیں ہوتا بلکہ اباحت کے لئے ہوتا ہے، جیسے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع فرمایا، پھر شکار کرنے کا امر فرمایا تو یہ امر وجوب کے لئے نہیں ہے، اباحت کے لئے ہے۔ قرآن مجید میں ہ؍
(المائد : ١) تمہارے لئے مویشی چوپائے حلالکئے گئے ہیں ماسوا ان کے جن کی تلاوت کی جائے گی مگر حالت احرام میں شکار کرنے والے نہ بننا۔
اس آیت میں حالت احرام میں شکار کرنے سے منع فرمایا اور دوسری آیت میں احرام کھولنے کے بعد شکار کرنے کا حکم دیا ہے۔
واذا حللتم فاصطادوا (المائدہ : ٢) اور جب تم احرام کھول دو تو شکار کرو۔
اس آیت میں بھی چونکہ شکار کرنے کا حکم ممانعت کے بعد ہے، اس لئے یہ حکم وجوب کے لئے نہیں بلکہ اجازت اور اباحت کے لئے ہے۔
اللہ کا فضل طلب کرنے کے محامل
عراک بن مالک جب جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے : اے اللہ ! میں نے تیرے حکم پر عمل کیا اور تیرے فرض کو پڑھا اور تیرے حکم کے مطابق زمین میں پھیل گیا، اب تو اپنے فضل سے مجھے رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق عطا فرمانے والا ہے۔
جعفر بن محمد نے ” وابتغوا من فضل اللہ “ کی تفسیر میں کہا : اس سے مراد ہفتہ کے دن کام کرنا ہے۔
حسن بصری اور سعید بن مسیب نے کہا : اس سے مراد علم کو طلب کرنا اور نفل نماز پڑھنا ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت میں دنیا کو طلب کرنے کا حکم نہیں دیا، اس سے مراد بیماریوں کی عیادت کرنا ہے، جنازوں پر حاضر ہونا ہے اور مسلمان بھائیوں کی زیارت کرنا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٨ ص ٩٧-٩٦ دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
مقاتل نے کہا : اللہ تعالیٰ نے نماز کے بعد رزق کے طلب کرنے کو مباح کردیا ہے، جو چاہے رزق طلب کرے اور جو چاہے نہ طلب کرے۔
ضحاک نے کہا : اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ہے وہ چاہے تو نماز کے عبد مسجد سے چلا جائے اور چاہے تو بیٹھا رہے، اور اللہ کے فضل کی طلب میں افضل یہ ہے کہ وہ رزق کو طلب کے یا نیک اولاد کو یا علم نافع کو یا دوسرے عمدہ کاموں کو۔
اور اس آیت میں یہ کثرت اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ مجاہد نے کہا، بہ کثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا تب ہوگا جب چلتے ہوئے، کھڑے ہوئے، بیٹھے ہئے، لیٹے ہوئے ہرحال میں اللہ کا ذکر کرے۔
مصنف کے نزدیک فضل اللہ کے طلب کرنے کے تین محمل ہیں : (١) فضل کے معنی ہیں : زیادتی لہٰذا نماز جمعہ سے فارغ ہونے کے بعد مزید نماز پڑھنے کی توفیق کو طلب کرے (٢) رزق حلال میں زیادتی کو طلب کرے (٣) اللہ تعالیٰ سے کسی عبادت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے فضل کی وجہ سے جنت اور اللہ کی رضا کو طلب کیر۔
اتوار کی چھٹی کے حامیوں کے دلائل اور ان کے جوابات
اس آیت میں چونکہ نماز کے بعد اللہ کے فضل کو طلب کرنے کا حکم دیا ہے تو جو لوگ پاکستان میں اتوار کے دن چھٹی کرنے کے حامی ہیں، وہ اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اللہ کے فضل کا معنی ہے : کاروبار کرنا اور تجارت کرنا، لہٰذا اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جمعہ کے دن چھٹی نہ کی جائے بلکہ اتوار کے دن چھٹی کی جائے اور امروجوب کے لئے آتا ہے، اس لئے جمعہ کے دن چھٹی کرنا ممنوع ہے اور کاروبار کرنا واجب ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ ہم بتا چکے ہیں کہ اس آیت سے پہلے نماز کے وقت کاروبار کرنے سے منع فرمایا تھا اور اس آیت میں نماز کے بعد کاروبار کرنے کا حکم دیا ہے اور ممانعت کے بعد جو امر ہو وہ اباحت کے لئے آتا ہے، پس اس دن کاروبار کرنا جائز ہے واجب نہیں ہے، دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ کے فضل کو طلب کرنے کا لازمی معنی کاروبار کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا یہ معنی بھی ہے کہ اللہ سے رزق اور علم کے حصول کی دعا کی جائے۔
اتوار کی چھٹی کے حامیوں کی دوسری دلیل یہ ہے کہ یورپی ممالک میں اتوار کی چھٹی ہوتی ہے اور ان ممالک سے تجارت کے لئے ضروری ہے کہ ہم بھی اسی دن چھٹی کریں، اگر ہم جمعہ کے دن چھٹی کریں تو وہ دن ہمارا کاروبار متاثر ہوگا، اتوار کو ان کی چھٹی کی وجہ سے اور جمعہ کو ہماری چھٹی کی وجہ سے، اس کا جواب یہ ہے کہ ان ممالک کے ساتھ جغرافیائی فرق کی وجہ سے ویسے بھی ہمارے اور ان کے اوقات کی یکسانیت نہیں ہے۔ مثلاً امریکا کا وقت ہم سے تقریباً بارہ گھنٹے پہلے ہے اور برطانیہ کا وقت پانچ گھنٹے پیچھے ہے۔ اسی طرح مشرق بعید کے ممالک کا وقت بھی ہم سے کافی مختلف ہے، اس لئے اتوار کی چھٹی کرنے پر ان ممالک کی یکسانیت سے استدلال کرنا درست نہیں ہے۔
جمعہ کی چھٹی کرنے کے دلائل
اسلام میں چھٹی کرنے کا کوئی حکم نہیں ہے، لیکن جب ہفتہ میں ایک دن چھٹی کرنی ہی تو اس دن چھٹی کرنی چاہیے جو اسلام میں مقدس دن ہے۔ عیسائی اور یہودی اپنے اپنے مقدس دنوں میں اتوار اور ہفتہ کی چھٹی کرتے ہیں، سو ہمیں اپنے مقدس دن میں چھٹی کرنی چاہیے اور وہ جمعہ کا دن ہے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ باقی تمام مسلمان ملکوں میں جمعہ کے دن چھٹی ہوتی ہے تو ہمیں بھی باقی مسلمان ملکوں سے موافقت کرتے ہوئے جمعہ کے دن چھٹی کرنی چاہیے۔
تیسری دلیل یہ ہے کہ اتوار کو چھٹی کرنے سے عیسائیوں کی موافقت ہوگی جب کہ ہمیں عیسائیوں کی مخالفت کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ حسب ذیل احادیث سے ظاہر ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہود اور نصاریٰ بالوں کو نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٨٩٩ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٢٠٣ سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٢٧٢ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦٢١ مسند احمد رقم الحدیث : ٧٣٧٢)
حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکلے اور انصار کے بوڑھوں کے پاس آئے، ان کی ڈاڑھیاں سفید تھیں۔ آپ نے فرمایا : اے انصار کی جماعت ! اپنی ڈاڑھیوں کو سرخ اور زرد رنگ میں رنگو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا : ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل کتاب شلوار پہنتے ہیں اور تہبند نہیں باندھتے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شلوار پہنو اور تہبند باندھو اور اہل کتاب کی مخلافت کرو۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل کتاب موزے پہنتے ہیں اور اس پر چمڑے کی جوتی نہیں پہنتے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم موزے پہنو اور اس پر چمڑے کی جوتی پہن اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اہل کتاب ڈاڑھیاں کاٹتے ہیں اور مونچھیں چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : تم مونچھیں تراشو اور ڈاڑھیاں چھوڑ دو اور اہل کتاب کی مخلافت کرو۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٢٦٥-٢٦٤ طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٢٦٣٩ طبع طبع جدید عالم الکتب، بیروت، حافظ زین نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٢١٨٤ دارالحدیث، قاہرہ، حافظ الہیثمی نے کہا : امام احمد کی سند صحیح ہے۔ مجمع الزوائد ج ٥ ص ١٦٠-١٣ المعجم الکبیرج ٨ ص ٢٨٢ رقم الحدیث : ٧٩٢٤ )
خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ کی چھٹی کرنے میں مسلمان ملکوں کی موافقت ہے اور اتوار کی چھٹی کرنے میں عیسائیوں کی موافقت ہے۔ اب ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم کس کی موافقت کریں اور ہمارا مقدس دن (Holy Day) جمعہ ہے یا اتوار ؟