قبر پر قرآن کی تلاوت اور امام ابن معین و امام شافعی کا موقف!
امام الدوری بیان کرتے ہیں :
سألت يحيى بن معين عن القراءة عند القبر فقال حدثنا مبشر بن إسماعيل الحلبي عن عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج عن أبيه أنه قال لبنيه إذا أدخلت القبر فضعوني في اللحد وقولوا بسم الله وعلى سنة رسول الله وسنوا على التراب سنا واقرؤوا عند رأسي أول البقرة وخاتمتها فإني رأيت بن عمر يستحب ذاك
●》امام عباس فرماتے ہیں : کہ میں نے امام یحییٰ بن معین سے قبر پر قرآت کرنے کے بارے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا :
مجھے بیان کیا مبشر بن اسماعیل نے عبدالرحمن بن علاء سے وہ اپنے والد سے انہوں نے فرمایا اپنے بیٹے کو : جب وفات کے بعد میں قبر میں رکھنا تو مجھ پر یہ دعا پڑھنا ” بسم الله وعلى سنة رسول الله” اور میری قبر کے سر والے حصے پر سورہ بقرہ کا اول حصہ تلاوت کرنا آخری حصہ تلاوت کرنا
اور میں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو یہ فعل مستحب (پسند) فرماتے دیکھا ہے ۔
[: تاريخ ابن معين (رواية الدوري) 5413]
امام ابن معین مذکورہ عمل کی دلیل بیان کی ہے۔ اور اس روایت سے احتجاج کیا ہے!
《《نیز امام شافعی کا بھی یہی موقف تھا جیسا کہ ان سے امام ابو بکر خلال نے اپنی سند صحیح سے روایت کیا ہے :》》
أخبرني روح بن الفرج، قال: سمعت الحسن بن الصباح الزعفراني، يقول: ” سألت الشافعي عن القراءة عند القبر فقال: لا بأس به
●》حسن بن صباح کہتا ہے میں نے امام شافعی سے قبر پر قران کی تلاوت کے بارے سوال کیا تو انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں ہے
[القراءة عند القبور ص 89[
1۔ پلا راوی : روح بْن الْفَرَج أَبُو الْحَسَن البزاز
وَكَانَ ثقة.
[تاریخ بغداد برقم: 4460]
2۔دوسرا راوی : الحَسَنُ بنُ الصَّبَّاحِ بنِ مُحَمَّدٍ الوَاسِطِيُّ
الإِمَامُ، الحَافِظُ، الحُجَّةُ، شَيْخُ الإِسْلاَمِ
[سیر اعلام النبلاء برقم: 69]
اسدالطحاوی ✍
