یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے : ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہیں حتیٰ کہ یہ لوگ منتشر ہوجائیں اور آسمانوں اور زمینوں کے تمام خزانے اللہ ہی کی ملکیت میں ہیں، لیکن منافقین نہیں سمجھتے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے : ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہیں، حتیٰ کہ یہ لوگ منتشر ہوجائیں اور آسمانوں اور زمینوں کے تمام خزانے اللہ ہی کی ملکیت میں ہیں، لیکن منافقین نہیں سمجھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اب ہم مدینہ واپس گئے تو ضرور عزت والا ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا، حالانکہ عزت تو صرف اللہ کے لئے ہے اور اس کے رسول کے لئے ہے اور ایمان والوں کے لئے ہے لیکن منافقین نہیں جانتے۔ (المنافقون :7-8)
غزوہ بنو المصطلق چھ ہجری میں عبدللہ بن ابی کا آپ کی اور آپ کے اصحاب کی شان میں گستاخی کرنا
امام ابو عیسیٰ محمد بن بن عیسیٰ ترمذی متوفی 279 ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غزوہ میں گیئ، ہمارے ساتھ کچھ دیہاتی لوگ بھی تھے، ہم پانی لینے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور دیہاتی ہم پر سبقت کر رہے تھے، ایک اعرابی اپنے اصحاب سے پہلے وہاں پہنچ گیا، اس نے حوض کو بھر دیا اور اس کے گرد پتھر رکھ دیئے اور ان پر ایک چمڑا بچھا دیا، حتیٰ کہ اس کے اصحاب آگئے، انصار میں سے ایک شخص اس دیہاتی کے پاس آیا، اس نے اپنی اونٹنی کو پانی پلانے کے لئے اس کی لگام ڈھیلی کی، لیکن دیہاتی نے اپنا قبضہ چھوڑنے سے انکار کیا، انصاری نے پانی کے پاس سے روکاوٹیں ہٹا دیں، اس دیہاتی نے لکڑی اٹھا کر اس انصاری کے سر پر ماری اور اس کا سر پھاڑ دیا، وہ انصاری عبداللہ بن ابی کے ساتھیوں میں سے تھا، اس نے اس کے پاس جا کر ماجرا سنایا، عبداللہ بن ابی غضب ناک ہو اور اس نے کہا، جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہیں ان پر اس وقت تک خرچ نہ کرو جب تک وہ ان کے پاس سے منتشر نہ ہوجائیں، یعنی وہ دیہای جو کھانے کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس رہتے تھے۔ عبداللہ بن ابی نے کہا : جب یہ لوگ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے اٹھ جائیں، اس وقت ان کے پاس کھانا لانا، تاکہ وہ اور ان کے اصحاب کھانا کھائیں، پھر عبداللہ بن ابی اپنے اصحاب سے کہنے لگا : اب اگر ہم مدینہ واپس گئے تو تم میں سے عزت والے ذلت والے کو وہاں سے نکال دیں گے۔ حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں سواری پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میں نے عبداللہ بن ابی کی بات سن لی اور پھر اپنے چچا کو بتادی، انہوں نے جا کر یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتادی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن ابی کو بلوایا، اس نے قسم کھا کر یہ بات کہنے کا انکار کردیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تصدیق کی اور میری تکذیب کردی، پھر میرے چچا میرے پاس آئے اور کہا : میرا ارادہ یہ نہیں تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر ناراض ہوں اور آپ اور مسلمان تمہاری تکذیب کریں، اس سے مجھے اتنا رنج ہوا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا رنج نہیں ہوا تھا، پس جس وقت میں رسولا لہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس سفر میں جا رہا تھا تو افسوس کی وجہ سے میں اپنا سر ہلا رہا تھا، اسی دوران رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس آئے اور میرے کان کو ملا، اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور مجھے اس سے اتنی خوشی ہوئی کہ اس کے بدلہ میں دائمی دنیا سے بھی نہ ہوتی، پھر حضرت ابوبکر (رض) مجھ سے ملے اور پوچھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم سے کیا فرمایا تھا ؟ میں نے کہا، آپ نے کچھ نہیں فرمایا تھا، البتہ آپ نے میرے کان کو ملا اور میرے سامنے مسکائے، حضرت ابوبکر نے کہا، تم کو مبارک ہو، پھر مجھ سے حضرت عمر (رض) ملے اور انہوں نے بھی حضرت ابوبکر کی طرف پوچھا، پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة المنافقوں تلاوت فرمائی۔ امام ترمذی نے کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣١٣، المعجم الکبری رقم الحدیث : ٥٠٤١ المستدرک ج ٢ ص 488-489 دلائل النبوۃ ج ٤ ص 54-55)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے (وہ غزوہ بنو المصطلق تھا) ایک مہاجر نے ایک انصاری کے تھپڑ مار دیا، مہاجر نے دیگر مہاجروں کو مدد کے لیء پکارا : اے مہاجرو ! مدد کرو، اور انصاری نے انصار کو مدد کے لئے پکارا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ چیخ و پکار سنی تو فرمایا، یہ زمانہ جاہلیت کی طرح کیسی چیخ و پکار ہے ؟ لوگوں نے باتای کہ ایک مہاجر نے ایک انصاری کے تھپڑ مار دیا تھا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھوڑو ! یہ بہت برا وتیرہ ہے۔ عبداللہ بن ابی نے یہ واقعہ سنا تو اس نے کہا، کیا واقعی مہاجر نے ایسا کیا ہے اب اگر ہم مدینہ پہنچے تو وہاں سے عزت والا ذلت والے کو نکال دے گا، تب حضرت عمر نے کہا، یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں میں اس منفاق کی گردن اڑا دوں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو ، کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کو قتل کر رہے ہیں، عمرو بن دینار کے علاوہ دوسرے راوی نے کہا : پھر عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ جو مخلص صحابی تھے، انہوں نے عبداللہ بن ابی سے کہا، اللہ کی قسم ! تم اس وقت تک مدینہ میں نہیں داخل ہوسکتے، جب تک کہ تم یہ اقرار نہ کرلو کہ تم ذلت والے ہو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عزت والے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :4905-4907، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٢٥ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣١٥ مسند احمد ج ٣ ص ٣٣٨ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٨٠٤١ مسند ابویعلی رقم الحدیث : ١٨٢٤ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٩٩٠ دلائل النبوۃ ج ٤ ص ٥٣ )
آسمانوں اور زمینوں کے خزانوں کا بیان
المنافقون : ٧ میں فرمایا ہے : اور آسمانوں اور زمینوں کے تمام خزانے اللہ ہی کی ملکیت میں ہیں۔