وہی ہے جس نے تم سب کو پیدا کیا ہے پس بعض تم میں سے مومن ہیں اور بعض تم میں سے کافر ہیں، اور اللہ تمہارے تمام کاموں کو خوب دیکھنے والا ہے.
تقدیر پر ایک مشہور اشکال کا جواب
التغابن : ٢ میں فرمایا، پس بعض تم میں سے مئومن ہیں اور بعض کافر ہیں۔
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن شام کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیا اور ہر اس چیز کا ذکر کیا جو ہونے والی ہے اور بتایا کہ لوگ مختلف طبقات میں پیدا ہوں گے، ایک شخص مئومن پیدا ہوگا اور بہ طور مئومن زندگی گزارے گا اور بہ طور مئومن مرے گا اور ایک شخص کافر پیدا ہوگا اور بہ طور کافر زندگی گزارے گا اور بہ طور کافر مرے گا اور ایک شخص مئومن پیدا ہوگا اور بہ طور مئومن زندگی گزارے گا اور بہ طور کافر مرے گا اور ایک شخص کافر پیدا ہوگا اور بہ طور کافر زندی گزارے گا اور بہ طور مئومن مرے گا۔ (کنز العمال رقم الحدیث : ٣٢٤٣٧)
حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزو جل نے فرعون کو اس کی ماں کے پیٹ میں کافر پیدا کیا اور حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کو ان کی ماں کے پیٹ میں مئومن پیدا کیا۔ (الکامل لا بن عدی ج ٦ ص ٢١٦، کنز العمال رقم الحدیث : ٣٢٤٣٨)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ باین کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی اور آپ سب سے بڑے سچے ہیں کہ اللہ سبحانہ تم میں سے کسی ایک کی تخلیق کو چالیس دن اس کی ماں کے پیٹ میں جمع کرتا ہے، پھر چالیس دن بعد وہ جما ہوا خون بن جاتا ہے، پھر چالیس دن بعد وہ گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے، پھر اس کی طرف اللہ ایک رشتہ کو بھیجتا ہے، اس کو چار باتیں لکھنے کی اجازت دی جاتی ہے، پس وہ اس کا رزق لکھتا ہے، اس کی مدت حیات لکھتا ہے، اس کا عمل لکھتا ہے اور یہ کہ وہ شقی ہوگا یا سعید (دوزخی ہوگا یا جنتی) پھر اس میں روح پھونک دیتا ہے، پس بیشک تم میں سے کوئی ایک اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر لکھا ہوا سبقت کرتا ہے اور وہ اہل دوزخ کا عمل کرتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے اور بیشک تم میں سے کوئی ایک اہل دوزخ کے عمل کرتا ہے، حتیٰ کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جنت کے عمل کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٤٥٤ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٤٣ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٣٧ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٠٨ سنن نسائی رقم الحدیث : ٢١٣٧ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٤)
ہم نے مسئلہ تقدیر پر مفصل بحث ’ د شرح صحیح مسلم “ ج ٧ ص 268-273 میں کی ہے اور الصفت : ٩٦ ” تبیان القرآن “ ج ٩ ص 906-907 بھی اس پر گفتگو کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو اخیر عمر تک یا عمر کے آخر میں نیک کام کرنے یا برے کام کرنے کا اختیار دیا ہے اور جو کچھ اس نے اپنے اختیار سے کرنا تھا، اسی کا اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا اور اسی کے موافق لوح محفوظ میں اور ماں کے پیٹ میں فرشتہ نے لکھا ہے لہٰذا اب یہ اعترضا نہیں ہوگا کہ جب پہلے سے ہی لکھ دیا ہے تو بندہ کے گناہ کرنے میں اس کا کیا قوصر ہے۔