اور (اے مخاطب ! ) جب تم انہیں دیکھو گے تو ان کے جسم تمہیں اچھے لگیں گے اور اگر وہ بات کریں تو تم ان کی بات سنو گے، گویا وہ دیوار کے سہارے کھڑے ہوئے شہتیر ہیں وہ ہر بلند آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں، یہی (حقیقی) دشمن ہیں، سو تم ان سے خبردار ہو، اللہ انہیں ہلاک کرے، یہ کہاں اوندھے جا رہے ہیں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مخاطب ! ) جب تم انہیں دیکھو گے تو ان کے جسم تمہیں اچھے لگیں گے اور اگر وہ بات کریں تو تم ان کی بات سنو گے، گویا وہ دیوار کے سہارے کھڑے ہوئے شہتیر ہیں، وہ ہر بلند آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں، یہی (حقیقی) دشمن ہیں، سو تم ان سے خبردار رہو، اللہ انہیں ہلاک کرے، یہ کہاں اوندھے جا رہے ہیں۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے : آئو ! رسول اللہ تمہارے لئے مغفرت طلب کریں تو یہ اپنے سر مٹکاتے ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ یہ تکبر سے اپنے آپ کو روکتے ہیں۔ ان کے حق میں برابر ہے خواہ آپ ان کے لئے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، اللہ ان کی ہرگز مغفرت نہیں کرے گا، اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المنافقون :4-6)
منافقین کو دیوار کے ساتھ لگے ہوئے شہتیر کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجوہ
المنافقون : ٤ میں فرمایا : جب تم انہیں دیکھو گے تو ان کے جسم تمہیں اچھے لگیں گے اور اگر وہ بات کریں تو تم ان کی بات سنو گے۔
ان سے مراد عبداللہ بن ابی، مغیث بن قیس اور جد بن قیس وغیرہ منافقین ہیں، یہ بہت دراز قد اور حسین و جمیل تھے اور جب وہ کہیں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو آپ ان کی بات سنیں گے۔
پھر فرمایا : گویا وہ دیوار کے سہارے کھڑے ہوئے شہتیر ہیں۔
اور لکڑی کے شہتیر میں قعل ہوتی ہے نہ سمجھ ہوتی ہے، اسی طرح منافقین میں بھی کوئی عقل اور سمجھ نہیں ہے اور نہ کوئی بصیرت ہے اور یہ فرمایا : گویا وہ دیوار کے سہارے کھڑے ہوئے ہیں، یعنی ان میں اتنی جرأت اور ہمت نہیں ہے کہ وہ از خود لوگوں کے درمیان رہ سکیں اور وہ کسی نہ کسی کے سہارے رہتے ہیں، ان کو جو لکڑی کے اس شہتیر سے تشبیہ دی ہے جو دیوار کے سہارے کھڑا ہو اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :
(١) لکڑی کے شہتیر میں کوئی منفعت ہو تو وہ یا تو ستون ہوتا ہے یا چھت میں ہوتا ہے اور دیوار کے سہارے اسی ستون کو کھڑا کیا جائے گا جو ستون بنانے کے قابل ہو نہ چھت میں لگانے کے اور بالکل بےمصرف اور بےفائدہ ہو، سی اسی طرح منافقین بھی بےمصرف اور بےفائدہ ہیں۔
(٢) جو لکڑی دیوار کے سہارے کھڑی ہو وہ اصل میں ترو تازہ شاخ ہوتی ہے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت ہوتی ہے، بعد میں وہ سوکھ کر لکڑی ہوجاتی ہے اور بےفائدہ ہوجاتی ہے، اسی طرح منافقین بھی اصل میں اس قابل تھے کہ ان سے فائدہ اٹھایا جائے، بعد میں اپنے غلط کرتوتوں کی وجہ سے بےفائدہ اور بےفیض ہوگئے۔
(٣) لکڑی ایندھن بنتی ہے اور کفار اور منافقین بھی جہنم کا ایندھن ہیں۔ قرآن مجید میں کفار کو مخاطب کر کے فرمایا :
(الانبیائ :98) تم خود اور جن چیزوں کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہیں۔
(٤) جو لکڑی یا شہتیر دیوار کے سہارے ہو، اس کی دو طرفیں ہوتی ہیں، ایک طرف زمین سے ملی ہوتی ہے اور دوسری اوپر کی جانب ہوتی ہے، اسی طرح منفاین کی بھی دو طرفیں ہیں، ایک طرف سے یہ مئومنوں کے سامنے اسلام کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی دوسری طرف منافقوں سے ملی ہوتی ہے اور اس طرف سے یہ ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوتے ہیں۔
(٥) جس شہتیر کی دیوار کے ساتھ ٹیک ہو وہ پہلے نباتات سے ہوتا ہے، پھر سوکھ کر جمادات سے ہوجاتا ہے، اسی طرح جو منافقین اصل میں بت پرست تھے وہ بھی درختوں اور پتھروں کی پرستش کرنے والے تھے۔
اس کے بعد فرمایا : وہ ہر بلند آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں، آیت کے اس حصہ میں بتایا ہے کہ وہ بہت بزدل ہیں۔
پھر فرمایا : اللہ فاسقوں کو ہدیات نہیں دیات، فاسق کا معنی ہے : جو اللہ کی اطاعت سے خارج ہو اور اس کے عموم میں کافر، مشرک اور منافق سب داخل ہیں۔
نیز فرمایا : اللہ انہیں ہلاک کرے یہ کہاں اوندھے جا رہے ہیں۔
یہ بد دعا کا کلمہ ہے، اللہ اس سے پاک ہے کہ وہ کسی بد دعا دے، اس فقرے کا محمل یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کے متعلق یہ ہے کہنا چاہیے۔ (تفسیر کبیرج ٢ ص ٥٤٧، دار احیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)