ہم قدس والوں کو بھول گئے!
آخر کیوں؟
میں جب اپنے ملک پاکستان کے عوام و حکمرانوں کی قدس کے معاملے میں بے رخی اور بے حسی کو دیکھتا ہوں تو حیرت میں پڑ جاتا ہوں کہ بچوں اور عورتوں کو کتوں کی طرح پڑ جانے والا کا_فر زیادہ سنگ دل ہے یا ان سے منہ موڑنے والا مسلمان زیادہ بے حس.
وہی مسئلے، وہی سیاست وہی شغل میلے، وہی خرمستیاں دو منٹ کی آہ تک نہیں.جیسے یہ کوئی فلم یا ڈرامے کے سین ہوں جو صرف فکشن اور جھوٹ پر مبنی ہوتے.
بلکہ اگر فلم اور ڈرامے کا سین بھی ہوتا ان کے دل نرم پڑ جانے تھے کہ انہیں دیکھ کر بلک بلک کر روتے.
جبکہ یہ معاملہ تو اصل دنیا میں ہو رہا ہے لیکن پھر بھی بے حسی….
آج قرآن کریم پڑھاتے ہوئے جب سورۃ توبہ کی یہ آیت سامنے آئی تو اس بے حسی کی وجہ پتا چل گئی.
دیکھیے رب فرماتا ہے.
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ
فرماؤ اگر تمہارے باپ
وَ اَبْنَآؤُكُمْ
اور تمہارے بیٹے
وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ
اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ
وَ اَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا
اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے
وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ
اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں
اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ
اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں
فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ
تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے
-وَاللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ(24)
اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔
ہم نے اللہ، اللہ کے رسول اور جہا_د فی سبیل اللہ کو دنیا اور دھن دنیا کی وجہ سے فراموش کیا تو اس کے نتیجے ہم ڈرپوک ہوگئے کوئی بھی شور شرابا، احتجاج، بائیکاٹ ہمارے لیے کارامد ثابت نہ ہوا، پھر ہم نے کبوتر کی طرح آنکھیں میچ کر اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے کہ سب ٹھیک ہے ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ہمارا کیا قصور ہے؟ ہم بے بس ہیں وغیرہ وغیرہ جبکہ کمائی مذکورہ بالا آیت میں روگردانی کا نتیجہ ہے اور اس کا انجام آیت کے اختتام میں موجود ہے.
اللہ تعالیٰ ایمان کی سلامتی نصیب کرے آمین
فرحان رفیق قادری عفی عنہ
ڈائریکٹر دار النور اسکول سسٹم
29/12/2023
