Site icon اردو محفل

اِنۡ تُقۡرِضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا يُّضٰعِفۡهُ لَـكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ حَلِيۡمٌۙ – سورۃ نمبر 64 التغابن آیت نمبر 17

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ تُقۡرِضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا يُّضٰعِفۡهُ لَـكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ حَلِيۡمٌۙ ۞

ترجمہ:

اور اگر تم اللہ کو قرض حسن دو تو وہ تمہارے لئے اس (کے اجر) کو دگنا کر دے گا اور تم کو بخش دے گا، اور اللہ نہایت قدر دان بہت حلم والا ہے۔

اللہ کو قرض حسن دینے کا معنی

التغابن : ١٧ اور اگر تم اللہ کو قرض حسن دو تو وہ تمہارے لئے اس (کے اجر) کو دگنا کر دے گا۔

یعنی اگر تم اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے اس کی اطاعت میں اپنے اموال کو خرچ کرو تو وہ تم کو دگنا چوگنا اجر عطا فرمائے گا اور یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ تم کو سات سو گنا اجر عطا فرمائے گا۔ (البقرہ : ٢٦١) اور قرض حسن کی تفسیر یہ ہے کہ حلال مال سے صدقہ کیا جائے اور ایک قول یہ یہ کہ خوش دلی سے صدقہ کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ اس کو قرض دو یہ اس کا انتہائی لطف و کرم ہے کیونکہ بندہ جو کچھ اس کی راہ میں خرچ کرے گا وہ اسی کا دیا ہوا مال تو ہے، بندہ کا ذاتی مال تو نہیں ہے۔

نیز اس آیت میں اسناد مجاز عقلی ہے، حقیقت میں تو مال ضرورت مندوں کو دیا جائے گا اور اس آیت میں فرمایا ہے : اللہ کو قرض دو ، جس طرح کہا جاتا ہے : غوث اعظم نے بیٹا دیا حالانکہ حقیقت میں اللہ نے بیٹا دیا ہے۔

نیز اس آیت میں فرمایا : اللہ نہایت قدر دان بہت حلم والا ہے۔

اس آیت میں ” شکور “ کا لفظ ہے، اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا اس مال کا شکر ادا کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ شکور ہے یعنی شکر کی بہت زیادہ جزاء دینے والا ہے اور وہ بہت حلیم ہے، یعنی تمہاری کوتاہیوں پرف وراً گرفت نہیں کرتا اور تم کو مہلت دیتا رہتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 64 التغابن آیت نمبر 17

Exit mobile version