جس شخص کو جو بھی مصیبت پہنچی ہے وہ اللہ کے اذن سے پہنچتی ہے، اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھے اللہ اس کے دل کو ہدایت دے گا اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس شخص کو بھی مصیبت پہنچی ہے وہ اللہ کے اذن سے پہنچتی ہے اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھے، اللہ اس کے دل کو ہدایت دے گا اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو پس اگر تم نے منہ پھیرا تو ہمارے رسول کے ذمہ تو صرف (احکام کو) وضاحت سے پہنچا دینا ہے۔ اللہ (ہی) ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور اللہ پر ہی مئومنوں کو توکل کرنا چاہیے۔ اے ایمان والوچ بیشک تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں سو ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ (التغابن : ١٤-١١)
مصائب پر صبر کرنے کی تلقین اور ترغیب
اس آیت میں اللہ کے اذن سے مراد ہے : اس کے ارادہ اور اس کے فیصلہ سے یا اللہ کے امر سے یا اس کے علم سے۔
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ کفار نے کہا، اگر مسلمانوں کا دین برحق ہوتا تو اللہ ان کو دنیاوی مصائب سے محفوظ رکھتا۔
اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا : مسلمانوں کو ان کی جان، ان کی اولاد اور ان کے اموال میں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اللہ کے فیصلہ سے پہنچتی ہے اور جو مسلمان اللہ پر کامل ایمان رکھتے ہیں تو اللہ ان کے دلوں کو صبر کرنے کی ہدیات دیتا ہے اور وہ مصیبت کے وقت کہتے ہیں :” انا للہ و انا الیہ رجعون۔ “ (البقرہ : ٥٦) اور اللہ ان کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ یہ یقن رکھیں کہ جو مصیبت ان پر آئی ہے وہ ان سے ٹل نہیں سکتی تھی اور جس مصیبت سے وہ بچ گئے وہ ان پر آ نہیں سکتی تھی۔