اے نبی مکرم ! ( مومنوں سے کہیے) جب تم ( اپنی) عورتوں کو طلاق دو ، تو ان کی عدت کے وقت ( طہر بلا مباشرت) میں ان کو طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، تم ان کو ( دوران عدت) ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، سوا اس کے کہ وہ کھلی بےحیائی کریں، اور یہ اللہ کی حدود ہیں، اور جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا اس نے اپنای جان پر ظلم کیا، تم کو معلوم نہیں شاید اس کے بعد اللہ کوئی نئی صورت پیدا کر دے
تفسیر:
مسئلہ طلاق کی تحقیق
“الطلاق مرتن ‘‘ (البقرہ:۲۲۹۔۲۳۵) کی تفسیر میں ہم نے طلاق کے تمام پہلوؤں پر بہت شرح وبسط سے لکھا ہے
سطور ذیل میں ہم وہ عنوانات لکھ رہے ہیں جن کے تحت ہم نے مسئلہ طلاق پر لکھا ہے:
(۱) طلاق کا لغوی معنی (۲) طلاق کا اصطلاحی معنی (۳) طلاق کی اقسام (۴) طلاق کیوں مشروع کی گئی (۵) صرف ناگزیر حالات میں طلاق دی جاۓ (۲) صرف مردکو کیوں طلاق کا اختیار دیا گیا (۷) طلاق میں عورت کی رضامندی کا اعتبار کیوں نہیں ہے(۸) خلع (۹) قاضی اور حکمین کی تفریق (۱۰) تین طلاقوں کی تحدید کی وجوہات، مصالح اور حکمتیں (۱۱) سنت کے مطابق اور احسن طریقہ سے طلاق دینے کے فوائد (۱۲) طلاق کی تدریج میں مرد کی اور تحدید میں عورت کی رعایت ہے (۱۳) ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کے نتائج (۱۴) بہ یک وقت دی گئی تین طلاقوں کے حکم میں جمہور کا موقف (۱۵) به یک وقت دی گئی تین طلاقوں میں علماء شیعہ کا مؤقف (۱۲) تین طلاقوں کو ایک طلاق دینے پر شیخ ابن تیمیہ اور ان کے موافقین کے دلائل (۱۷) شیخ ابن تیمیہ اور ان کے موافقین کے دلائل کے جوابات (۱۸) تسبیح فاطمہ پر قیاس کے جوابات (۱۹) حضرت عمر پر عہد رسالت کے معمول کو بدلنے کے الزام کے جوابات (۲۰) صحیح مسلم کی زیر بحث روایت غیر صیح اور مردود ہے (۲۱) صحیح مسلم کی زیر بحث روایت کے غیر صحیح ہونے پر دوسری دلیل ( ۲۲ ) اعتبار راوی کی روایت کا ہے یا اس کی راۓ کا (۲۳) مسلم میں درج طاؤس کی روایت کے غلط اور شاذ ہونے پر مزید دلائل( ۲۴ ) طاؤس کی روایت کا صحیح محمل (۲۵) حضرت رکانہ سے متعلق مسند احمد کی روایت کی فنی اقسام (۲۲) حضرت رکانہ سے متعلق صحاح کی روایت کی تقویت ( ۲۷ ) حضرت رکانہ سے متعلق سنن ابوداؤد کی ایک شاذ روایت کے ضعف کا بیان (۲۸) بہ یک وقت دی گئی تین طلاقوں کے تین ہونے پر جمہور کے قرآن مجید سے دلائل (۲۹) قرآن مجید سے استدلال پر اعتراض کے جوابات (۳۰) بہ یک وقت دی گئی تین طلاقوں پر جمہور فقہاء اسلام کے احادیث سے دلائل (۳۱) حضرت عویمر کی حدیث سے استدلال پر اعتراض کے جوابات (۳۲) صحیحین کی ایک اور حدیث سے استدلال پر اعتراض کے جوابات (۳۳) سعید بن نحفلہ کی روایت کی تحقیق (۳۴) سنن نسائی کی روایت سے استدلال پر اعتراض کا جواب (۳۵) بہ یک وقت دی گئی تین طلاقوں کے واقع ہونے میں آ ثار صحابہ اور اقوال تابعین (۳۲) جس عورت کو خاوند خرچ نہ دے اس کی گلوخلاصی میں مذاہب ائمہ(۳۷) خرچ سے محروم عورت کی گلوخلاصی پر جمہور فقہاء کے دلائل (۳۸) مذاق میں دی ہوئی طلاق کا نافذ ہونا (۳۹) عدت وفات کا بیان اور عدت کی تعریف ( ۴۰ ) عدت کے مسائل اور شرعی احکام ۔
یہ طویل بحث تبیان القرآن ج اص۸۸۹-۸۵۰ میں پھیلی ہوئی ہے ۔
“وإن خفتم شقاق بينهما فابعثواحتما‘‘ (النساء:۳۵) کی تفسیر میں بھی ہم نے طلاق کے بعض پہلوؤں پر لکھا ہے
اس کے عنوانات سے ہیں:
(۱) اختلاف زن و شوہر میں دونوں جانب سے مقرر کردہ منصف آیا حاکم ہیں یا وکیل (۲) اگر شوہر بیوی کوخرچ دے نہ طلاق تو آیا عدالت اس کا نکاح فسخ کر سکتی ہے یا نہیں؟ (۳) عدالت کے فسخ نکاح پر اعتراضات کے جوابات (۴) قضاءعلی الغائب کے متعلق مذاہب ائمہ (۵) قضاء على الغائب کے متعلق احادیث (۲ ) دفع حرج، مصلحت اور ضرورت کی بناء پر ائمہ ثلاثہ کے مذاہب پر فیصلہ اور فتوی کا جواز ( ۷ ) جو شخص اپنی بیوی کو نہ خرچ دے نہ آباد کرے اس کے متعلق شریعت کا حکم ۔
یہ ابحاث تبیان القرآن ج 2 ص 668۔660 میں پھیلی ہوئی ہیں ۔
طلاق کی ابحاث میں درج ذیل عنوانوں کا مطالعہ بھی مفید رہے گا:
ایک لفظ کے ساتھ اور ایک مجلس میں دی ہوئی تین طلاقوں کے متعلق فقہاء حنبلیہ کی تحقیق
جب تین طلاقیں ایک لفظ سے دی جائیں مثلا کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے: میں نے تم کو تین طلاقیں دیں یا ایک مجلس میں تین لفظوں سے تین بار طلاق دے مثلا اپنی بیوی سے کہے: میں نے تم کو طلاق دی پھر دوسری بار کہے: میں نے تم کو طلاق دی پھر تیسری بار کہے: میں نے تم کو طلاق دی تو ہر چند کہ یہ طلاق خلاف سنت ہے اور اس کو طلاق بدعی کہا جا تا ہے مگر یہ تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی ۔ شیخ تقی الدین احمد بن تيمية الحرانی حنبلی المتوفی ۷۲۸ھ نے اس کی مخالفت میں بہت غلو کیا ہے اور ان دونوں صورتوں میں یہ کہا ہے کہ لفظ واحد سے تین طلاقیں دی جائیں یا ایک مجلس میں تین لفظوں سے تین طلاقیں دی جائیں ہر صورت میں ایک طلاق واقع ہو گی اور چونکہ ابن تیمیہ اپنے آپ کو حنبلی کہتے ہیں اس لیے ہم اس مسئلہ میں فقہاء حنبلیہ کا مذہب ذکر کرر ہے ہیں:
علامہ ابوالقاسم عمر بن الحسین عبداللہ بن احمد الخرق الحنبلی المتوفی 334ھ لکھتے ہیں:
مسئلہ: جب کوئی شخص تین طلاقیں دے اور نیت ایک طلاق کی کرے تو وہ تین طلاقیں ہی ہوں گی ۔
اس کی شرح میں علامہ موفق الدین عبد اللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی 260 ھ لکھتے ہیں:
جب کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے تم کو تین طلاقیں تو وہ تین طلاقیں ہیں خواہ وہ ایک طلاق کی نیت کرے۔ ہمارے علم میں اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ لفظ تین, تین عدد میں صریح ہے اور نیت صریح کے معارض نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ لفظ سے ضعیف ہے اس وجہ سے صرف نیت کوئی عمل نہیں کرتی، اور لفظ صریح قوی ہے وہ نیت کے بغیر بھی عمل کرتا ہے پس ضعیف قوی کے معارض نہیں ہوسکتا جس طرح قیاس نص کے معارض نہیں ہوسکتا۔ (المغنی لابن قدامہ مع الشرح الکبیرج 8 ص 408 دار الفکر بیروت )
علامہ شمس الدین عبدالرحمن محمد بن احمد بن قدامہ المقدسى الحنبلی المتوفی 682 ھ لکھتے ہیں:
اگر کسی شخص نے ایک کلمہ سے تین طلاقیں دیں تو تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور اس کی بیوی اس پر حرام ہو جاۓ گی حتی کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے, خواہ وہ مباشرت سے پہلے تین طلاقیں دے یا مباشرت کے بعد تین طلاقیں دے۔
حضرت ابن عباس، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عمر، حضرت عبداللہ بن عمرو، حضرت ابن مسعود اور حضرت انس رضی اللہ عنہم کا یہی مؤقف ہے اور یہی قول اکثر فقہاء تابعین اور ان کے بعد کے ائمہ کا ہے۔
اس کے برخلاف عطاء, طاؤس، سعید بن جبیر، ابو الشعثاء اور عمرو بن دینار یہ کہتے تھے کہ جس شخص نے کنواری عورت کو تین طلاقیں دیں تو وہ ایک طلاق ہے اور طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر نے کہا: لوگوں نے اس کام میں جلدی کی جس میں ان کے لیے تاخیر کی گنجائش تھی، پس اگر ان کی دی ہوئی طلاقوں کو ہم ان پر نافذ کر دیں پھر آپ نے ان کی طلاقوں کو ان کے اوپر نافذ کردیا۔
(صحیح مسلم رقم الحدیث:۱۴۷۲ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ۲۲۰۰-2199 سنن نسائی رقم الحد میث:۳۴۰۶ )
اور سعید بن جبیر، عمرو بن دینار مجاہد اور اور مالک بن الحارث نے حضرت ابن عباس سے طاؤس کی روایت کے خلاف روایت کیا ہے اور اس حدیث کو بھی امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے: تین طلاقوں کے نافذ ہونے کے متعلق امام ابوداؤد کی روایات حسب ذیل ہیں:
مجاہد کہتے ہیں ہے کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا پھر اس نے کہا: اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش رہے حتی کہ میں نے گمان کیا کہ حضرت ابن عباس اس کی بیوی اس کی طرف لوٹا دیں گے پھر حضرت ابن عباس نے فرمایا: تم میں سے ایک شخص چلتا ہے پھر جہالت کے گھوڑے پر سوار ہوتا ہے پھر کہتا ہے: اے ابن عباس! اے ابن عباس اور بے شک اللہ نے فرمایا ہے : (وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا) ( الطلاق : ٢) (اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ پیدا کردیتا ) اور تو اللہ سے نہیں ڈرا اور اللہ نے تیرے لیے نجات کا راستہ نہیں نکالا تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تیری بیوی تیرے نکاح سے نکل گئی۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢١٩٧)
امام ابو دائود نے کہا : اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے از مجاہد از ابن عباس روایت کیا ہے اور شعبہ نے از عمرو بن مرہ از سعید بن جبیر از ابن عباس روایت کیا ہے اور ایوب اور ابن جریج دونوں نے از عکرمہ بن خالد از سعید بن جبیر از ابن عباس روایت کیا ہے اور ابن جریح نے از عبد الحمید بن رافع ازعطا از ابن عباس روایت کیا ہے اور الاعمش نے از مالک بن الحارث از ابن عباس روایت کیا ہے اور ابن جریح نے از عمرو بن دینار ازابن عباس روایت کیا ہے اور یہ سب کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے تین طلاقوں کو نافذ کردیا اور یک بارگی تین طلاقیں دینے والے کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی جیسا کہ از ایوب از عبد اللہ بن کثیر از مجاہد از بن عباس روایت ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابن عباس کے پانچ شاگرد ( مجاہد، سعید بن جبیر، عطا، ملک بن الحارث اور عمرو بن دینار) حضرت ابن عباس سے یہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے اکٹھی تین طلاقیں دینے والے پر تین طلاقیں نافذ کردیں اور اکیلے طائوس کی روایت ان سب کے خلاف ہے، اس لیے اس کو طائوس کا وہم قرار دیا جائے گا۔
علامہ شمس الدین مقدسی حنبلی فرماتے ہیں : حضرت ابن عباس کا فتویٰ طائوس کی روایت کے خلاف ہے۔
امام الدارقطنی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبادہ بن بن الصامت (رض) سے روایت کیا ہے کہ میرے بعض آباء نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دیں، اس کے بیٹے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور کہا : یا رسول اللہ ! ہمارے باپ نے ہماری ماں کو ہزار طلاقیں دیں ہیں پس اس کے لیے کوئی نجات کی راہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : تمہارا باپ اللہ سے نہیں ڈرا کہ اللہ اس کے لیے کوئی نجات کی راہ نکالتا، خلاف سنت تین طلاقوں سے اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی اور نو سو ستانوے اس کے گلے میں گناہ ہیں۔ ( سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٨٧٧) ۔
اور اس کی عقلی دلیل یہ ہے کہ نکاح انسان کی ملکیت ہے اور ملکیت کا ازالہ جس طرح متفرق طور پر صحیح ہے اسی طرح اجتماعی طور پر اور دفعۃً بھی صحیح ہے اور ہی حضرت ابن عباس کی حدیث تو ان سے اس کے خلاف زیادہ اسانید کے ساتھ مروی ہے اور اسی پر ان کا فتویٰ بھی ہے۔
اثرم نے کہا : میں نے ابو عبد اللہ سے حضرت ابن عباس کی حدیث کے متعلق سوال کیا کہ آپ کس دلیل سے ان کی حدیث کو رد کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : اس وجہ سے کہ بہ کثرت رایوں نے حضرت ابن عباس سے اس کے خلاف روایت کیا ہے، پھر متعدد اسانید کے ساتھ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ تین طلاقیں ہیں۔
ایک قول یہ ہے کہ حضرت ابن عباس کی حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر کے عہد میں لوگ ایک طلاق دیتے تھے (یعنی ایک طلاق دیتے تھے اور اس کی تاکید کے لیے دوبارہ طلاق کا مکر رذکر کرتے تھے، بعد میں حضرت عمر کے دور میں بعض لوگوں نے اس سے ناجائز فائدہ ٹھایا، وہ تین طلاقیں دینے کے ارادہ سے تین بار طلاق کا ذکر کرتے پھر بعد میں جب بیوی سے صلح ہوجاتی تو کہتے : میں نے ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا اور دو بار تاکید کے لیے ذکر کیا تھا تو حضرت عمر نے ان کی اس تاویل کو ختم کرنے کے لیے کہا : جو تین بار طلاق ہی ہوں گی اور ان کی تاکید کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا یا عہد رسالت میں جن تین طلاقوں کو ایک قرار دیا جاتا تھا وہ غیر مد خولہ کی تین طلاقیں ہوتی تھیں، ان کو ایک اس لیے قرار دیا جاتا تھا کہ ایک طلاق سے غیر مدخولہ بائنہ ہوجاتی تھی اور باقی دو طلاقوں کا محل نہیں رہتی تھی) ورنہ حضرت عمر (رض) سے یہ متوقع نہیں ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر (رض) کے عہد کے معمول کی مخالفت کریں اور نہ حضرت ابن عباس (رض) کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک حدیث روایت کریں اور اس کے خلاف فتویٰ دیں ( دوسری تاویل کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ امام نسائی نے اس حدیث کو اس باب کے تحت ذکر کیا ہے ” غیر مد خولہ کو تین متفرق طلاقیں دینا “ (سنن نسائی رقم الحدیث ٣٤٠٣) سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢١٩٩ میں اس کی مزید وضاحت ہے، اس کو ہم عنقریب بیان کریں گے۔ ( الشرح الکبیر مع المغنی ج ٨ ص ٢٦١، ٢٦٠، موضحا و مخرجاً ، دارالفکر، بیروت) ۔
ایک لفظ کے ساتھ اور ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین طلاقیں قرار دینے کی احادیث :۔ حضرت سہل (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عویمر (رض) اور ان کی بیوی نے آپس میں لعان کیا اور میں بھی لوگوں کے ساتھ یا رسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا، جب وہ ایک دوسرے پر لعنت کرنے سے فارغ ہوگئے تو حضرت عمویمرنے کہا : یا رسول اللہ ! اب اگر میں اس عورت کو اپنے نکاح میں رکھوں تو میں جھوٹا ہوں پس انہوں نے آپ کے حکم دینے سے پہلے اس عورت کو تین طلاقیں دے دیں۔
( صحیح بخاری رقم الحدیث : ٥٣٠٨، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٢٥١، ٢٢٤٥، سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٣٩٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٦٦ )
حضرت محمود بن لبید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دیدیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غضب میں آکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا : میں تمہارے درمیان موجود ہیں اور اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جاتا ہے حتیٰ کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا : یا رسول اللہ ! میں اس کو قتل نہ کر دوں ! (سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٣٩٨)
حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عویمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تین طلاقیں دیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تین طلاقوں کو نافذ کردیا۔ ( سنن ابو دائود، رقم الحدیث : ٢٢٥٠ ) ۔
اس حدیث میں اس کی واضح تصریح ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اکٹھی دی گئی تین طلاقوں کو نافذ کردیا۔
یہ صحاح ستہ کی احادیث ہیں، اب ہم دیگر کتب احادیث سے احادیث پیش کر رہے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں نافذ ہوجاتی ہیں، ان میں دو ، تین حدیثوں کی سند ضعیف ہے جن کی ہم نے تعیین کردی ہے، لیکن ہم ان کو احادیث صحیحہ کی تائید اور تقویت میں پیش کر رہے ہیں، نیز ان احایث کی متعدد اسانید ہیں اور تعداد اسانید سے وہ حدیث حسن لغیرہ ہوجاتی ہیں۔ آخر میں ہم سنن ابو دائود کی احادیث سے مزید وضاحت کریں گے۔
سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حفص بن المغیرہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں اپنی بیوی فاطمہ بن قیس کو ایک لفظ کے ساتھ تین طلاقیں دیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی بیوی کو اس سے الگ کردیا۔ (سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٨٥٨، سنن بیہقی ج ٧ ص ٣٢٩ )
سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دیں، حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس میں سے تم کو تین طلاقیں کافی ہیں اور نو سو ستانوے طلاقیں چھوڑ دو ۔ (سنن داراقطنی رقم الحدیث : ٣٨٥٩، مصنف عبد الرزاق رقم الحدیث : ١١٣٥٠، سنن بیہقی ج ٧ ص ٣٣٨) ۔
نیز سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دی ہیں، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : تین طلاقوں نے تمہاری بیوی تم پر حرام کردی اور بقیہ طلاقوں کے ساتھ تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنایا ہے۔ ( مصنف عبد الرزاق رقم الحدیث : ١١٣٥٣، سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٨٦٠، مسند الشافعی ج ٢ رقم الحدیث : ١٣٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢١٩٧، سنن بیہقی ج ٧ ص ٣٣٧، حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا ہے : اس حدیث کی سند صحیح ہے)
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک شخص نے سوال کیا کہ اس نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دیں ہیں، حضرت ابن عباس نے کہا : تم نے اپنے باپ کی نافرمانی کی اور تم اپنی بیوی سے الگ ہوگئے اور تم اللہ سے نہیں ڈرے کہ اللہ تمہارے لیے کوئی نجات کی راہ نکالتا۔ ( سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٨٦١، سنن بیہقی ج ٧ ص ٣٣٧) ۔
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ قریش کا ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے ابن عباس ! میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، میں اس وقت غصہ میں تھا، حضرت ابن عباس نے کہا : بیشک ابن عباس ای کی طاقت نہیں رکھتا کہ تمہارے لیے اس چیز کو حلال کر دے جس کو اللہ نے حرام کیا ہے، تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کردیا، اور بیشک تم اللہ سے نہیں ڈرتے کہ وہ تمہارے لیے نجات کی کوئی راہ نکالتا۔
(سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٨٦٢، مصنف عبد الرزاق رقم الحدیث : ١١٣٥٢ )
حبیب بن ابی ثابت بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے پاس گیا اور کہنے لگا میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دیں ہیں، حضرت علی نے فرمایا : تین طلاقوں نے تیری بیوی کو تجھ پر حرام کردیا اور باقی طلاقوں کو تو اپنی عورتوں میں تقسیم کر دے ( سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٨٨٠، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٤ ص ٦٢، رقم الحدیث : ٧٨٠٢ سنن بیہقی ج ٧ ص ٣٣٥) ۔
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ستاروں کی تعداد کے برابر طلاق دی، حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس نے سنت میں خطا کی اور اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی۔ ( سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٨٨١، مصنف عبد الرزاق رقم الحدیث : ١٣٤٧، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٤ ص ٦٣، رقم الحدیث : ١٧٨١٣، سنن بیہقی ج ٧ ص ٣٣٧) ۔
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی بن ابی طالب (رض) کے نکاح میں عائشہ خثعمیہ تھی اور جب حضرت علی (رض) شہید ہوگئے اور حضرت حسن کی بیعت خلافت کی گئی تو اس نے کہا : اے امیر المومنین ! آپ کو خلافت مبارک ہو، حضرت حسن نے فرمایا : حضرت علی شہید ہوگئے اور تم خوشی کا اظہار کر رہی ہو، جائو تم کو تین طلاقیں دیں، وہ اپنا سامان اکٹھا کر کے بیٹھ گئی، حتیٰ کہ اس کی عدت پوری ہوگئی۔ حضرت حسن نے اس کی طرف دس ہزار درہم بطور متعہ کے بھیجے اور بقیہ مہر کی رقم بھیجی تو عائشہ خثعمیہ نے کہا : یہ جدا ہونے والے محبوب کی طرف سے تھوڑا سا سامان ہے، جب حضرت حسن کو اس بات کی خبر ہوئی تو وہ رونے لگے اور کہا : اگر میں نے اپنے نانا سے یہ نہ سنا ہوتا یا میرے والد نے یہ نہ کہا ہوتا کہ انہوں نے میرے نانا سے سنا ہے، جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں خواہ ایک ساتھ خواہ ہر طہر میں ایک تو اس کے لیے اس کی بیوی اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے، تو میں اس سے رجوع کرلیتا۔
(سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٩٠٦، سنن بیہقی، ج ٧ ص ٣٣٦)
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے مگر وہ سند ضعیف ہے۔ (سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٩٠٧، سنن بیہقی ج ٧ ص ٣٣٦) ۔
اس حدیث میں واضح تصریح ہے کہ تین طلاقیں اکٹھی دی جائیں تو وہ تینوں واقع ہوجاتی ہیں۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی اور اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور سنت کے خلاف کیا۔ ( سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٩٠٩، اس حدیث کی سند میں محمد بن اسحاق ہے، ہرچند کہ وہ صادق ہے مگر مدلس ہے، امام دارقطنی نے اس حدیث کو ایک اور سند سے بھی روایت کیا ہے۔ )
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہے۔ جب تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی مٹھاس نہ چکھ لے۔ (سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٩١١، اس حدیث کی سند میں علی بن زید ضعیف راوی ہے۔ )
محمد بن ایاس بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے سوال کیا گیا کہ کنواری لڑکی ( غیر مدخولہ) کو اس کا شوہر تین طلاقیں دے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ تو ان سب نے کہا : اس کے لیے وہ حلال نہیں ہے حتیٰ کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢١٩٨) ۔
امام ابو دائود نے کہا : پہلے حضرت ابن عباس کا قول یہ تھا کہ تین طلاقوں کے بعد عورت اپنے خاوند کے نکاح سے نکل جاتی ہے، خواہ اس سے پہلے مباشرت کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو بعد میں ان کا قول یہ تھا کہ یہ حکم اس عورت کے ساتھ خاص ہے جو غیر مدخولہ ہو یعنی اس سے مباشرت نہ کی گئی ہو۔
طائوس بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو ابو الصہباء کہا جاتا تھا، وہ حضرت ابن عباس سے سوال کیا کرتا تھا، اس نے کہا : کیا آپ کو نہیں معلوم کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو مباشرت سے پہلے تین طلاقیں دے دیں تو اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں اور حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں اور حضرت عمر کی خلافت کی ابتداء میں ایک طلاق قرار دیا جاتا تھا ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا : کیوں نہیں ! ایک شخص اپنی بیوی کو مباشرت سے پہلے تین طلاقیں دینا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں اور حضرت ابوبکر کے عہد میں اور حضرت عمر کی خلافت کی ابتداء میں اس کو ایک طلاق قرار دیا جاتا تھا، پھر جب حضرت عمر نے دیکھا کہ لوگ اس کام کو پے در پے کرنے لگے ہیں ( یعنی غیر مدخولہ اور مدخولہ دونوں کے ساتھ یہ معاملہ کرنے لگے ہیں) تو انہوں نے فرمایا : ان پر یہ تینوں طلاقیں نافذ کردو۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢١٩٩) ۔
ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ طائوس کی یہ روایت شاذ ہے، حضرت ابن عباس کے باقی شاگرد یہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس تین طلاقوں کو تین طلاق ہی کہتے تھے جیسا کہ ہم سنن ابو دائود سنن دارقطنی، سنن بیہقی، مصنف عبد الرزاق اور مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالوں سے بیان کرچکے ہیں اور اگر طائوس کی روایت کو صحیح مان لیا جائے تو اس کا محمل یہ ہے کہ وہ غیر مدخولہ پر محمول ہے کیونکہ غیر مدخولہ پہلی طلاق سے بائن ہوجائے گی اور باقی دو طلاقوں کا محل نہیں رہے گی، اس لیے اس پر صرف ایک طلاق واقع ہوگی جیسا کہ مذکور الصدر حدیث میں اس کی تصریح ہے اور جو عورت مدخولہ ہو اس کو اگر تین طلاقیں ایک مجلس میں دی جائیں تو وہ تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صریح ارشادات اور حضرت ابن عباس (رض) کے فتاویٰ سے بیان کیا جا چکا ہے۔
ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے پر شیخ ابن تیمیہ کے دلائل :۔ شیخ تقی الدین احمد بن تیمیۃ الحرانی المتوفی ٧٢٨ ھ نے تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے پر درج ذیل حدیث سے استدلال کیا ہے :
محمد بن اسحاق از دائود بن الحصین از عکرمہ از حضرت ابن عباس (رض) روایت ہے کہ حضرت رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، پھر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا : ایک مجلس میں یا کئی مجالس میں ؟ انہوں نے کہا : بلکہ ایک مجلس میں، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی بیوی ان پر واپس کردی۔
اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں :
امام احمد بن حنبل نے اس حدیث کو ثابت کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ یہ حدیث رکانہ کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق البتہ دی تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے حلف لے کر پوچھا تھا کہ تم نے اس لفظ سے طرف ایک طلاق کا ارادہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے حلف اٹھا کر کہا کہ انہوں نے اس لفظ ( البتہ) سے صرف ایک طلاق کا ارادہ کیا ہے تو آپ نے ان کی بیوی کو انہیں واپس کردیا۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٢٠٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٥١) اس حدیث کی راوی مجہول الصفات ہیں، ان کا عدل (نیک ہونا) اور ان کا حافظہ معروف نہیں ہے، اس وجہ سے اس حدیث کو امام احمد، ابو عبید اور ابن حزم وغیرہم ائمہ حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے، اس کے بر خلاف تین طلاقوں والی حدیث کی سند جید ہے۔ (مجموعۃ الفتاویٰ ، ج ٣٢ ص ١٩٥، دارالجیل، ریاض، ١٤١٨ ھ)
شیخ ابن تیمیہ کے دلائل کے جوابات :۔ شیخ ابن تیمیہ نے یہ سب خلاف واقعہ لکھا ہے، مسند احمد یہ حدیث اس طرح نہیں ہے جس طرح شی ابن تیمیہ نے نقل کی ہے اور نہ اس حدیث کے تحت امام احمد نے وہ تقریر کی ہے جس کو شیخ ابن تیمیہ نے ذکر کیا ہے۔ پہلے ہم مسند احمد کے حوالے سے اس حدیث کا صحیح متن نقل کرتے ہیں :
” حدثنا سعد بن ابراہیم، حدثنا ابی عن محمد بن اسحاق حدثنی دائود بن الحصین عن عکرمۃ مولی ابن عباس “۔
از حضرت ابن عباس (رض) روایت ہے کہ بنو مطلب کے بھائی حضرت رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں، پھر ان کو اس پر بہت زیادہ رنج ہوا، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا : تم نے اس کو کیسے طلاق دی تھی ؟ انہوں نے کہا : میں نے اس کو تین طلاقیں دیں تھیں، آپ نے پوچھا : ایک مجلس میں ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! آپ نے فرمایا : یہ صرف ایک طلاق ہے، اگر تم چاہو تو اس سے رجوع کرلو، پھر حضرت رکانہ نے اس سے رجوع کرلیا، لہٰذا حضرت ابن عباس کی یہ رائے تھی کہ طلاق ہر طہر میں دینی چاہیے۔
(مسند احمد ج ١ ص ٢٦٥ طبع قدیم، مسند احمدج ٤ ص ٢١٥، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٠ ھ)
شیخ ابن تیمیہ کا اس حدیث کی سند کو جید کہنا غلط ہے، در حقیقت اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔
شعیب الارنؤوط اور دیگر محققین اس حدیث کی سند کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
اس حدیث کی سند ضعیف ہے، دائود بن الحصین نے عکرمہ سے روایت کی ہے اس میں سقم ہے۔ علی بن المدینی نے کہا : عکرمہ سے جو روایت کیا گیا ہے وہ منکر ہے۔ ابو دائود نے کہا : دائود بن الحصین کی جو روایات اپنے شیوخ سے ہیں وہ درست ہیں اور اس کی عکرمہ سے جو روایت ہے وہ منکر ہے۔ حافظ ذہبی نے کہا : اس کی غرائب منکر ہیں۔ حافظ ابن حجر نے کہا : عکرمہ کے سوا اس کی روایات ثقہ ہیں۔
حافظ بیہقی نے کہا : اس حدیث کی سند حجت نہیں ہے، جب کہ حضرت ابن عباس (رض) کے آٹھ شاگردوں نے اس کے خلاف حضرت ابن عباس (رض) کا فتویٰ روایت کیا ہے اور حضرت رکانہ کی اولاد ان کے اقوال سے زیادہ واقف تھی اور انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت رکانہ (رض) نے ایک طلاق دی تھی۔ ( سنن بیہقی ج ٧ ص ٣٣٩) ۔
علامہ خطابی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند پر اعتراض ہے کیونکہ ابن جریج نے اس حدیث کو ابو رافع کے بعض بیٹوں سے روایت کیا ہے اور ان کا نام نہیں لیا اور مجہول شخص کی روایت حجت نہیں ہوتی۔ ( معالم السنن ج ٣ ص ٢٣٦) ۔
(حاشیہ مسند احمد ج ٤ ص ٢١٥، رقم الحدیث : ٢٣٨٧، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
سنن ابو دائود کی اس حدیث سے بھی شیخ ابن تیمیہ نے استدلال کیا ہے :
ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ ابو رافع کے بعض بیٹوں نے مجھ سے بیان کیا کہ عکرمہ جو حضرت ابن عباس کے آزاد شدہ غلام ہیں وہ حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رکانہ اور ان کے بھائیوں کے والد (رض) نے حضرت ام رکانہ کو طلاق دے کر مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کرلیا، وہ عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئیں، انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اپنے بالوں کو پکڑ کر کہا : جس طرح یہ بال ایک دوسرے کے کام نہیں آسکتے اسی طرح میں بھی کسی کام کاج کی نہیں رہی، مجھے آپ ان سے جدا کر دیجئے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حمیت جوش میں آگئی، پھر آپ نے حضرت رکانہ اور ان کے بھائیوں کو بلایا اور اہل مجلس سے فرمایا : کیا تم دیکھ رہے ہو کہ فلاں اور فلاں ابورکانہ سے کس قدر مشابہ ہیں اور وہ ان سے کتنا مشابہ ہے، صحابہ نے کہا : جی ہاں ! پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبد یزید سے فرمایا : اس کو طلاق دے دو ، انہوں نے طلاق دے دی، پھر فرمایا : تم اپنی بیوی اور رکانہ اور ان کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کرلو، انہوں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں تو ان کو تین طلاقیں دے چکا ہوں، آپ نے فرمایا : مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کرلو، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :” یٰٓـاَیُّھَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ “ (الطلاق : ١)
اس حدیث کو ذکر کر کے امام ابو دائود سلیمان بن اشعت متوفی ٢٧٥ ھ فرماتے ہیں :
نافع بن عجیر کی اور عبد اللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت ہے کہ حضرت رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق البتہ دی تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی بیوی ان کو واپس کردی تھی، یہ روایت زیادہ صحیح ہے کیونکہ کسی شخص کی اولاد اور اس کے اہل اس کے قوال کو زیادہ جاننے والے ہوتے ہیں اور بیشک رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق البتہ دی تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ایک طلاق قرار دیا تھا۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢١٩٦) ۔
مذکور الصدر حدیث کا غیر صحیح ہونا درج ذیل حدیث سے بھی اظہر ہوتا ہے، امام ابو دائود روایت کرتے ہیں :
نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی سمیمہ کو طلاق البتہ دی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر دیتے ہوئے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے لفظ البتہ سے صرف ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اللہ کی قسم ! تم نے ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا ؟ حضرت رکانہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے صرف ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی بیوی ان کو واپس کردی، پھر حضرت رکانہ نے حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں اپنی بیوی کو دوسری طلاق دی اور حضرت عثمان کے زمانہ میں تیسری طلاق دی۔
(سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٢٠٦، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١١٧٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٥١، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٥ ص ٦٥ )
امام ابو دائود نے اس حدیث کو دو مزید سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٢٠٨، ٢٢٠٧) اس کے بعد امام ابودائود فرماتے ہیں : یہ حدیث ابن جریج کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے جس میں ذکر ہے کہ حضرت رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اور نافع بن عجیر اور عبد اللہ بن علی حضرت رکانہ کے پوتے ہیں اور وہ اپنے دادا کے اقوال سے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ جاننے والے ہیں اور ابن جریج کی حدیث کو ابو رافع کے بعض بیٹوں نے ابو رافع از عکرمہ از ابن عباس روایت کیا ہے۔
امام ترمذی نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد لکھا ہے : طلاق البتہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کا اختلاف ہے، بعض اہل علم نے کہا : طلاق البتہ میں مرد کی نیت کا اعتبار ہے، مگر وہ لفظ البتہ سے ایک طلاق کی نیت کرے تو وہ ایک طلاق ہوگی اور اگر تین طلاق کی نیت کرے گا تو وہ تین طلاقیں اور اگر وہ دو طلاقوں کی نیت کرے گا تو صرف ایک طلاق ہوگی، یہ ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ( الیٰ قولہ) امام شافعی نے کہا : اگر اس نے ایک طلاق کی نیت کی تو ایک رجعی طلاق ہو اور اگر دو طلاقوں کی نیت کرے گا تو دو طلاقیں ہوں گی اور اگر تین کی نیت کرے گا تو تین ہوں گی۔
ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے پر شیخ ابن حزم ظاہری کا رد کرنا :۔ غیر مقلدین حضرات ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دیتے ہیں اور طائوس کی روایت اور حضرت رکانہ کی حدیث سے اس پر استدلال کرتے ہیں، لطف کی بات یہ ہے کہ شیخ علی بن احمد بن حزم ظاہری اندلسی متوفی ٤٥٦ ھ پر وہ بہت اعتماد کرتے ہیں اور ابن حزم نے ان کے دلائل کا بہت رد کیا ہے، وہ لکھتے ہیں۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دیا جائے، ان کی دلیل یہ حدیث ہے :
طائوس نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں اور حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں اور حضرت عمر کی خلافت کے دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک قرار دیا جاتا تھا، پھر حضرت عمر نے کہا : لوگوں نے اس کام میں جلدی کی، جس میں ان کے لیے تاخیر کی گنجائش تھی، پس اگر ہم ان پر ان تین طلاقوں کو نافذ کردیں ( تو اچھا ہو) پھر انہوں نے ان پر ان تین طلاقوں کو نافذ کردیا۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٧٢) ۔
نیز طائوس نے بیان کیا کہ ابوالصبہاء نے حضرت ابن عباس سے کہا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں اور حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں حضرت عمر کی خلافت کے دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک طلاق کی طرف لوٹا یا جاتا تھا ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ہاں ! ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٢٠٠، سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٤٠٦) ۔
اور انہوں نے اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے :
ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابو رافع کے بعض بیٹوں نے بتایا کہ عکرمہ حضرت ابن عباس سے یہ روایت کرتے ہیں کہ رکانہ اور اس کے بھائیوں کے باپ عید یزید نے رکانہ کی ماں کو طلاق دی اور اس حدیث میں یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رکانہ اور اس کے بھائیوں کی ماں، اپنی بیوی سے رجوع کرلو، رکانہ کے باپ نے کہا : یا رسول اللہ ! میں اس کو تین طلاقیں دے چکا ہوں، آپ نے فرمایا : مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کرلو۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢١٩٦) ۔
شیخ ابن حزم نے کہا : جن دلائل سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے وہ یہی ہیں اور مؤخر الذکر حدیث صحیح نہیں ہے کیونکہ اس حدیث میں ابو رافع کے بیٹے کا نام لیا گیا کہ کس بیٹے سے یہ حدیث مروی ہے اور مجہول سند حجت نہیں ہوتی اور ابو رافع کے بیٹوں میں صرف عبید اللہ کا ہمیں علم ہے، باقی سب مجہول ہیں۔
اور رہی وہ حدیث جس کو طائوس نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دیا جاتا تھا، اس میں یہ مذکور نہیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دیا تھا یا ایک طلاق کی طرف لوٹایا تھا اور نہ اس میں یہ مذکور ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا علم ہوگیا، پھر بھی آپ نے اس کو برقرار رکھا اور حجت تب بن سکتی ہے کہ صحیح حدیث سے یہ ثابت ہو کہ یہ آپ کا قول ہے (کہ تین کو ایک قرار دو ) یا یہ آپ کا فعل ہو اور یا آپ کے علم میں یہ واقعہ آیا ہو اور آپ نے اس پر انکار نہ فرمایا ہو ( المحلی بالآثار ج ٩ ص ٣٩٢، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٥ ھ) ۔
کتنی حیرت کی بات ہے کہ شیخ ابن حزم نے ابو رکانہ کی اس حدیث کو رد کردیا ہے جس میں تین طلاق کو ایک طلاق قرار دینے کا ذکر ہے کہ شیخ ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ ابن حزم نے طلاق البتۃ والی حدیث کو رد کردیا ہے اور لکھا ہے کہ اس کو راوی مجہول ہیں۔ ( مجموعۃ الفتاویٰ ج ٣٢ ص ١٩٥) حالانکہ ابن حزم نے کہا کہ اس حدیث کے راوی مجہول الصفات ہیں جس میں تین طلاق کو ایک طلاق قرار دینے کا ذکر ہے۔
جمہور فقہاء کے نزدیک اکٹھی تین طلاق دینا معصیت اور بدعت ہے اور شیخ ابن حزم کے نزدیک اکٹھی تین طلاق دینا بھی سنت ہے، لیکن یہ ایک الگ بحث ہے۔
الطلاق : ١ میں فرمایا : اے نبی مکرم ! ( مومنوں سے کہیے) جب تم ( اپنی) کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت ( طہر بلامباشرت) میں ان کو طلاق دو ۔
مسئلہ طلاق میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ندا کرنے کی توجیہ :۔ اس آیت میں خصوصیت کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ندا کی گئی ہے اور خطاب میں آپ کی امت بھی شامل ہے اور جمع کا صیغہ آپ کی تعظیم کو ظاہر کرنے کے لیے ہے اور اس آیت میں حکم عام ہے اور حکم سے مراد حکم شرعی ہے اور مسلمانوں پر واجب ہے کہ جب وہ اپنی بیویوں کو طلاق دینے کا ارادہ کریں تو ان ایام میں طلاق دیں جن ایام میں عدت متحقق ہو سکے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ندا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ آپ اپنی امت کے امام اور مقتدیٰ ہیں اور جب آپ کو جمع کے صیغہ کے ساتھ خطاب کیا گیا تو آپ کی امت بھی اس میں داخل ہوگئی اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے نبی ! آپ مسلمانوں سے کہیے کہ جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت میں طلاق دو ۔
حالت حیض میں طلاق دینے کی ممانعت :۔ حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، حضرت عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا : اس سے کہو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرے اور اس کو اپے پاس روکے حتیٰ کہ وہ اپنے حیض سے پاک ہوجائے پھر اس کا دوسرا حیض آئے، پھر جب وہ پاک ہوجائے تو اس کے ساتھ جماع کرنے سے پہلے اس سے الگ ہوجائے یا اس کو نکاح میں روک لے، پس بیشک یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کو حکم دیا ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٢٢١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٧١) ۔
نافع نے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے یہ سنا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : اپنی عورتوں کو ان کی عدت سے پہلے طلاق دو ، یعنی اس طہر میں طلاق دو جس میں جماع نہ کیا ہو۔ سالم بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی، حضرت عمر نے اس بات کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا، آپ نے فرمایا : اس سے کہو اس سے رجوع کرے، پھر اس کو اس طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو۔ (صحیح مسلم، کتاب الطلاق، رقم الحدیث : ٢) ۔
علامہ ابوبکر رازی فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے : اپنی عورتوں کو عدت کے وقت میں طلاق دو ، اس وقت سے کیا مراد ہے، اور وہ یہ ہے کہ طلاق دینے کے لیے اس وقت کو مقرر فرمایا ہے جس وقت میں عورت حیض سے پاک ہو اور اس وقت میں اس سے جماع نہ کیا گیا ہو۔
طلاق بر طریقہ ٔ سنت کی دو صورتیں :۔ علامہ ابوبکر رازی فرماتے ہیں : ہمارے اصحاب کا قول یہ ہے کہ طلاق بر طریقہ سنت دو صورتوں میں ہے ایک صورت کا تعلق وقت سے ہے اور وہ یہ ہے کہ طلاق اس طہر میں دی جائے جس طہر میں اس نے اپنی بیوی سے جماع نہ کیا ہو یا اس کی بیوی حاملہ ہو اور اس کا حمل ظاہر ہوچکا ہو اور طلاق سنت کی دوسری صورت کا تعلق عدد سے ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک طہر میں ایک سے زیادہ طلاق نہ دی جائے۔
وقت کی شرط اس شخص کے لیے ہے جو عدت کے لیے طلاق دے ورنہ جس عورت کی عدت نہیں ہے اس کو طلاق دینے کے لیے اس خاص وقت کی شرط نہیں ہے۔ جو شخص مباشرت سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دے اس کے لیے اپنی بیوی کو حیض میں بھی طلاق دینا جائز ہے۔ قرآن مجید میں ہے :
(لَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ مَا لَمْ تَمَسُّوْہُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَہُنَّ فَرِیْضَۃً ) (البقرۃ : ٢٣٦) (اگر تم اپنی بیویوں کو مباشرت سے پہلے طلاق دو یا مہر مقرر کیے بغیر طلاق دو تو تم پر کوئی حرج نہیں) ۔
(یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَہَا) (الاحزاب : ٤٩ ) ۔ (اے ایمان والو ! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم مباشرت سے پہلے ان کو طلاق دے دو ، تو پھر تمہارے لیے عدت کا کوئی حق نہیں ہے جس کو تم شمار کرو۔ )
سو جس عورت کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی جائے، اللہ تعالیٰ نے اس کی عدت نہیں رکھی، پس اس کو طہر میں طلاق دینا بھی جائز ہے اور حیض میں بھی۔
طلاق کا لغوی معنی :۔ طلاق کا لغوی معنی ہے : نکاح کی گرہ کو کول دینا، ترک کردینا، چھوڑ دینا، لسان العرب میں ہے کہ عثمان اور زید کی حدیث ہے : طلاق کا تعلق مردوں سے ہے اور عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔ ( تاج العروس ج ٦ ص ٤٢٥، مطبوعہ مطبعہ خیریہ، مصر، ١٣٠٦ ھ) ۔
طلاق کا اصطلاحی معنی :۔ علامہ ابن نجیم طلاق کا فقہی معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : الفاظ مخصوصہ کے ساتھ فی الفور یا ازروئے مآل نکاح کی قید کو اٹھا دینا، طلاق ہے۔ الفاظ مخصوصہ سے مراد وہ الفاظ ہیں جو مادہ طلاق پر صراحتہً یا کنایہ، مشتمل ہوں، اس میں خلع بھی شامل ہے اور نامردی اور لعان کی وجہ سے نکاح کی قید ازروئے مآل اٹھ جاتی ہے۔ ( البحرالر ائق ج ٣ ص ٢٣٥، مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ، کوئٹہ) ۔
طلاق کی اقسام :۔ طلاق کی تین قسمیں ہیں : احسن، حسن اور بدعی۔
طلاق احسن : جن ایام میں عورت ماہواری سے پاک ہو اور ان ایام میں بیوی سے مقاربت بھی نہ کی ہو، ان ایام میں صرف ایک طلاق دی جائے، اس میں دوران عدت مرد کو رجوع کا حق رہتا ہے اور عدت گزرنے کے بعد عورت بائنہ ہوجاتی ہے اور فریقین کی باہمی رضا مندی سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔
طلاق حسن :۔ جن ایام میں عورت پاک ہو اور مقاربت بھی نہ کی ہو ان ایام میں ایک طلاق دی جائے اور جب ایک ماہواری گزر جائے تو بغیر مقاربت کیے دوسری طلاق دی جائے اور جب دوسری ماہواری گزر جائے تو بغیر مقاربت کیسے تیسری طلاق دی جائے، اس کے بعد جب تیسری ماہواری گزر جائے تو عورت مغلظہ ہوجائے گی اور اب شرعی حلالہ کے بغیر اس سے دوبارہ عقد نہیں ہوسکتا۔
طلاق بدعی :۔ اس کی تین صورتیں ہیں۔ (١) ایک مجلس میں تین طلاقیں دفعتہ دی جائیں خواہ ایک کلمہ سے مثلاً تم کو تین طلاقیں دیں یا کلمات متعددہ سے، مثلاً کہے : تم کو طلاق دی، تم کو طلاق دی، تم کو طلاق دی۔ ( ب) عورت کی ماہواری کے ایام میں اس کو ایک طلاق دی جائے، اس طلاق سے رجوع کرنا واجب ہے اور یہ طلاق شمار کی جاتی ہے۔ (ج) جن ایام میں عورت سے مقاربت کی ہو، ایام میں عورت کو ایک طلاق دی جائے، طلاق بدعی کسی صورت میں ہو اس کا دینے والا گناہ گار ہوتا ہے۔
(در مختار مع ردالمحتار ج ٤ ص ٣٢٠، داراحیاء التراث العربی : بیروت، ١٤١٩ ھ)
صریح لفظ طلاق کے ساتھ ایک یا دو طلاقیں دی جائیں تو یہ طلاق رجعی ہے اور اگر صریح لفظ طلاق نہ ہو کنایہ سے طلاق دی جائے تو یہ طلاق بائن ہے، مثلاً طلاق کی نیت سے بیوی کو ماں بہن کہہ دے، طلاق رجعی میں دوبارہ رجوع کیا جاسکتا ہے، لیکن پچھلی طلاقیں شمار ہوں گی، اگر پہلے دو طلاقیں دی تھیں تو رجوع کے بعد صرف ایک طلاق کا مالک رہ جائے گا، طلاق بائن سے فی الفور نکاح منقطع ہوجاتا ہے لیکن اگر تین سے کم طلاقیں بائن ہوں تو باہمی رضا مندی سے دوبارہ عقد ہوسکتا ہے لیکن پچھلی طلاقوں کا شمار ہوگا۔
امام شافعی کے نزدیک تین طلاقیں دینا مباح ہے، وہ طلاق سنت اور طلاق بدعت کے قائل نہیں ہیں۔ ابن حزم ظاہری کا بھی یہی مذہب ہے، امام مالک کے نزدیک جس طہر میں جماع نہ کیا ہو اس میں ایک طلاق دینا سنت ہے، امام احمد کا بھی یہی مذہب ہے۔ ( المغنی مع الشرح ج ٢٣٦٨ ) ۔
اس اعتراض کا جواب کہ جب حاملہ کو جماع کے بعد طلاق دینا جائز ہے تو غیر حاملہ کو کیوں جائز نہیں ؟:۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حاملہ عورت کو جماع کے بعد طلاق دینا جائز ہے تو غیر حاملہ کو اس طہر میں طلاق دینا کیوں جائز نہیں ہے جس سے وہ بیوی سے جماع کرچکا ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں فرق واضح ہے کیونکہ جس طہر میں شوہر نے اپنی بیوی سے جماع کرلیا اس طہر کے بعد جب تک حیض نہ آجائے، یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ اس جماع کے نتیجہ میں اسقرار حمل ہوا یا نہیں اور عورت کے حاملہ یا غیر حاملہ ہونے کا پتہ نہیں چلے گا اور یہ تعین نہیں ہو سکے گا کہ اس کی عدت تین حیض ہے یا وضع حمل ہے، اس لیے یہ قید لگائی گئی کہ اگر شوہر کو طلاق دینی ہو تو طہر کے ان ایام میں طلاق دے جن میں اس نے جماع نہ کیا ہو۔
اس کے بعد فرمایا : اور عدت کا شمار رکھو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے۔
عدت کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور عدت کی اقسام :۔ عدت کا لغوی معنی ہے : گننا اور عورت کی عدت ان ایام کو کہتے ہیں جن کے گزر جانے کے بعد مطلقہ عورت کے لیے نکاح کرنا جائز ہوجاتا ہے تو غیر حاملہ کو اس طہر میں طلاق دینا کیوں جائز نہیں ہے جس میں وہ بیوی سے جماع کرچکا ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں فرق واضح ہے کیونکہ جس طہر میں شوہر نے اپنی بیوی سے جماع کرلیا اس طہر کے بعد جب تک حیض نہ آجائے، یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ اس جماع کے نتیجہ میں اسقرار حمل ہوا یا نہیں اور عورت کے حاملہ یا غیر حاملہ ہونے کا پتہ نہیں چلے گا اور یہ تعین نہیں ہو سکے گا کہ اس کی عدت تین حیض ہے یا وضع حمل ہے، اس لیے یہ قید لگائی گئی کہ اگر شوہر کو طلاق دینی ہو تو طہر کے ان ایام میں طلاق دے جن میں اس نے جماع نہ کیا ہو۔ اس کے بعد فرمایا : اور عدت کا شما ررکھو اور اللہ سے ڈرتے رہوجو تمہارا رب ہے۔
عدت کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور عدت کی اقسام :۔ عدت کا لغوی معنی ہے : گننا اور عورت کی عدت ان ایام کو کہتے ہیں جن کے گزر جانے کے بعد مطلقہ عورت کے لیے نکاح کرنا جائز ہوجاتا ہے۔ غیر حاملہ عورت کی عدت تین حیض ہے، قرآن مجید میں ہے :
(وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰـثَۃَ قُرُوْٓئٍ ) (البقرہ : ٢٢٨) ( اور مطلقات اپنے آپ کو تین ماہ تک ( نکاح سے) رو کے رکھیں۔
اور جس عورت کو حیض نہ آتا ہو وہ اپنے آپ کو تین ماہ تک نکاح سے روکے رکھے، امام ابوحنیفہ کے نزدیک قرء کا معنی حیض ہے، اس لیے وہ فرماتے ہیں، غیر حاملہ کی عدت تین حیض ہے، اور امام شافعی کے نزدیک قرء کا معنی طہر ہے، اس لیے وہ فرماتے ہیں : غیر حاملہ کی عدت تین طہر ہے، امام ابوحنیفہ کا مذہب اس لیے راجح ہے کہ تین کا عدد مکمل اس وقت ہوگا جب عدت تین حیض ہو کیونکہ اگر عدت تین طہر ہو تو جس طہر میں طلاق دی جائے گی اگر اس طہر کو عدت میں شمار کریں تو اڑھائی طہر ہوں گے اور اگر شمار نہ کریں تو ساڑھے تین طہر ہوں گے اور تین کا عدد مکمل نہیں ہوگا، اس کی مکمل بحث ہم نے البقرہ : ٢٢٨ میں کی ہے۔
اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے، قرآن مجید میں ہے :
(وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ ) (الطلاق : ٤) (حاملہ عورتوں کی عدت کا حمل وضع کرنا ہے۔ ) اور عدت وفات چار ماہ دس دن ہے، قرآن مجید میں ہے۔
(وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَّعَشْرًا) (البقرہ : ٢٣٤) ( اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور اپنی بیویوں کو چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں اپنے آپ کو چار ماہ دس دن تک نکاح سے روکے رکھیں۔ )
واضح رہے کہ عدت طلاق اور عدت اور عدت وفات میں ایام کو گھٹنے کے لیے قمری تاریخوں کا حساب رکھنا ہوگا۔ اس کے بعد فرمایا : تم ان کو ( دوران عدت) ان کے گھر سے نہ نکالو، اور نہ وہ خود نکلیں۔
دوران عدت عورتوں کو گھروں سے نکالنے یا ان کے از خود نکلنے کی ممانعت :۔ علامہ ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ فرماتے ہیں :
اس آیت میں شوہروں کو اس سے منع کیا ہے کہ وہ دوران عدت اپنی بیویوں کو گھروں سے نکالیں، اور عورتوں کو بھی از خود نکلنے س منع فرمایا ہے اور اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ دوران عدت عورتوں کو رہائش فراہم کرنا واجب ہے، کیونکہ جن گھردوں سے عورتوں کے نکالنے کو منع فرمایا ہے یہ وہ گھر ہیں جن میں عورتیں طلاق سے پہلے رہتی تھیں، اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ عورتوں کو ان ہی گھروں میں رکھا جائے، ہمارے اصحاب نے یہ کہا کہ شوہر کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مطلقہ عورت کو اپنے ساتھ لے کر سفر پر جائے حتیٰ کہ وہ اس سے رجوع کرے اور رجوع پر گواہ قائم کرے اور انہوں نے مطلقہ عورت کو عدت کے دوران سفر کرنے سے منع کیا ہے۔
اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کو شوہر پر واجب ہے کہ وہ طلاق رجعی میں بیوی کو کھانے پینے کا خرچ اور رہائش مہیا کرے اور اس کو اپنے گھر سے نہ نکالے۔ ( احکام القرآن ج ٣ ص ٤٥٤ ) ۔ اس کے بعد فرمایا : سو اس کے کہ وہ کھلی بےحیائی کریں۔
کھلی بےحیائی کی متعدد تفاسیر :۔ کھلی بےحیائی کی حسب ذیل تفسیریں ہیں :
حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا : عدت پوری ہونے سے پہلے عورت کا گھر سے باہر نکلنا کھلی بےحیائی ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جب عورت دوران عدت اپنے خاوند سے بد زبانی اور بد کلامی کرے تو خاوند کا اس کو گھر سے نکالنا جائز ہے۔
ضحاک نے کہا : اس آیت میں کھلی بےحیائی سے مراد یہ ہے کہ مطلقہ عورت خاوند کی نافرمانی کرے۔
حسن بصری اور زید بن اسلم نے کہا : کھلی بےحیائی سے مراد ہے وہ زنا کرے، پھر اجرائے حد کے لیے اس کو گھر سے باہر جانا پڑے گا۔
علامہ ابوبکر رازی نے کہا : کھلی بےحیائی کی تفسیر میں یہ تمام معانی درست ہیں۔
پھر فرمایا : اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔
(احکام القرآن ج ٣ ص ٤٥٤، سہیل اکیڈمی، لاہور)
ایک طہر میں تین طلاق دینے کی تحریم :۔ اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ جس نے خلاف سنت طلاق دی اس نے اپنی جان پر ظلم کیا، کیونکہ اس سے پہلے فرمایا ہے : جب تم ( اپنی) عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت ( طہر بلا مباشرت) میں ان کو طلاق دو ، سو جس نے اس کے خلاف کیا یعنی حیض میں طلاق دی یا اس طہر میں طلاق دی جس میں وہ اس سے جماع کرچکا تھا تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا، نیز سنت طریقہ یہ ہے کہ ایک طہر میں ایک طلاق دی جائے، سو جس نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں اس نے بھی اپنی جان پر ظلم کیا۔
ایک کلمہ کے ساتھ تین طلاقیں دینے کے اباحت پر امام شافعی کے دلائل :۔ امام شافعی اور ابن حزم ظاہری کے نزدیک تین طلاقیں دینا مباح ہے۔ ان کی دلیل حسب ذیل احادیث ہیں :
سلمہ بن ابی سلمہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عوف نے اپنی بیوی ام ابی سلمہ کو ایک کلمہ کے ساتھ تین طلاقیں دیں اور ہم کو یہ خبر نہیں پہنچی کہ ان کے اصحاب میں سے کسی نے اس پر ان کی مذمت کی۔ ( سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٨٥٧ ) ۔
سلمہ بن ابی سلمہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی فاطمہ بنت قیس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں کلمہ واحدہ کے ساتھ تین طلاقیں دیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ان کے شوہر سے الگ کردیا اور ہم کو یہ خبر پہنچی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر ان کی مذمت کی۔ ( سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٨٥٨، سنن بیہقی ج ٧ ص ٣٢٩ ) ۔
کلمہ واحدہ کے ساتھ تین طلاق دینے کی تحریم کے متعلق احادیث اور ان کی وجہ ترجیح :۔
کلمہ واحدہ کے ساتھ تین طلاقیں دینے کی تحریم پر امام دارقطنی اور امام بیہقی کو حدیث نہیں پہنچی، لیکن ہمارے پاس بہ کثرت احادیث ہیں جن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کلمہ کے ساتھ تین طلاقیں دینے پر ناراضی کا اظہار فرمایا ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ جب اباحت کی احادیث اور تحریم کی احادیث میں تعارض ہو تو تحریم کی احادیث کو ترجیح دی جاتی ہے۔
حضرت محمود بن لبید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غضب میں آ کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا : میں تمہارے درمیان موجود ہوں اور اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس کو قتل نہ کر دوں ! (سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٣٩٨)
حسن بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر یہ ارادہ کیا کہ ان کو دو طہروں میں مزید دو طلاقیں دیں، جب یہ خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو آپ نے فرمایا : اے ابن عمر ! اللہ تعالیٰ نے اس طرح نہیں فرمایا، تم نے سنت طلاق ( طریقہ طلاق) میں خطا کی، سنت یہ ہے کہ تم طہر کا استقبال کرو اور ہر طہر میں طلاق دو ۔ حضرت ابن عمر کہتے ہیں : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا تو میں نے اس طلاق سے رجوع کرلیا، پھر آپ نے فرمایا : جب وہ پاک ہوجائے تو پھر تم اس طہر میں خواہ اس کو طلاق دو ، خواہ اپنے پاس رکھو، پس میں نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ بتائیں اگر میں اس کو تین طلاقیں دے دیتا تو کیا میرے لیے جائز ہوتا کہ میں اس سے رجوع کرلیتا ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! وہ تم سے الگ ہوجاتی اور تمہارا یہ فعل معصیت ہوتا۔ ( سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٩٠٨، سنن بیہقی ج ٧ ص ٣٣٤) ۔
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا : جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، اس کی بیوی اس سے الگ ہوگئی، اس نے اپنے رب تعالیٰ کی نافرمانی کی اور سنت کی مخالفت۔ (سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٩١٠) ۔
فی نفسہ طلاق کے ناپسندیدہ ہونے کے متعلق احادیث :۔ تین طلاقیں دینا سنت کیسے ہوسکتا ہے جب کہ فی نفسہ طلاق دینا ناپسندیدہ عمل ہے اور بہ کثرت احادیث میں طلاق دینے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے، طلاق دینا صرف شدید ضرورت کی بناء پر مشروع کیا گیا ہے جب شوہر اور بیوی کے درمیان مزاج کی ہم آہنگی نہ ہو اور کسی طرح بھی ان میں موافقت نہ ہو سکے یا بیوی بد چلن اور آوارہ ہو اور سمجھانے سے باز نہ آئے اور جب کوئی ایسی نا گزیر وجہ نہ ہو تو طلاق دینا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حلال کاموں میں جو کام اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ موجب غضب ہے وہ طلاق دینا ہے۔ (سنن ابو دائودرقم الحدیث : ٢١٧٨) ۔
حضرت محارب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کسی ایسی چیز کو حلال نہیں کیا جو اس کے نزدیک طلاق سے زیادہ موجب بغض ہو۔ (سنن ابو دائودرقم الحدیث : ٢١٧٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠١٨) ۔
حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی عیب کے بغیر عورتوں کو طلاق مت دو ، کیونکہ اللہ عزوجل چکھنے والے مردوں اور چکھنے والوں عورتوں کو ناپسند فرماتا ہے ( مسند البزار رقم الحدیث : ١٤٩٨، ١٤٩٧) ۔
حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : اے معاذ ! اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جو اس کے نزدیک غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہو اور اس نے روئے زمین پر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جو اس کے نزدیک طلاق دینے سے زیادہ مبغوض ہو، اور جب کسی شخص نے اپنے غلام سے کہا : تو انشاء اللہ آزاد ہے تو وہ اسی وقت آزاد ہوجائے گا اور انشاء اللہ کہے کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا اور جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا : انشاء اللہ تجھے طلاق ہے تو اس پر طلاق نہیں پڑے گی اور وہ استثناء کرسکتا ہے۔
(سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٩١٨، مصنف عبد الرزاق رقم الحدیث : ١١٣٣١، سنن بیہقی ج ٧ ص ٣٦١، المطالب العالیہ رقم الحدیث : ١٦٤٣ )
عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے تھے : طلاق کی چار قسمیں ہیں، دو حلال ہیں اور دو حرام ہیں، جو دو طلاقیں حلال ہیں وہ یہ ہیں۔ (١) کوئی شخص اپنی بیوی کو اس طہر میں طلاق دے جس میں اس نے جماع نہ کیا ہو۔ (٢) وہ اپنی حاملہ بیوی کو طلاق دے جس کا حمل ظاہر ہوچکا ہو اور جو دو طلاقیں ہیں وہ یہ ہیں۔ (١) کوئی شخص اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے۔ (٢) کوئی شخص جماع کرتے وقت اپنی بیوی کو طلاق دے اور اس کو اس کا پتہ نہ ہو کہ اس کا نطفہ رحم میں پہنچ گیا ہے یا نہیں۔ (سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٩٢٤ ) ۔
حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نکاح کرو اور ( بلا عذر) طلاق نہ دو ، کیونکہ طلاق دینے سے عرش کا نپنے لگتا ہے۔ ( تاریخ بغدادج ١٢ ص ١٩١، الکامل لا بن عدی ج ٥ ص ١١٢، علامہ سیوطی نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے، اللئالی المصنوعۃ ج ٢ ص ١٥١، تنزیہ الشریعۃ ج ٢ ص ٢٠٢، الاحادیث الضعیفۃ رقم الحدیث : ٧٣١، اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ )
عدت طلاق کے دوران عورت کے گھر سے باہر نکلنے پر ایک حدیث سے جواز کا استدلال :۔
(لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْم بُیُوْتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ ) (الطلاق : ١) (تم ان کو ( دوران عدت) ان کے گھروں سے نہ نکالو، اور نہ وہ خود نکلیں۔ )
اس آیت کی تفسیر میں ہم نے لکھا ہے کہ فقہاء احناف کا مذہب یہ ہے کہ عدت ِ طلاق کے دوران عورت کا گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ درج ذیل حدیث اس کے خلاف ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق دی گئی، انہوں نے اپنی کھجوریں درخت سے اتارنے کا ارادہ کیا تو ایک شخص نے ان کو گھر سے نکلنے سے منع کیا، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئیں، آپ نے فرمایا : کیوں نہیں ! تم اپنے درخت سے کھجوریں اتارو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ تم ان کھجوروں کو صدقہ کرو یا کوئی اور نیکی کا کام کرو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٨٣) ۔
اس حدیث کی بناء پر علامہ قرطبی مالکی کا مذہب احناف کا رد کرنا :۔ علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :
اس حدیث میں امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے اس قول پر دلیل ہے کہ جو عورت عدت طلاق میں ہو، وہ اپنی ضروریات کے لیے دن میں گھر سے باہر جاسکتی ہے اور رات میں اس پر لازم ہے کہ وہ گھر آجائے، امام مالک فرماتے ہیں خواہ اس کو طلاق رجعی دی گئی ہو یا طلاق بائن دی گئی ہو، امام شافعی فرماتے ہیں کہ طلاق رجعی میں وہ رات اور دن کے کسی وقت میں گھر سے باہر نے نکلے اور جس کو طلاق بائنہ دی گئی ہو وہ دن میں گھر سے باہر جاسکتی ہے، امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ جو عورت عدت وفات گزار رہی ہو وہ صرف دن میں گھر سے باہر جاسکتی ہے اور جو عورت عدت طلاق گزار رہی ہو وہ رات اور دن کے کسی وقت میں گھر سے باہر نہ نکلے اور یہ حدیث ان کے مذہب کا رد کرتی ہے۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ١٧ ص ١٤٤، دارالفکر، بیروت : ١٤١٥ ھ) ۔
مصنف کی طرف سے علامہ قرطبی کے اعتراض کا جواب :۔ میں کہتا ہوں کہ ہمارا استدلال قرآن مجید کی اس آیت سے ہے۔
(لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْم بُیُوْتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ ) (الطلاق : ١) (تم ان کو ( دوران عدت) ان کے گھروں سے نہ نکالو، اور نہ وہ خود نکلیں۔ )
اللہ تعالیٰ نے مطلقہ عورت کو دوران عدت بغیر کسی استثناء یا قید کے مطلقاً گھر سے باہر نکلنے سے منع فرمایا ہے اور قرآن مجید حضرت جابر کی خالہ کی حدیث پر مقدم ہے، دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ نے جو حضرت جابر کی خالہ کو دوران عدت گھر سے نکلنے کی اجازت دی تھی، ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ اس آیت کے نزول سے پہلے کا ہو، تیسرا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں نکلنے کی ممانعت کا حکم عام ہے اور حضرت جابر کی حدیث میں ان کی خالہ کے لیے نکلنے کا حکم خاص ہے اور عام، خاص پر مقدم ہوتا ہے، چوتھا جواب یہ ہے کہ حضرت جابر کی حدیث میں دوران عدت ان کی خالہ کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی اباحت ہے اور اس آیت میں مطلقہ کے لیے دوران عدت گھر سے باہر نکلنے کی تحریم ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ جب تحریم اور اباحت کے دلائل میں تعارض ہو تو تحریم کے دلائل کی اباحت کے دلائل پر ترجیح ہوتی ہے، پانچواں جواب یہ ہے کہ مطلقہ عورت کا دوران عدت گھر سے باہر نکلنا مطلقاً ممنوع ہے، لیکن آپ نے اپنے خصوصی اختیار سے حضرت جابر کی خالہ کو دوران عدت گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی، اس حدیث میں آپ نے مخصوص مطلقہ کو دوران عدت ضرورت کی وجہ سے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے۔ بالعموم یہ نہیں فرمایا کہ ہر مطلقہ دوران عدت اپنی ضرورت کی وجہ سے دن میں باہر نکل سکتی ہے، اس لیے اس خاص جزئیہ سے حکم عام پر استدلال کرنا درست نہیں ہے اور اس کی بہت نظائر ہیں، دیکھئے میت پر نوحہ کرنا مطلقاً ممنوع ہے لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ام عطیہ (رض) کو مخصوص میت پر نوحہ کرنے کی اجازت دے دی، جیسا کہ اس حدیث میں ہے :
حضرت ام عطیہ (رض) بیان کرتی ہیں، جب یہ آیت نازل ہوئی :
(یبایعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیاء (الی قولہ تعالیٰ ) ولا یعصینک فی معروف) (الممتحنہ : ١٢) ( ہجرت کرکے آنے والی خواتین آپ سے اس پر بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو بالکل شریک نہیں کریں گی۔۔۔ اور کسی نیک کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ )
حضرت ام عطیہ نے کہا : ان احکام میں میت پر نوحہ کرنے سے ممانعت بھی تھی، پس میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آل فلاں پر نوحہ کرنے کی اجازت دے دیں، کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں نوحہ میں میری موافقت کی تھی، سو میرے لیے بھی ان کی موافقت کرنا ضروی ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ماسوا آل فلاں کے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٣٧، السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ١١٥٨٧)
حضرت ام عطیہ کو آل فلاں پر نوحہ کی اجازت دینے سے یہ لازم نہیں آیا کہ مطلقاً میت پر نوحہ کرنا جائز ہے۔
اسی طرح چھ ماہ کی بکری کی قربانی کرنا بالعموم جائز نہیں ہے لیکن آپ نے حضرت ابو دائود بن نیار (رض) کو چھ ماہ کی بکری کی قربانی کرنے کی اجازت دے دی۔ آپ نے ان سے فرمایا : تم اس کی قربانی کرلو اور تمہارے علاوہ یہ کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥٥٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٨٠٠، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٥٠٨، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٥٦٢ ) ۔
آپ نے مکہ کے درختوں کو کاٹنے سے مطلقاً منفع فرمایا لیکن قریش کے ایک شخص نے اذخر ( گھاس) کاٹنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے اذخر کاٹنے کی اجازت دے دی۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٢) ۔
قرآن مجید میں اڑھائی سال کے بعد بچہ کو دودھ پلانے کی ممانعت ہے لیکن آپ نے حضرت سالم کو بلوغت کے بعد جوانی میں سہلہ بنت سہیل نامی ایک صحابیہ کا دودھ پینے کی اجازت دے دی اور حضرت سہلہ (رض) کو ان کی رضاعی ماں بنادیا۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٥٣، سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٣٢٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٩٤٣ ) ۔
ریشم پہننا مردوں کو مطلقاً ممنوع ہے لیکن آپ نے حضرت زبیر اور حضرت عبد الرحمان کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دے دی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٨٣٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٧٦، سنن ابو دئود رقم الحدیث : ٤٠٥٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٩٢، سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٣١٠) ۔
ان احادیث سے واضح ہوگیا کہ جو کام مطلقاً ممنوع ہو، اگر آپ کسی شخص کو اس کام کرنے کی اجازت دے دیں تو اس اجازت کی وجہ سے وہ کام بالعموم جائز نہیں ہوجاتا اور وہ اجازت صرف اس کی حد تک رہتی ہے، سو آپ نے حضرت جابر کی خالہ کو عدت طلاق میں کھجوریں اتارنے کے لیے گھر سے باہر جانے کی جو اجازت دی تھی یہ اجازت صرف ان کی حد تک ہے اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ عدت طلاق میں دن کے وقت عورتوں کو گھر سے باہر نکلنا بالعموم جائز ہوجائے، لہٰذا اس حدیث کی بناء پر مذہب احناف کا مردود ہونا لازم نہیں آتا۔ مولانا مفتی محمد اسماعیل نورانی زید علمہ نے اس مسودہ کو دیکھ کر دیکھ کر مجھ سے کہا : آپ شرح صحیح مسلم کے جواب کو بھی یہاں لکھ دیں، سو وہ جواب یہ ہے :
ائمہ ثلاثہ کی دلیل کا جواب :۔ حضرت جابر کی روایت کا ایک جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ حضرت جابر کی خالہ نے اپنے شوہر سے خلع کیا ہو اور خلع میں عدت کا نفقہ معاف کردیا ہو، اس وجہ سے وہ تلاش معاش میں باہر گئی ہوں اور اس قسم کے مسائل میں احناف کے نزدیک بھی رخصت ہے۔ ” ہدایہ “ اور ” فتح القدیر “ میں اس کی تصریح ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہو اور اب منسوخ ہوچکا ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت جابر جو اس حدیث کے راوی ہیں خود یہ فتویٰ دیتے تھے کہ مطلقہ کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ امام طحاوی اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ ابو الزبیر نے حضرت جابر سے پوچھا کیا : مطلقہ اور بیوہ اپنے گھر سے باہر نکل سکتی ہیں ؟ حضرت جابر نے کہا : نہیں۔ الحدیث، امام طحاوی فرماتے ہیں کہ حضرت جابر اپنی خالہ کے دوران ِ عدت گھر سے باہر نکلنے کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور خود اس کے خلاف فتویٰ دیتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ یہ حدیث ان کے نزدیک منسوخ ہے۔ ( شرح معانی الآثار ج ٤ ص ٤٦، کراچی) نیز امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے ایک شخص نے سوال کیا کہ اس نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور وہ گھر سے جانا چاہتی ہے۔ آپ نے فرمایا : اس کو روکو ! اس نے کہا : میں نہیں روک سکتا، فرمایا : اس کو قید کرلو، کہا : اس کے بھائی بہت طاقتور ہیں، فرمایا : امیر سے مدد طلب کرو (سنن کبریٰ ج ٧ ص ٤٣١) اور امام ابن ابی شیبہ اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر اور عثمان حج اور عمرہ سے عورتوں کو روکتے تھے تاوقتیکہ وہ عدت پوری کرلیں۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ ج ٥ ص ٨٢، ادارۃ القرآن، کراچی ١٤٠٦ ھ) ۔
علامہ قرطبی کا حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیث سے امام ابوحنیفہ پر رد اور اس کے جوابات
علامہ قرطبی مالک نے امام ابوحنیفہ پر دو سرا رد اس حدیث سے کیا ہے :
ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ ابو حفص بن المغیرہ المحزومی نے اپنی بیوی فاطمہ بنت قیس کو تین طلاقیں دے دیں اور وہ خود یمن چلے گئے اور ان کے گھر والوں نے حضرت فاطمہ بن قیس سے کہا : تمہارا نفقہ ہمارے ذمہ نہیں ہے، پھر حضرت خالد بن ولید (رض) ایک جماعت کے ساتھ گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت آپ حضرت میمونہ کے گھر تھے، انہوں نے بتایا کہ ابو حفص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، کیا اس کا نفقہ ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا نفقہ نہیں ہے اور اس پر عدت ہے اور حضرت فاطمہ بن قیس کو یہ پیغام بھیجا کہ تم خود کہیں نہ جانا اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ ام شریک کے گھر چلی جائیں، پھر ان کو یہ پیغام بھیجا کہ ام شریک کے گھر تو مہاجرین اولین آتے ہیں، وہ ان ام مکتوم جو نابینا ہیں ان کے گھر چلی جائیں، کیونکہ جب تم اپنا دو پٹا اتاروگی تو وہ تم کو نہیں دیکھیں گے، پس وہ ان کے گھر چلی گئیں اور جب ان کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ (رض) سے ان کا نکاح کردیا۔
(صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٨٠، ١ لرقم المسلسل : ٣٦٣٤، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٢٨٤، سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٥٤٦، السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ٥٣٥٢ )
علامہ قرطبی مالکی نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ حضرت فاطمہ بنت قیس عدت ِ طلاق میں تھیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو عدت کے ایام شوہر کے گھر کے بجائے حضرت ابن ام مکتوم کے گھر گزارنے کا حکم دیا، اس سے معلوم ہوا کہ عورت عدت ِ طلاق میں شوہر کے گھر سے نکل سکتی ہے۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ١٧ ص ٤٥، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
اس حدیث کے بھی وہی پانچ جوابات ہیں جو ہم اس سے پہلے حضرت جابر کی خالہ کی حدیث کے بیان کرچکے ہیں اور مزید چھٹا جواب یہ ہے کہ جمہور صحابہ نے حضرت فاطمہ بنت قیس کی اس روایت کو رد کردیا ہے۔
امام مسلم نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد بیان کیا ہے کہ :
اسود بن یزید نے حضرت عمر کے سامنے یہ حدیث بیان کی تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہم اللہ کی کتاب کو اور اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو ایک عورت کے قول کی وجہ سے نہیں ترک کریں گے، شاید اس کو یاد رہا یا بھول گئی، مطلقہ عورت کے لیے شوہر کی طرف سے رہائش بھی ہوگی اور اس کے ذمہ اس کا خرچ بھی ہوگا، اللہ عزوجل فرماتا ہے۔
(لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْم بُیُوْتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ) (الطلاق : ١) (تم ان کو ( دوران عدت) ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں سو اس کے کہ وہ کھلی بےحیائی کریں۔ )
(صحیح مسلم الرقم المسلسل : ٣٦٤٤، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٢٩١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٣٦)
امام دارقطنی نے اس قصہ کو روایت کرنے کے بعدلکھا ہے : عروہ نے کہا کہ حضرت عائشہ فاطمہ بنت قیس پر رد کرتی تھیں اور دوران عدت مطلقہ کے گھر سے نکلنے کا انکار کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ عدت پوری ہونے سے پہلے مطلقہ اپنے گھر سے نہ نکلے۔ (سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٩٠٤، مسند احمد ج ٦ ص ٤١٦، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٢٨٩، سنن بیہقی ج ٧ ص ٤٧٢) ۔
تین طلاقوں کی ممانعت پر دلیل :۔ نیز فرمایا : تم کو معلوم نہیں شاید اس کے بعد اللہ کوئی نئی صورت پیدا کر دے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمام بنو آدم کے قلوب رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک قلب کی طرح ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے قلب کو الٹتا پلٹتا رہتا ہے۔ الحدیث (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٥٤، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٧٨٦١، مسند احمد ج ٢ ص ١٦٨ )
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہ کثرت یہ دعا کرتے تھے : اے دلوں کو پلٹنے والے ! میرے دل کو اپنے دین اور اپنی اطاعت پر قائم رکھ، آپ سے عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! آپ بہت زیادہ یہ دعا کرتے ہیں : اے دلوں کو پلٹنے والے ! میرے دل کو اپنے دین اور اپنی اطاعت پر قائم رکھ، آپ نے فرمایا : مجھے کون مامون رکھ سکتا ہے، بندوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں، جب وہ کسی بندے کا دل پلٹنا چاہتا ہے تو پلٹ دیتا ہے۔
(مسند احمد ج ٦ ص ٢٥١ طبع قدیم، مسند احمد ج ٤٣ ص ٢٣٠۔ رقم الحدیث ٢٦١٣٣، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت ١٤٢١ ھ، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث ٤٦٦٩، کتاب الدعا لطبرانی رقم الحدیث : ١٢٥٩، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠ ص ٢١٠، ج ١١ ص ٣٧ المعجم الاوسط رقم الحدیث ١٥٥٣، اس حدیث کی سند صحیح لغیرہ ہے، کیونکہ اس کی سند کا ایک راوی علی بن زید ابن جدعان ضعیف ہے، باقی رجال ثقہ ہیں۔ )
جب احادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے دل پلٹتا اور بدلتا رہتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ شوہر آج اپنی بیوی سے ناراض ہے کل راضی ہوجائے، آج اس کی بیوی سے نفرت ہے اور کل وہ نفرت محبت سے بدل جائے اور وہ بیوی کو طلاق دینے پر نادم ہو اور اس طلاق سے رجوع کرلے، اس لیے فرمایا : تم کو معلوم نہیں شاید اس کے بعد اللہ کوئی نئی صورت پیدا کر دے اور اس آیت میں یہ دلیل ہے کو شوہر پر لازم ہے کہ وہ ایک بار تین طلاقیں نہ دے بلکہ ہر طہر میں ایک طلاق دے شاید کہ ایک حیض یا ایک ماہ گزرنے کے بعد حالات بدل جائیں اور اس کا دل پلٹ جائے اور جس وجہ سے وہ بیوی کو طلاق دے رہا تھا وہ وجہ زائل ہوجائے اور وہ پہلے طہر میں دی ہوئی طلاق سے رجوع کرلے اور اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ تین طلاقیں دینا ممنوع اور مذموم ہے، ورنہ اس آیت کا پھر کیا محمل ہوگا اور اس آیت میں امام شافعی اور ابن حزم ظاہری کا رد ہے، جنہوں نے کہا ہے کہ تین طلاقیں دینا سنت ہے۔
ہمارے زمانے میں لوگ وثیقہ نفوس سے یا وکیل سے طلاق نامہ لکھواتے ہیں اور عموماً وہ اس طرح کی عبارت لکھتا ہے کہ میں بہ قائمی ہوش و حواس بلا جبر واکراہ اپنی فلاں منکوحہ کو تین طلاقیں دے کر اپنے اوپر حرام کرتا ہوں اور اپنے نکاح سے خارج کرتا ہوں اور بعض لکھتے ہیں کہ میں اپنی منکوحہ کو طلاق ثلثۃ مثلثۃ مغلظہ دے کر اپنے اوپر حرام کرتا ہوں اور شوہر اس پر دستخط کردیتا ہے اور اس طلاق کے بعد رجوع کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی، بعد میں جب غصہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ شوہرکا دل بدل دیتا ہے، پھر شوہر نادم اور پریشان ہوتا ہے، اس کو خیال آتا ہے اب بچوں کا کیا ہوگا، پھر مفتیوں کے پاس جاتا ہے، کبھی حلالہ کرانے کا سوچتا ہے کبھی اپنا مذہب بدل کر غیر مقلد مولویوں کے پاس جا کر یہ باطل فتویٰ حاصل کرتا ہے کہ تین طلاقیں یک بارگی واقع نہیں ہوتیں، یہ ایک طلاق ہے اور یہ ساری مصیبت اس وجہ سے آئی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی حدو ود کو توڑا اللہ تعالیٰ کے برحق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حد رکھی تھی کہ وہ ایک طہر میں جس میں جماع نہ کیا ہو صرف ایک طلاق دے لیکن اس نے غصہ میں بےقابو ہو کر اللہ کی حد کو توڑا اور اب پچھتاتا پھر رہا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ جب انسان اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کرے تو کسی عالم یا مفتی کے پاس جائے، وہ اس کو بتائے گا کہ جس طہر میں تم نے مباشرت نہ کی ہو اس میں صرف ایک طلاق دے کر چھوڑ دو ، اگر بعد میں ناراضگی ختم ہوجائے تو رجوع کرلینا اور اگر تین حیض گزر گئے اور تم نے رجوع نہیں کیا تو تمہاری بیوی بائنہ ہو کر تم سے الگ ہوجائے گی، پھر بھی نہ گنجائش ہوگی کہ عدت کے بعد باہمی رضا مندی سے تم پھر اس سے دوسری بار نکاح کرلو۔ میں ٣٨ سال سے فتاویٰ لکھ رہا ہوں، میرے پاس جب بھی کوئی آیا، وثیقہ یونس یا وکیل سے تین پکی طلاقیں لکھوا کر اس پر دستخط کرکے اپنا گھر اجاڑ کر آیا اور اب مجھ سے یہ چاہتا ہے کہ میں اس کے اجڑے ہوئے گھر کو پھر بسا دوں، طلاق دینے سے پہلے طلاق دینے کا طریقہ معلوم کرنے کی کوئی نہیں آتا، والے افسوس !۔
اللہ کے بندو ! اللہ کی حدود کو نہ توڑو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
(وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللہ ِط وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللہ ِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗط لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللہ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا۔ ) (الطلاق : ١) (اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا اس نے اپنی جان پر ظلم کیا، تم کو معلوم نہیں شاید اس کے بعد اللہ کوئی نئی صورت پیدا کردے۔ ) ۔