Site icon اردو محفل

حضرت سیدنا امیر معاویہؓ پر بتوں کے حوالے سے ایک اعتراض کا جواب

ماتمی جھٹملوں کا حضرت سیدنا امیر معاویہؓ پر بتوں کے حوالے سے ایک اعتراض کا جواب!
تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی

یہود نے مسلمانوں میں ایک اپنا پودا رافضیت و شیعت کی شکل میں رکھا تھا جس کا بانی ابن سبا تھا جس نے حضرت علی ؓ کو خدا قرار دیا تھا اس قوم کی باقیات آج بھی عذاب کی شکل میں ہم پر نازل ہے!!
ان کھٹملوں کو کوئی نہ کوئی خارش ہوتی رہتی ہے اور یہ زور لگاتے رہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقہ سے حضور اکرمﷺ کے اصحابؓ سے لوگوں کو بد ظن کیا جائے اور پھر اپنے کفریہ عقائد کی تشہیر کی جائے عامیوں کو صحابہ کرامؓ سے بد ظن کر کے!!

اس سلسلہ کی ایک اور کڑی یہ ہے کہ یہ اجہل اصول حدیث کے ایک دو اصول رٹ کر ائمہ اہلسنت کی کتب سے منکر و باطل مرویات پر اپنی جہالتیں گھماتے رہتے ہیں!

ایک روایت جو حضرت امیر معاویہؓ کے تعلق سے بت بیچنے کی پیش کی جاتی ہے جو کہ معلل و ضعیف اور متنا باطل ہے ۔اسکی حقیقت کو آشکار کرینگے اس تحریر میں !

کسی نجفی کربلائی ماتتمی بنام ” ابو عمارہ” کی روایت پر مجھے ٹیگ کیا گیا اور ہم اسکی تحریر کا پوسٹ مارٹم کرینگے جو جہالتیں اس نے لکھی انکو نقل کر کے اسکا حال بیان کرینگے!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھٹمل اپنی تحریر کا آغار کچھ یوں کرتا ہے:
معاویہ کا بت بیچنے کا معصومانہ اجتہاد
ابھی کچھ دنوں پہلے ہی کرسمس گزرا سوشل میڈیا صارفین کے بیچ اس پر کافی چرچا ہوئی کہ آیا یماس کی مبارکباد دینا یا منانا جائز ہے یا نہیں تو ۔ اس ضمن میں یہ ناصبی ٹولہ بھی کرسمس کی مبارکباد دینے کی مذمت کر رہا تھا ۔ جبکہ ان کے لارڈ صاحب کی اپنی حالت یہ تھی کہ وہ اہل ہندوستان کو بت فروخت کرتے تھے اور یہ بات کرتے ہیں کرسمس کی مبارکباد کی دینے یا نہ دینے کی ۔ انہیں چاہئے کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لیں ۔ اور ایسے بندے جو یہ ھادی و مہدی پتا نہیں کیا کچھ بنائے بیٹھے ہیں ۔ سب سے پہلے یہ روایت ملاحظہ کیجئے :
امام طبری رحمه الله روایت کرتے ہیں :
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ بِالسَّلْسَلَةِ، فَمَرَّتْ عَلَيْهِ سَفِينَةٍ فِيهَا أَصْنَامِ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ، بَعَثَ بِهَا مُعَاوِيَةُ إِلَى الْهِنْدِ تَبَاعَ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقْتُلُونِي لَغَرَّقْتُهَا، وَلَكِنِّي أَخْشَى الْفِتْنَةِ
” ابو وائل فرماتے ہیں کہ میں مسروق کے ساتھ مقام سلسلہ میں تھا کہ ایک کشتی گزری جس میں سونے اور چاندی کے بنے ہوئے بت تھے جسے معاویہ نے بیچنے کے لئے ہندوستان روانہ کیا تھا تو مسروق رحمه الله نے فرمایا : اگر مجھے یقین ہوتا کہ یہ لوگ مجھے قتل کردیں گے تو میں اس پوری کشتی کو غرق کر دیتا مگر مجھے فتنے کا ڈر ہے ۔ ”
[ تھذیب الآثار للطبرى ج 4 ص 231 ، وسندہ صحیح ]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(الجواب : اسد الطحاوی)
روایت کی سند پر جانے سے پہلے :
اس کی سرخی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کھٹمل کو بھی یہ بات قبول ہے کہ حضرت امیر معاویہ ؓ اس روایت کے تحت حضور اکرمﷺ کے فرمان سے لاعلم تھے تبھی اس نے حضرت امیر معاویہؓ کے فعل پر ”معصومانہ اجتہاد” کی سرخی لگائی ہے ۔ کیونکہ اجتہاد ہوتا ہی تب ہے جب کسی امر پر نصوص نہ ہوں ۔ اور لا علمی کی بنیاد پر کوئی فعل حرام بھی ہو جائے تو بھی اس پر فتویٰ بازی نہیں ہو سکتی ہے ۔ جیسا کہ ایک مثال حضرت علیؓ کے تعلق سے آخر میں پیش کرینگے!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھٹمل آگے اس روایت پر اہلسنت کی طرف سے ایک علت کو بیان کرکے اسکا رد کرتے ہوئے لکھتا ہے :
اس روایت پر نواصب کے اعتراضات کا جواب :
اعتراض لمبڑ (1) : یہی روایت المصنف لابن ابی شیبہ میں بھی موجود ہے پر اس میں معاویہ کا نام نہیں ہے ۔
جواب :
سب سے پہلے المصنف لابن ابی شیبة والی روایت ملاحظہ کیجئے :
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَة ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : مُرَّ عَلَیْه وَهوَ بِالسِّلْسِلَة بِتَمَاثِیلَ مِنْ صُفْرٍ تُبَاعُ ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ : لَوْ أَعْلَمُ أَنَّه یَنْفُقُ لَضَرَبتها ، وَلَکِنِّي أَخَافُ أَنْ یُعَذِّبَنِي فیفتني ، وَاللَّه مَا أَدْرِي أَیَّ الرَّجُلَیْنِ؟ رَجُلٌ قَدْ زُیِّنَ لَه سُوئُ عَمَلِه ، أَوْ رَجُلٌ قَدْ أَیِسَ مِنْ آخِرَتِه فَهو یَتَمَتَّعُ مِنَ الدُّنْیَا۔
” شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق مقام سلسلہ میں ایک مقام سے گزرے جہاں پیتل کے بت فروخت کیے جا رہے تھے۔ حضرت مسروق نے فرمایا اگر مجھے معلومہوتا کہ ان کی قیمت ادا کی جاسکتی ہے تو میں انھیں توڑ دیتا۔ لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں لوگ مجھے ستائیں گے اور تکلیف دیں گے۔ بخدا! میں نہیں جانتا کہ دو آدمیوں میں سے کون سا برا ہے؟ ایک وہ جس کے لیے اس کا برا عمل مزین کیا گیا اور دوسرا وہ جو آخرت سے ناامید ہو کر دنیا سے ہی نفع حاصل کرنا چاہتا ہے . ”
[ المصنف لابن أبی شیبة ج 11 ص 397 ]

یاد رہے تھذیب الآثار للطبری والی روایت کی کو سند ہے اس میں اعمش سے بیان کرنے والے سفیان ثوری ہیں اور المصنف لابن ابی شیبہ والی روایت میں اعمش سے بیان کرنے والے ابو معاویہ الضریر ہیں ۔ اور اعمش کی حدیث میں سفیان اوثق ہیں نیز سب سے اعلی مقام رکھتے ہیں اور تمام اصحاب اعمش کر مقدم ہیں ۔ جب اعمش کی حدیث میں سفیان ثوری اور دیگر رواۃ کا اختلاف ہو تو سفیان ثوری کی روایت ہی قوی قرار پائے گی ۔ ملاحظہ کیجئے :
(1) امام علی بن عبدالله المدینی فرماتے ہیں :
أَثْبَتَ النَّاسُ فِي الْأَعْمَشِ وَاعْلَمُهُمْ بِهِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ
” لوگوں میں أعمش کی حدیث میں اثبت اور سب سے بڑے عالم ثوری ہیں ”
[ کتاب التاریخ واسماء المحدثین وکناھم للمقدمی ص 204 ]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(الجواب : اسد الطحاوی)

اسکے بعد اس نے متعد ائمہ کرام سے حوالاجات دیکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امام سفیان کی روایت امام اعمش سے مقدم ہوتی ہے تو پس امام ابن ابی شیبہ والی روایت پر یہ سند مقدم ہے فلاں ڈھینگ

جبکہ اس اجہل نے اس اصول کو بیان کرتے ہوئے باقی چیزوں کو نظر انداز کیا ہے کم علمی کی وجہ سے جو کہ درج ذیل ہیں:

سب پہلی بات :
تھذیب الاثار کی سند کے رجال کتنے ہیں ؟
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ الخ۔۔
۱۔امام ابن جریری طبری
۲۔وہ اپنے شیخ محمد بن بشار سے
۳۔وہ اپنے شیخ ابن مہدی سے
۴۔وہ اپنے شیخ سفیان سے
۵۔وہ اپنے شیخ امام اعمش سے
۶۔وہ اپنے شیخ ابی وائل سے
اور وہ آگے روایت بیان کرتے ہیں

یعنی امام اعمش اور امام طبری کے درمیان تین رجال کا واسطہ ہے!

اسکے برعکس اختصار سند جو کہ ہمیشہ متعدد رجال سے عمومی طور پر مقدم و اعلیٰ ہوتی ہے
جیسا کہ امام ابن ابی شیبہ کی سند درج ذیل ہے :
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَة ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ الخ۔۔۔
۱۔امام ابن ابی شیبہ
۲۔وہ اپنے شیخ ابو معاویہ سے
۳۔وہ اپنے شیخ امام اعمش سے
۴۔وہ اپنے شیخ شفیق سے
۵۔ وہ اپنے شیخ مسروق سے

یہاں دو نقاط اہم ہیں :
۱۔ امام ابن ابی شیبہ کی سند امام طبری کے مقابل میں مختصر ہونے کی وجہ سے مقدم ہے
۲۔ امام ابن ابی شیبہ اور امام اعمش تک فقط ایک راوی ہے ۔

جب یہ اجہل سند کا تقابل کر رہا ہے ۔ تو سند کے پہلے راوی امام ابن ابی شیبہ ہے جبکہ انکے مقابل امام اطبری ہیں اگرچہ ان پر جروحات بھی ہیں لیکن یہ ثقہ ہیں لیکن امام ان ابی شیبہ حفظ کے اعتبار سے ان پر مقدم ہیں

اور پھر امام ابن ابی شیبہ اہلسنت کے متفقہ امام ہیں اور انکے عقائد میں کوئی بدعت نہیں تھی!
لیکن
انکےبرعکس امام ابن جریر طبری جبکہ انکا شمار بھی اہلسنت کے ائمہ میں ہوتا ہے لیکن اسکے باوجود ان میں شیعت کے معاملات تھے ۔ جسکی وجہ سے بعض ناقدین نے ان پر رافضیت کے حوالے سے احادیث گھڑنے تک کی جرح کر دی اگرچہ ایسی جروحات مقبول تو نہیں انکے بارے لیکن انکی شیعت کے عنصر کو اجاگر کرتی ہیں

جیسا کہ امام ذھبی انکے عقیدے کے بارے کہتے ہیں :
ثقة صادق فيه تشيع
کہ یہ ثقہ صدوق ہیں ان میں شیعت تھی
[میزان الاعتدال]

تو ایسا راوی جس میں اپنے نظریات کے موافق روایت میں اضافی الفاظ بیان کرے یقینن وہ حجت نہیں ہو سکتے ہیں تو اس بنیادی اصول پر ہی یہ روایت جو تھذیب الاثار کی ہے اڑ جاتی ہے مصنف ان ابی شیبہ کے مقابلے میں !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر اس نے اس روایت کا ایک اور طریق الانساب سے نقل کیا ہے
امام بلاذری رحمه الله روایت کرتے ہیں :
وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ وَإِسْحَاقُ، قَالا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ بِالسَّلْسَلَةِ فَمَرَّتْ بِهِ سَفَائِنَ فِيهِأَ أَصْنَامِ مِنْ صُفْرٍ تَمَاثِيلَ الرِّجَالِ، فَسَأَلَهُمْ عَنْهَا فَقَالُوا: بَعَثَ بِهَا مُعَاوِيَةُ إِلَى أَرْضِ السِّنْدِ وَالْهِنْدِ تُبَاعَ لَهُ. فَقَالَ مَسْرُوقٌ: لَوْ أَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقْتُلُونَنِي لَغَرَّقْتُهَا، وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ يُعَذَّبُونَيْ ثُمَّ يَفْتِنُونِي، وَأَللَّهُ مَا أَدْرِي أَيَّ الرَّجُلَيْنِ مُعَاوِيَةُ، أُرَجِّلُ قَدْ يَئِسَ مِنْ الْاخِرَةِ فَهُوَ يَتَمَتَّعُ مِنْ الدُّنْيَا أَمَّ رَجُلٍ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ
میں مسروق کے ساتھ سلسلہ کے مقام پر تھا کہ بتوں اور انسانوں کے مجسموں سے لدے جہاز وہاں سے گزرے تو اس نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ معاویہ ان کو سندھ اور ہندوستان کی سرزمینوں روانہ کیا ہے۔ تاکہ انہیں ان کو بیچا جاسکے ” تو مسروق نے کہا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے تو میں ان جہازوں کو غرق کر دیتا۔ تاہم، مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھ پر تشدد کریں گے اور مجھے آزمائش میں ڈالیں گے۔ خدا کی قسم میں نہیں جانتا کہ معاویہ کس قسم کا بندہ ہے۔ کیا وہ ایسا آدمی ہے جو آخرت سے ناامید ہو کر دنیا سے ہی نفع حاصل کرنا چاہتا ہے . ” ، یا وہ ایسا آدمی ہے جس کی برائی اس کے سامنے آراستہ ہو گئی ہے ۔ ”
[ انساب الاشراف للبلاذری ج 5 ص 137 وسندہ صحیح ]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(الجواب : اسد الطحاوی)
جبکہ اس روایت کا متن بھی منکر ہے دیگر اصح روایات کے مقابل !

اسکی وجہ جریر کا اعمش سے روایت کرنے میں کچھ اشکال ہیں :
جریر آخری عمر میں متغیر ہو گیا تھا۔ اور آخری عمر میں جریر بغداد چلا گیا تھا
جیسا کہ امام ذھبی کہتے ہیں :
وَقَدِمَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ بَغْدَادَ، وَحَدَّثَ بِهَا.
یہ آخری دور میں بغداد چلے گئے اور وہاں احادیث بیان کی

اور پھر نقل کرتے ہیں :
قال يعقوب السدوسي: سمعت إبراهيم بن هاشم يقول: ما قال لنا جرير قط ببغداد: حدثنا ولا في كلمة.
وكان ربما نعس ونام، ثم يقرأ من موضع نعس.
یعقوب سدوسی کہتے ہیں میں نے ابراھیم بن ھاشم کو کہتے سنا کہ ہم کو جریر نے بغداد میں کبھی بھی ”حدثنا” کے الفاظ نہ کہتے۔ بعض اوقات انکو نیند آجاتی اور پھر جب اٹھتے تو وہاں سے حدیث شروع کر دیتے تھے جہاں چھوڑی ہوتی
[میزان الاعتدا]

اور انکا سماع امام اعمش سے بھی بغداد میں ہوا تھا ۔ اگرچہ مطلق مروایات انکی عمومی طور پر امام اعمش سے رد نہیں ہوتی لیکن جب انکی ایسی روایت امام اعمش سے دیگر اصح طریق کے خلاف آئے تو لازما رد ہوگی ۔

جیسا کہ اس روایت کے برعکس اس سے اصح سند سے واسط علاقہ کے ثقہ ثبت مورخ و محدث نقل کرتے ہیں :
ثنا وهب بن بقية، قال: ثنا حماد بن أسامة عن الأعمش عن أبي وائل، قَالَ: كنت مع مسروق بسلسلة واسط، فمرت سفن فيها هدايا الى معاوية.
ابی وائل کہتے ہیں: میں مسروق کے ساتھ تھا بسلسلہ واسط میں اور وہاں سے بہری جہاذ گزرے جس میں حضرت امیر معاویہ کی طرف تحفے بھیجے گئے۔
[تاریخ واسط وسندہ جید ]

اب یہ مورخ بھی واسط کے علاقے کے ہیں اور انکی سند تو صاحب الانساب سے اعلیٰ ہے ۔

اور انساب و تھذیب الاثار کی روایت دیگر قرائن کے بھی خلاف ہے جیسا کہ امام مسروق کبھی کسی چیز کی تفتیش نہیں کرتے تھے کہ کیا چیزیں گزر رہی ہیں اور کیا نہیں تو انکو کیسے پتہ چلا کہ جہاز میں بت ہیں؟
جیسا کہ امام مسرو ق کے بارے خود امام ابو وائل کا قول ہے:
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عليٍّ، قَالَ: حدثنا شُعْبَة، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أبا وَائِل، قَالَ: كُنَّت مَعَ مسروق بالسلسلة فما رأيت أَمِيرًا كَانَ أَعَفَّ مِنْهُ، مَا كَانَ يصيب إلا ماء دجلة.
امام ابو وائل کہتے ہیں میں نے مسروق کے ساتھ سلسلہ میں اور میں نے ان جیسا پاکیزہ امیر نہیں دیکھا ہے ۔ انکو دجلہ پانی کے علاوہ کوئی چیز نہیں پہنچی
[تاریخ ابن ابی خیثمہ وسندہ جید]

یعنی امام ابو وائل کے بقول تو امام مسروق کبھی کسی اور چیز سے کام نہیں رکھتے تھے ۔ تو انکو کیسے پتہ تھا کہ جہاز کہاں سے کہاں جا رہے ہیں اور ان میں بت ہے سونےچاندی کے ؟ یہاں تک کہ کچھ چوری بھی ہو جاتا تو یہ کبھی تلاشی نہیں کرتے تھے سوائے یہ بات کہنے کے کہ واپس کر دی جائے جسکے پاس ہے ۔
جیسا کہ امام اسلم واسطی ہی نے بیان کیا ہے :
ثنا سعيد بن يحيى بن الأزهر، قَالَ: ثنا حفص عن إِسْمَاعِيل بن أبي خالد عن أبي إِسْحَاق، قَالَ: كان مسروق لا يفتش أحدا ويقول لمن مر به ان كان لنا معك شيء فأعطيناه.
امام ابو اسحاق کہتے ہیں کہ مسروق کبھی کسی سے تلاشی و تفتیش نہیں کرتے تھے بلکہ ساتھ گزرنے والے سے کہتے تمہارے پاس شےہے تو ہم کو دے دو
[تاریخ واسط وسند حسن]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید یہ کہ جو منکر تبصرہ امام مسروق کی طرف منسوب کیا گیا ہے حضرت امیر معاویہ کے حوالے سے الانساب میں وہ مکمل باطل ہے ۔ کیونکہ امام مسروق حضرت معاویہ کے اجتہاد اور فیصلوں کی تعریف و مداح کرتے تھے

جیسا کہ امام دارمی روایت کرتے ہیں :
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن سلمة، عن داود، عن الشعبي، عن مسروق، قال: «كان معاوية، يورث المسلم من الكافر، ولا يورث الكافر من المسلم» قال: قال مسروق: «وما حدث في الإسلام قضاء أحب إلي منه»

امام مسروق کہتے ہیں حضرت معاویہؓ نے کافر شخص کو مسلمان کا وارث قرار دیتے تھے ۔
امام مسروق کہتےہیں اسلام میں میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ فیصلہ کوئی اور نہیں دیا گیا ۔(سوائےحضرت معاویہؓ کے)
[سنن الدرامی ، وسند صحیح علی مسروق]

تو امام مسروق سے حضرت معاویہؓ کے بارے ایسے الفاظ کیسے تصور کیے جا سکتے ہیں جو الانساب میں مروی ہیں۔
جبکہ امام مسروق حضرت معاویہ ؓ کے دور میں قاضی رہے۔

یہی وجہ ہے کہ امام بن حنبل کے نزدیک اس خاص روایت میں امام اعمش کی تدلیس کیطرف حکم لگایا ہے ۔

جیسا کہ امام خلاف امام مہنا سے نقل کرتے ہیں:
قال مهنا: سألت أحمد، عن حديث الأعمش، عن أبي وائل، أن معاوية لعب بالأصنام.
فقال: ما أغلط أهل الكوفة على أصحاب رسول الله، ولم يصحح الحديث.
وقال: تكلم به رجل من الشيعة.

امام مھنا کہتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبل سے امام اعمش کی حدیث کے حوالے سے سوال کیا جو وہ ابی وائل سے روایت کرتے ہیں حضرت معاویہؓ کے بتوں کے حوالے سے
تو امام احمد بن حنبل نے کہا یہ اہل کوفہ میں سے(کسی نے) غلط بات حضور اکرمﷺ کے اصحابؓ پر کی ہے ۔
اور یہ حدیث صحیح نہیں ہے ۔
اور پھر امام احمد نے کہا یہ کسی شیعہ شخص کا کلام ہے (نہ کہ امام مسروق سے مروی روایت)
[المنتخب من العلل خلال برقم: 143]

نوٹ: اگر یہ کہا جائے کہ امام خلال کا سماع نہیں ہے امام مھنا سے اور یہ جرح انقطاع کی وجہ سے غیر ثابت ہے تو یہ بات ٹھیک نہیں کیونہ امام خلال نے اس کتاب میں تصریح کی ہے کہ انہوں نے امام زھیر پر انکی کتاب قرات کی تھی جس میں امام مھنا سے روایت کرتے ہیں
قرأتُ على زهير : حدثكم مهنّا
[المنتخب من العلل الخلال]

یعنی امام احمد نے اس روایت میں خاص امام اعمش کی تدلیس کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے یہ روایت کسی شیعہ کے کلام سے اخذ کی تھی !
اس سند خاص میں امام اعمش کی تدلیس دلیل خاص یعنی امام احمد کے کلام سے ثابت ہے ۔

لہذا اس بات کا رد امام ذھبی کے اصول سے نہین ہو سکتا کیونکہ امام ذھبی نے عمومی مروایات کا حکم لگایا ہے کہ امام اعمش کی تین شیوخ سے روایت محمول علی سماع ہوتی ہیں
لیکن ان تین شیوخ میں سے کسی ایک سے روایت میں اگر کوئی محدث تدلیس کا حکم لگا دے تو وہ اسیی خاص طریق پر حکم تدلیس ہوتا ہے نہ کہ مطلق اس طریق کی ہر مروایات پر۔

تو امام امام ذھبی کی بات بالکل ٹھیک ہے کہ کثیر الروایت شیوخ سے امام اعمش کی عمومی روایت محمول علی سماع ہونگی جو کہ غالب گمان پر مبنی صحیح فیصلہ ہے۔ لیکن ان تین شیوخ سے بھی ائمہ علل نے خاص روایتوں میں تدلیس بیان کی ہوئی ہیں جو کہ بطور دلیل ان خاص مرویات میں تدلیس مانی جائے گی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیز اگر امام اعمش ایسی روایت کو صحیح سمجھتے ہوتے تو وہ حضرت معاویہؓ کو امام مہدی سے تشبیہ نہ قرار دیتے !
جسکو امام طبرانی نے روایت کیا ہے!
حدثنا الحسين بن إسحاق، ثنا يوسف بن محمد بن سابق، سمعت أبا يحيى الحماني، يقول: سمعت الأعمش، يقول: ” لو رأيتم معاوية لقلتم: هذا المهدي “
امام ابو یحییٰ الحمانی کہتے ہیں میں نے امام اعمش کو فرماتے ہو ئے سنا! ”اگر تم حضرت معاویہؓ کو دیکھتے تو کہتے یہی مھدی ہیں ”
[المعجم الكبير، برقم: 691وسندہ صحیح]

نیز امام اعمش تک جو مروایات پہنچتی تھیں وہ روایت کر دیتے تھے جیسا کہ عمومی محدثین کا منہج تھا
اس لیے امام بخاری امام اعمش کے حوالے سے انکا ایک قول نقل کرتے ہیں :
قال أبو بكر بن عياش عن الأعمش أنه قال نستغفر الله من أشياء كنا نرويها على وجه التعجب اتخذوها دينا وقد أدرك أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم معاوية أميرا في زمان عمر وبعد ذلك عشر سنين فلم يقم إليه أحد فيقتله
امام اعمش کہتے ہیں ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ہم نےایسی روایتیں بیان کی ہیں کہ جنکو بطور دین لے لیا گیا (یعنی مشاجرات) اور حضور اکرمﷺ کے اصحابؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کو امیر بنایا حضرت عمرؓ کے دور میں ۔ اور وہ وہ ۱۰ سال امیر رہے اور کسی کی انکو قتل کرنے کی جرت نہ ہوئی
[تاریخ الاوسط ]
امام بخاری نے بلجزم ابو بکر بن عیاش سے نقل کیا ہے جبکہ انکا سماع نہیں ان سے البتہ یہ قول اوپر امام عمش سے صحیح سند سے مروی قول کی تائید میں ہے!

الغرض اتنے سارے خارجی دلائل اور اسناد کو مد نظر رکھا جائے تو یقینن یہ روایت ایک جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے جو کہ معلل ہونے کے سبب باطل ہے !!!

نیز اگر ان روایات کو ایک لمحہ کے لیے صحیح مان بھی لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ اتنا ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکم حضرت معاویہؓ سے حدیث رسولﷺ کے عدم علم ہونے کی وجہ سے صادر ہوا !
کیونکہ اس روایت کے متن کے مطابق بھی مسروق کا حضرت معاویہ ؓ کو حدیث رسولﷺ پر مطلع کیے بغیر طعن نقل کیا گیا ہے جو کہ متن کو جعلی بناتا ہے!

ایسے نبی اکرمﷺ نے پہلے لوگوں کو جلانے کا حکم دیا تھا لیکن پھر اس حکم کو منسوخ کردیا تھا
جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے :
عن ابي هريرة رضي الله عنه انه قال:‏‏‏‏ بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعث فقال:‏‏‏‏”إن وجدتم فلانا وفلانا فاحرقوهما بالنار”ثم قال:‏‏‏‏ رسول الله صلى الله عليه وسلم”حين اردنا الخروج إني امرتكم ان تحرقوا فلانا وفلانا وإن النار لا يعذب بها إلا الله فإن وجدتموهما فاقتلوهما”.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ فرمایا اور یہ ہدایت فرمائی کہ اگر تمہیں فلاں اور فلاں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا ‘ پھر جب ہم نے روانگی کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں اور فلاں کو جلا دینا۔ لیکن آگ ایک ایسی چیز ہے جس کی سزا صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے۔ اس لیے اگر وہ تمہیں ملیں تو انہیں قتل کرنا (آگ میں نہ جلانا)۔
[صحیح البخاری برقم:۳۰۱۶]

جبکہ حضرت مولا علیؓ کو حضور اکرمﷺ کے اس فرمان نسخ کا علم نہ ہو سکا اور ان سے اجتہادی خطاء ہوئی اور انہوں نے بظاہر شریعت کے خلاف عمل کر دیا
جیسا کہ بخاری میں موجود ہے :
حدثنا علي بن عبد الله حدثنا سفيان عن ايوب عن عكرمة ان عليا رضي الله عنه حرق قوما فبلغ ابن عباس فقال:‏‏‏‏ لو كنت انا لم احرقهم لان النبي صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏”لا تعذبوا بعذاب الله ولقتلتهم”كما قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏
“من بدل دينه فاقتلوه”.
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کو جلا دیا تھا۔ جب یہ خبر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو آپ نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو کبھی انہیں نہ جلاتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب کی سزا کسی کو نہ دو ‘ البتہ میں انہیں قتل ضرور کرتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین تبدیل کر دے اسے قتل کر دو۔
[صحیح البخاری]

بلکہ حضرت علی ؓ سے اپنے اس فعل پر خطاء اجتہادی کو تسلیم کرنا بھی ثابت ہے جیسا کہ امام ابو داود روایت کرتے ہیں :
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، اخبرنا ايوب، عن عكرمة، ان عليا عليه السلام احرق ناسا ارتدوا عن الإسلام، فبلغ ذلك ابن عباس فقال: لم اكن لاحرقهم بالنار، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:” لا تعذبوا بعذاب الله وكنت قاتلهم بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من بدل دينه فاقتلوه، فبلغ ذلك عليا عليه السلام، فقال: ويح ابن عباس”.
عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت علی ؓنے کچھ لوگوں کو جو اسلام سے پھر گئے تھے آگ میں جلوا دیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ میں انہیں جلاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تم انہیں وہ عذاب نہ دو جو اللہ کے ساتھ مخصوص ہے“ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی رو سے انہیں قتل کر دیتا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو اسلام چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کر لے اسے قتل کر دو“ پھر جب علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: اللہ ابن عباس کی ماں پر رحم فرمائے انہوں نے بڑی اچھی بات کہی۔
[سنن ابی داود،برقم:۴۳۵۱ وسند صحیح]

اب اس بنیاد پر جس طرح حضرت مولا علیؓ کی اس اجتہادی خطاء عدم علم کے سبب ان پر طعن کرنا جہالت ہے ویسے ہی حضرت امیر معاویہؓ کا معاملہ ہوتا اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو ۔

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی

Exit mobile version