حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اکیلےقلعہ خیبرکا دروازہ اکھاڑ دینا
مذکورہ روایت پر نقد کا علمی محاسبہ
کچھ ناقدین سے جرح پیش کی جاتی ہے جس میں امام ذھبی (جو مذکورہ سند کی روایت کو منکر قرار دیتے ہوئے )ضعیف کہتے ہیں اور امام سخاوی تمام طرق پر جرح کرتے ہیں اور امام ملا علی قاری نے امام سخاوی کی اتباع میں اسکو موضوعات میں بغیر جرح مفسر کے شامل کر دیا ہے !
لیکن یہ روایت موضوع بالکل نہیں بلکہ حسن لغیرہ ہے امام ابن کثیر کا کلام اس پر اہمیت کا حامل ہے وہ لکھتےہیں:
●》وقال يونس عن ابن إسحاق عن بعض أهله عن أبي رافع ۔۔۔۔ولكن وفي هذا الخبر جهالة وانقطاع ظاهر.
▪︎ابن اسحاق سے مروی روایت کے بارے کہتے ہیں کہ اس خبر میں رواتہ کی جہالت ہے اور انقطاع بھی ظاہر ہے
نوٹ: یہاں امام ابن کثیر سے انقطاع کی جرح میں تسامح ہوا ہے کیونکہ انہوں نے یونس عن ابن اسحاق (عبداللہ بن حسن کی بجائے ) عن اہلہ نقل کر دیا
اور لیث کے طریق کے بارے لکھتےہیں :
فيه ضعف أيضا. وفي رواية ضعيفة،
اس میں بھی ضعف ہے ابن جابر سے مروی روایت میں ضعیف راوی ہے
[ البداية والنهايةج۶ ،ص۲۷۴]
اور امام ذھبی نے چونکہ اس روایت کو لیث کے سبب ضعیف قرار دیا تھا جسکی روایت شواہد و متابعت میں قبول ہوتی ہے۔
جیسا کہ امام ذھبی سیر میں لیث کے بارے لکھتےہیں :
●》قلت: بعض الأئمة يحسن لليث، ولا يبلغ حديثه مرتبة الحسن، بل عداده في مرتبة الضعيف المقارب، فيروى في الشواهد والاعتبار، وفي الرغائب، والفضائل، أما في الواجبات، فلا
▪︎میں ذھبی کہتا ہوں کہ بعض ائمہ نے لیث (کی روایات کو )حسن قرار دیا ہے لیکن اس کی روایت درجہ میں حسن مرتبہ تک نہیں پہنچ ، بلکہ یہ ضعیف مراتب کے قریب ہے ۔ اور اس سے شواہد، و اعتبار اور رغائب و فضائل کے ابواب میں روایت کیا گیا لیکن واجبات میں نہین
[سیر اعلام النبلاء]
اور مذکورہ روایت بھی فضائل کے باب سے ہے اور اسکی شاہدبھی موجودہے۔
جیسا کہ مذکورہ روایت کے تحت لسان میں امام ذھبی پر امام ابن حجر عسقلانی تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
●》عن جابر أن عليا رضي الله عنه حمل باب خيبر يوم فتحها وأنهم جربوه بعد ذلك فلم يحمله إلا أربعون رجلا هذا منكر ورواه جماعة عن إسمعيل انتهى
قلت له شاهد من حديث أبي رافع رواه أحمد في مسنده لكن لم يقل أربعون رجلا
▪︎امام ذھبی حضرت علی کا مذکورہ واقعہ لیث سے نقل کرکے فرماتے ہیں کہ یہ منکر ہے اور جماعت نے اسکو اسماعیل سے روایت کیا ہے امام ذھبی کا کلام ختم ہوا
اور میں (ابن حجر) کہتا ہوں کہ اسکا شاہد موجود ہے حضرت ابی رافع کی حدیث میں جسکو امام احمد نے روایت کیا ہے اپنی مسند یں لیکن اس میں ۴۰ افراد کا تذکرہ نہیں ہے
[لسان المیزان ، برقم:۵۲۱]
اور امام احمد نے اسکی سند اپنی مسند میں یون بیان کی ہے :
●》حدثنا حدثنا يعقوب ، حدثنا ابي ، عن محمد بن إسحاق ، قال: حدثني عبد الله بن حسن ، عن بعض اهله، عن ابي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:” خرجنا مع علي حين بعثه رسول الله برايته، فلما دنا من الحصن خرج إليه اهله فقاتلهم، فضربه رجل من يهود، فطرح ترسه من يده، فتناول علي بابا كان عند الحصن، فترس به نفسه، فلم يزل في يده وهو يقاتل حتى فتح الله عليه، ثم القاه من يده حين فرغ، فلقد رايتني في نفر معي سبعة انا ثامنهم نجهد على ان نقلب ذلك الباب، فما نقلبه” .
▪︎حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ خیبر کے موقع پر) جب علی رضی اللہ عنہ کو اپنا جھنڈا دے کر بھیجا تو ہم بھی ان کے ساتھ نکلے تھے جب وہ قلعہ کے قریب پہنچے تو قلعہ کے لوگ باہر آئے اور لڑائی شروع ہوگئی ایک یہودی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ڈھال ان کے ہاتھ سے گرگئی تھی انہوں نے قلعہ کا دروازہ اکھیڑ کر اس سے ڈھال کا کام لیا اور دوران قتال وہ مستقل ان کے ہاتھ میں رہا حتیٰ کہ اللہ نے انہیں فتح عطا فرما دی اور جنگ سے فارغ ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ہاتھ سے پھینک دیا میں نے دیکھا کہ سات آدمیوں کی ایک جماعت نے ” جن کے ساتھ آٹھواں میں بھی تھا ” اس دروازے کو ہلانے میں اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن ہم اسے ہلا نہیں سکے۔
[مسند احمد ]
اسکی سند میں صرف ایک ضعف ہے کہ امام عبداللہ بن حسن بن حسن بن علیؓ نے اپنے شیوخ کے ناموں کی تصریح نہیں کی لیکن یہ روایت بطور شواہد میں تقویت دینے اور روایت کے حسن لغیرہ ہونے کے لیے کافی ہے
جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی حسن لغیرہ کا اصول بتاتے ہوئے لکھتےہیں:
[الحسن لغيره]
●》ومتى تُوبعَ السيءُ الحفظ بمُعْتَبَرٍ: كأَنْ يكونَ فَوْقَهُ، أَو مِثلَهُ، لا دُونَه، وكَذا المختلِط الَّذي لم يتميز، والمستور، والإِسنادُ المُرْسَلُ، وكذا المدلَّس إِذا لم يُعْرف المحذوفُ منهُ = صارَ حديثُهم حَسناً، لا لذاتِهِ، بل وصْفُهُ بذلك باعتبارِ المَجْموعِ، مِن المتابِع والمتابَع؛ لأن كلَّ واحدٍ منهم احتمالُ أن تكون روايته صواباً، أو غير صوابٍ، على حدٍّ سواءٍ، فإِذا جاءَتْ مِنَ المُعْتَبَرِين روايةٌ موافِقةٌ لأحدِهِم رَجَحَ أحدُ الجانِبينِ من الاحتمالين المذكورين، وَدَلَّ ذلك على أَنَّ الحديثَ محفوظٌ؛ فارْتَقى مِن درَجَةِ التوقف إلى درجة القبول. ومعَ ارْتِقائِهِ إِلى دَرَجَةِ القَبولِ فهُو مُنحَطٌّ عنْ رُتْبَةِ الحَسَنِ لذاتِه، ورُبَّما تَوقَّف بعضُهم عنْ إِطلاقِ اسمِ الحَسَنِ عليهِ.
▪︎چناچہ وہ بیان کرتے ہیں کہ :
اور جب خراب حافظے والے راوی کی کسی ایسے راوی سے متابعت آجائے جو اس سے اچھی حالت والا ہو یا اس جیسا ہو ، اسی طرح وہ مختلط راوی جسکی روایات کی (قبل الاختلاط اور بعد الاختلاط ہونے کے حوالےسے) تمیز نہ ہو سکے نیز مستور راوی، مرسل سند اور ایسی تدلیس والی روایت جس میں گرے ہوئے راوی کی پہچان نہ ہو سکے ،ان سب کی حدیث حسن (لغیرہ)ہو جاتی ہے۔
حدیث حسن (لغیرہ) بن جاتی ہے خود نہیں بلکہ اس کی یہ حالت متابع اور متابع دونوں کے جمع ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں برابر امکان ہے کہ اس کی روایت درست بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی ، جب کسی ایسے راوی جسکی روایت متابعات و شواہد میں قبول کی جاتی ہے ،ان میں سے کسی (راوی) سے موافق روایت آجائے تو مذکورہ دونوں احتمالات میں سے ایک جانب (درستی) کو ترجیح حاصل ہو جائے گی اور معلوم ہو جائے گا کہ حدیث محفوظ ہے یوں یہ توقف کےدرجے سے بلند ہو کر قبولیت کے درجے تک پہنچ جائے گی
ہاں قبولیت کے درجے تک پہنچنے کے باوجود بھی یہ حدیث حسن لذاتہ کے مرتبے سے کم رہے گی ، بسا اوقات بعض محدثین نے اسے حسن کا نام دینے سے بھی توقف کیا ہے
(یعنی یہ حسن لغیرہ ہوگی حسن لذاتہ نہ ہوگی جو کہ اکثر حسن سے مراد حسن لذاتہ ہوتا ہے )
[نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر الامام ابن حجر عسقلانی ، ص ۲۳۴]
●》یہی وجہ ہے کہ امام سیوطی نے بھی اس رویت پر حسن لغیرہ کا اطلاق کیا ہے اپنی تصنیف میں :
▪︎عن جابر: أن عليا حمل الباب يوم خيبر حتى صعد المسلمون ففتحوها وأنه جرب فلم يحمله إلا أربعون رجلا ابن أبى شيبة حسن(لغیرہ)
[جامع الاحدیث برقم:36805]
تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی
