Site icon اردو محفل

وَالّٰٓـىٴِۡ يَئِسۡنَ مِنَ الۡمَحِيۡضِ مِنۡ نِّسَآئِكُمۡ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشۡهُرٍ وَّالّٰٓـىٴِۡ لَمۡ يَحِضۡنَ‌ ؕ وَاُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنۡ يَّضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّ ‌ؕ وَمَنۡ يَّـتَّـقِ اللّٰهَ يَجۡعَلْ لَّهٗ مِنۡ اَمۡرِهٖ یُسْرًا سورۃ نمبر 65 الطلاق آیت نمبر 4

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالّٰٓـىٴِۡ يَئِسۡنَ مِنَ الۡمَحِيۡضِ مِنۡ نِّسَآئِكُمۡ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشۡهُرٍ وَّالّٰٓـىٴِۡ لَمۡ يَحِضۡنَ‌ ؕ وَاُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنۡ يَّضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّ ‌ؕ وَمَنۡ يَّـتَّـقِ اللّٰهَ يَجۡعَلْ لَّهٗ مِنۡ اَمۡرِهٖ یُسْرًا ۞

ترجمہ:

اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں اگر تم کو ان کی عدت میں شبہ ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور وہ عورتیں جن کا حیض ابھی نہیں آیا ( ان کی بھی یہی عدت ہے) اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے کام میں آسانی کر دے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں اگر تم کو ان کی عدت میں شبہ ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور وہ عورتیں جن کو حیض ابھی نہیں آیا ( ان کی بھی یہی عدت ہے) اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے، اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے کام میں آسانی کر دے گا یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے، اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے گناہوں کو مٹا دے گا اور اس کے ثواب کو بڑھا دے گا (الطلاق : ٥، ٤)

جن بوڑھی عورتوں کو حیض نہیں آتا، ان کی عدت میں شک ہونے کے محامل

جن عورتوں کو حیض آتا ہے ان کی عدت اللہ تعالیٰ اس آیت میں بیان فرما چکا ہے :

وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰـثَۃَ قُرُوْٓئٍ (البقرہ : ٢٢٨) (طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔ )

اور اس آیت میں بتایا ہے کہ جن عورتوں کو نابالغہ ہونے کی وجہ سے یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہیں آتا ان کی عدت تین ماہ ہے۔ پھر اس آیت میں جو فرمایا ہے : اگر تم کو ان کی عدت میں شبہ ہو، اس کے تین محمل ہیں :

١۔ مجاہد نے کہا : اگر تم کو معلوم نہ ہو جو عورت، حیض سے رک گئی ہے یا جس کا حیض شروع نہیں ہوا تو اس کی عدت تین ماہ ہے۔ زہری نے کہا : جو عورت بوڑھی ہے اور اس کو حیض میں شک ہے تو وہ تین ماہ عدت گزارے گی۔ اگر جو ان عورت کو حیض نہ آئے تو دیکھا جائے گا، وہ حاملہ ہے یا غیر حاملہ، اگر متعین ہوجائے کہ وہ حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے، نہیں تو انتظار کیا جائے حتیٰ کہ حمل کا معاملہ صاف ہوجائے اور انتظار کی مدت ایک سال ہے۔

٢۔ ابن ابی کعب نے کہا : یا رسول اللہ ! قرآن مجید میں بوڑھی عورت، نا بالغہ اور حاملہ عورت کی عدت نہیں بیان کی گئی تو یہ آیت نازل ہوگئی۔

٣۔ عکرمہ نے کہا : اگر عورت کو مہینہ میں بار بارخون آتا ہے اور کئی مہینہ خون آتا رہتا ہے اور اس کو شک ہے اور یہ متعین نہیں ہوتا کہ یہ حیض کا خون ہے یا استخاضہ کا، یعنی یہ خون رحم سے آیا ہے یا بیماری کی وجہ سے کسی رگ سے آیا ہے تو پھر اس کی عدت تین ماہ ہے۔

علامہ ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے اسی آخری قول کو ترجیح دی ہے۔

(جامع البیان جز ٢٨ ص ١٨٠، ١٧٩، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

نیز فرمایا ہے : اور حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے۔ علامہ ابن جریر طبری نے فرمایا : اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے۔ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے۔

بیوہ حاملہ کی عدت میں اختلاف صحابہ

اس میں اختلاف ہے کہ جس حاملہ عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے یا اس کی عدت وضح حمل ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) کا مختار یہ ہے کہ اس کی عدت وضع حمل ہے، وہ کہتے تھے جو چاہے میں اس سے اس مسئلہ پر لعان کرنے کے لیے تیار ہوں کہ الطلاق : ٤ جس میں فرمایا : حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے، البقرہ : ٢٣٤ کے بعد نازل ہوئی ہے جس میں فرمایا ہے کہ بیوہ عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہے اور وہ قسم کھا کر فرماتے : النساء القصریٰ ( الطلاق) النساء الطولیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے اور حضرت علی اور حضرت ابن عباس (رض) یہ کہتے تھے کہ اس کی عدت زیادہ لمبی مدت ہے، یعنی اگر وضع حمل کی مدت چار ماہ سے زیادہ ہو تو وہ اس کی عدت ہے اور اگر چاہ ماہ دس دن کی مدت وضع حمل کے عرصہ سے زیادہ ہو تو پھر وہ اس کی عدت ہے۔ ( جامع البیان جز ٢٨ ص ١٨٤، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ )

ہم سورة الطلاق کے تعارف میں اس اختلاف کو تفصیل سے بیان کرچکے ہیں۔

نا بالغہ، بوڑھی اور حاملہ عورتوں کی عدت کے متعلق فقہاء احناف کی تصریحات

علامہ علائو الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں :

جس عورت کو کم عمر ہونے کی وجہ سے حیض نہیں آتا بایں طور کہ اس کی عمر نو سال سے کم ہو، اس کی عدت تین ماہ ہے یا جو عورت بوڑھی ہو اور سن ایاس کو پہنچ چکی ہو، اس کی عدت بھی تین ماہ ہے، یا جو عورت بالغہ ہوچکی ہو اور بار بار حیض آنے کے بعد اس کا طہر دائم ہو اور بوڑھی ہونے تک اس کو دوبارہ حیض نہ آیا اس کی عدت بھی تین ماہ ہے اور مہینوں کا اعتبار چاند کی تاریخوں کے حساب سے ہوگا۔ (الدرا المتخار مع ردالمختار ج ٥ ص ١٤٩، ١٤٦ ملخصا، دارا حیاء الترات العربی، بیرون، ١٤١٩ ھ)

اور عدت وفات چاند کی تاریخوں کے اعتبار سے چار ماہ دس دن ہے اور حاملہ عورت کی عدت مطلقاً وضع حمل ہے، خواہ وہ عدت طلاق گزاررہی ہو یا عدت وفات۔ ( الدرالمختار مع ردالمختار ج ٥ ص ١٥١، دار حیاء الترات العربی، بیروت)

علامہ علاوء الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی الحنفی المتوفی ٥٨٧ ھ لکھتے ہیں :

رہی عدت حمل تو اس کی مقدار اتنی ہے جتنی مدت وضع حمل میں رہ گئی ہے، خواہ کم ہو یا زیادہ حتیٰ کہ عدت واجب ہونے کے ایک دن یا ایک گھنٹہ بعد بھی ولادت ہوجائے تو اس کی عدت پوری ہوجائے گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مطلقاً فرمایا ہے :

وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ (الطلاق : ٤) (اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ )

اور کتاب الاصل میں مذکور ہے کہ اگر میت تخت غسل پر ہو اور اس کی بیوی کے ماں ولادت ہوجائے تو اس کی عدت پوری ہوجائے گی، پھر لکھتے ہیں :

عمرو بن شعیب ١ ؎ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی :

(شعیب کا پورا نام ہے، محمد بن عبد اللہ بن عمر العاص، گویا عمرو بن شعیب اپنے والد محمد بن عبد اللہ سے اور محمد بن عبد اللہ اپنے دادا حضرت عمرو بن العاص (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ ( تدریب الراوی ص ٣٠٤، درالکتاب العربی، بیروت، ١٤٢٤ ھ)

وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ (الطلاق : ٦)

تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ آیت مطلقہ کی عدت کے بارے میں ہے یا بیوہ کی عدت کے بارے میں ؟ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دونوں کے بارے میں ہے، اور سبیعہ بنت الحارث نے روایت کیا ہے کہ ان کے شوہر کی موت کے بیس اور کچھ دنوں کے بعد ان کو نکاح کرنے کی اجازت دے دی۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٠٩، صحیح مسلم رقم الحدیث ١٤٨٥، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١١٩٤)

نیز عدت سے مقصود یہ ہے کہ برأت رحم واضح ہوجائے اور تین حیض گزر جانے سے بھی برأت رحم واضح ہوتی ہے اور وضع حمل سے اس سے بھی زیادہ برأت رحم واضح ہوتی ہے، پس وضع حمل سے عدت کا پورا ہونا مہینوں کی بہ نسبت زیادہ وضح ہے اور قرآن مجید کی اس آیت میں عموم ہے۔ ( بدائع الصنائع ج ٤ ص ٤٣٢، ٤٣٠ ملخصا، دارالکتب العلیمہ، بیروت، ١٤١٨ ھ)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 65 الطلاق آیت نمبر 4

Exit mobile version