اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرو ( تو اچھا ہے) کیونکہ تمہارے دل اعتدال سے کچھ ہٹ چکے ہیں اور اگر نبی کے خلاف تم دونوں ایک دوسرے کی مدد کرتی رہیں، تو بیشک اللہ نبی کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک مسلمان اور اس کے بعد سب فرشتے بھی ( ان کے) مددگار ہیں۔
التحریم : ٤ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرو ( تو اچھا ہے) کیونکہ تمہارے دل اعتدال سے کچھ ہٹ چکے ہیں۔
حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ (رض) کو توبہ کا حکم دینے کی توجیہ
ان دونوں سے مراد حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ (رض) ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو توبہ کرنے پر برانگیختہ کیا ہے، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت شدید محبت کی وجہ سے وہ یہ چاہتی تھیں کہ آپ کسی اور کی طرف زیادہ توجہ نہ فرمائیں اور کسی اور کے پاس زیادہ نہ ٹھہریں اور چونکہ آپ حضرت زینب بنت حجش (رض) کے پاس شہد پینے کی وجہ سے زیادہ ٹھہرتے تھے، اس لیے انہوں نے چاہا کہ آپ شہد ہی نہ پئیں، اس لیے انہوں نے کہا کہ آپ نے وہ شہد پیا ہے جس کو شہد کی مکھیوں نے اس درخت کے پتوں سے چوسا تھا جس پر مغافیر لگا ہوا تھا، اس وجہ سے آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آرہی ہے اور مغافیر کی بو آپ کو ناپسند تھی، گویا وہ آپ سے شہد کو چھڑانا چاہتی تھیں تاکہ آپ حضرت زینب کے پاس زیادہ نہ ٹھہریں، لیکن اس معاملہ میں ان کی توجہ اس طرف نہیں رہی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہد اور مٹھاس کو پسند فرماتے تھے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث ١٤٧٤) اور اس طرح وہ نا دانستگی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پسندیدہ چیز کو چھڑانے کی مرتکب ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ سخت ناپسند ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی پسندیدہ چیز کو نہ کھا سکیں نہ پی سکیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو فہمائش کی وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی محبت کو دائرہ اعتدال میں رکھیں تاکہ وہ نا دانستگی میں اپنی محبت کی شدت کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دل شکنی اور آپ کی دل آزادی کا موجب نہ بن جائیں۔
اس کے بعد فرمایا : اور اگر نبی کے خلاف تم دونوں ایک دوسرے کی مدد کرتی رہیں۔
یعنی اپنی محبت کے تقاضوں کو پورا کرتی رہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پسند کا خیال نہ کیا ( تو آپ کو کوئی ضرر نہیں ہوگا کیونکہ) بیشک اللہ نبی کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک مسلمان اور اس کے بعد سب فرشتے ( بھی) ان کے مددگار ہیں۔
نیک مسلمانوں کے مصادیق
جبریل کا الگ سے ذکر کیا ہے حالانکہ یہ بھی فرشتوں میں داخل ہیں کیونکہ حضرت جبریل کروبین کے سردار ہیں۔ حضرت جبریل کی مدد کے بعد صالح امیر المومنین کا ذکر فرمایا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ان سے مراد حضرت ابوبکر اور حضرت عمررضی اللہ عنہما ہیں، کیونکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتے تھے اور آپ کے مخالفوں سے عداوت رکھتے تھے۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد نیک مسلمان ہیں، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد تمام انبیاء (علیہم السلام) ہیں، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد خلفاء ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ ان سب کی مدد کے بعد تمام فرشتے مدد کرنے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی مدد کے بعد حضرت جبریل، نیک مسلمانوں اور فرشتوں کی مدد کے ذکر کی کیا ضروت تھی ؟
جب یہ فرما دیا کہ اللہ آپ کا مددگار ہے تو پھر یہ فرمانے کی کیا ضرورت تھی اور جبریل اور نیک مسلمان اور سارے فرشتے آپ کی مددگار ہیں ؟ کیونکہ اللہ کی مدد کے بعد تو اور کسی کی مدد کی ضرورت نہیں رہتی، اس کا ایک جواب یہ ہے کہ یہ آیت اس اسلوب پر ہے :
بے شک اللہ اور اس کے سارے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم ( بھی) نبی پر صلوٰۃ اور اسلام بھیجا کرو
اللہ تعالیٰ کے صلوٰۃ بھیجنے کے بعد اور کسی کی صلوٰۃ کی ضرورت نہیں ہے لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت اور شرف ظاہر کرنے کے لیے فرشتے بھی آپ پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں اور عام مسلمانوں کو بھی آپ پر صلوٰۃ بھیجنے کا حکم دیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی مدد کے بعد اور کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے لیکن آپ کی عظمت اور شرف ظاہر کرنے کے لیے یہ بتایا کہ اے عائشہ اور حفصہ ! اگر تم نے ہمارے نبی کی پسند کی رعایت نہ کی اور ان کی پسند پر مدد نہ کی تو ان کی کیا کمی ہوگی جن کا اللہ مددگار ہے اور جبریل مددگار ہیں اور نیک مسلمان مددگار ہیں اور ان کے بعد سارے فرشتے ان کے مددگار ہیں۔
مقبولان بارگاہ عزت سے مدد طلب کرنا اللہ تعالیٰ سے ہی مدد طلب کرنا ہے
دوسرا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مددگار تو صرف اللہ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد حضرت جبریل کی مدد کی صورت میں ظاہر ہوگی اور یا نیک مسلمانوں کی مدد کی صورت میں ظاہر ہوگی یا سارے فرشتوں کی مدد کی صورت میں ظاہر ہوگی، جس طرح رزاق تو صرف اللہ تعالیٰ ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ سے رزق دینے نہیں آتا، اس نے رزق کی فراہمی کے لیے اسباب، وسائل اور مظاہر مقرر کردیئے ہیں، اور ان سے رزق کا حصول دراصل اللہ تعالیٰ سے ہی رزق کا حصول ہے، اسی طرح سب فرشتے، سب نیک مسلمان اور حضرت جبریل ان سب کا مدد کرنا دراصل اللہ تعالیٰ ہی کا مدد کرنا ہے اور حضرت جبریل، نیک مسلمان اور سب فرشتے اللہ تعالیٰ کی امداد کے مظہر ہیں اور اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جس طرح ان کی امداد اللہ تعالیٰ کی امداد ہے، اسی طرح ان سے مدد طلب کرنا اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا ہے، کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی امداد کے مظہر ہیں اور جس طرح ان کا مدد کرنا شرک نہیں ہے اسی طرح ان سے مدد طلب کرنا بھی شرک نہیں ہے۔
شیخ محمود الحسن دیو بندی متوفی ١٣٣٩ ھ ” َاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ “ (الفاتحہ : ٤) کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ اس ذات پاک کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنا بالکل ناجائز ہے، ہاں ! اگر کسی مقبول بندہ کو محض واسطہ رحمت ِ الٰہی اور غیر مستقل سمجھ کر استعانت ظاہری اس سے کرے تو یہ جائز ہے کہ یہ استعانت در حقیقت حق تعالیٰ سے ہی استعانت ہے۔
مولیٰ اور ولی کا معنی
اس آیت میں مولیٰ کا لفظ ہے، اس کا مادہ ولی ہے، علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ ولی کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
ولی کا لفظ قرب مکان کے لیے استعمال ہوتا ہے اور نسب، دین، دوستی، مدد اور اعتقاد کے قرب کی حیثیت سے استعمال ہوتا ہے، اور ولایت کا معنی ہے کسی چیز میں تصرف کرنا اور ولی اور مولیٰ کا معنی متصرف، ناصر اور دوست ہے، مومن کو اللہ عزوجل کا ولی کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنین کا ولی اور ان کا مولیٰ ہے، قرآن مجید میں ہے :” اَ اللہ ُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ (البقرہ : ٢٥٧) اللہ مؤمنین کا ولی ہے، نیز قرآن مجید میں ہے۔
اور اللہ ( کی رسی) کو مضبوطی سے تھام لو، وہی تمہارا مالک ہے، سو کیا ہی اچھا مالک ہے۔
اور آزاد کرنے والے کو اور آزاد شدہ کو بھی مولیٰ کہا جاتا ہے اور حلیف کو بھی مولیٰ کہا جاتا ہے اور ہر وہ شخص جو دوسرے کے معاملات کو منتظم اور کا رمختار ہو وہ اس کا ولی ہے اور اولیٰ کا معنی ہے : لائق اور مستحق، قرآن مجید میں ہے۔
اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی (القیامہ : ٣٤) اور عذاب تیرے زیادہ لاحق ہے سو عذاب تیرے زیادہ لائق ہے
دو چیزوں کے درمیان سوالات کا معنی ہے : ان کا ایک دوسرے کے بعد وارث ہونا۔
عرف اور اصطلاح میں اللہ کا ولی اس نیک مسلمان کو کہتے ہیں جو کبائر صغائر اور خلاف سنت کا موں سے دائما مجتنب ہو اور فرائض، واجبات اور مستحبات پر دائما عامل ہو اور احکام شرعیہ اور اسرار شریعت کا عالم ہو۔
نیز مولیٰ کا معنی ہے : مالک، آقا، غلام، سردار، آزاد کرنے والا، انعام دینے والا، وہ جس کو انعام دیا جائے، محبت کرنے والا، ساتھی، حلیف، پڑوسی، مہمان، شریک، بیٹا، چچا کا بیٹا، داماد، رشتہ دار، تابع۔ ( المنجد اردو ص ١١٠٧)
لفظ مولوی کا معنی
کتب لغت میں مولوی کے حسب ذیل معنی ہیں :
المولوی : مولیٰ کی طرف منسوب، زاہد ( المنجد اردو ص ١١٠٧)
علامہ محمد بن مکرم ابن منظور افریقی متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں :
مولیٰ کی طرف نسبت مولوی ہے۔ ( لسان العرب ج ١٥ ص ٢٨٢، دارصادر، بیروت، ٢٠٠٣ ء)
مولوی : شرع کے احکام جاننے والا، دین کے مسئلوں سے واقف، دین کا عالم فاضل، شریعت کا پکا پابند، پکا دین دار متشرع، مدرس، معلم، عالموں فاضلوں کا لقب۔ ( قائد اللغات ص ٩٢٩، حامد این کمپنی، لاہور)
مولوی : شرع اسلامی کے احکام جاننے والا، عالم دین، فقیہ، پکا دین دار، پابند شریعت، معلم، مدرس، علماء کا لقب، مولیٰ سے بنایا ہوا ہے۔ ( فیروز اللغات ص ١٣١٨، فیروز سنز لمیٹڈ)
لفظ مولوی کے مواضع استعمال
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی قدس سرہٗ نے علماء اہل سنت اور احباب اہل سنت کے لیے لفظ مولوی اور مولانا کو استعمال فرمایا ہے :
جس روز آپ کا سوال آیا، حسن اتفاق سے اوس کے دوسرے دن بریلی سے مولوی امجد علی صاحب میرے ملنے کے لیے یہاں آئے۔ (فتاویٰ رضویہ ج ٤ ص ٨٤، مکتبہ رضویہ، کراچی، ١٤١٠ ھ)
حاجی صاحب گئے، مولوی امجد علی صاحب کے آنے پر رائے معلوم ہوگی۔ ( مکتوبات امام احمد رضا ص ٦٢، ٦١، مکتبہ نبویہ، لاہور، ٢٠٠١ ء)
مولوی رحم الٰہی صاحب علیل ہیں، دوسرے آدمی کی فکر میں ہوں۔ ” لمعۃ الضحیٰ “ کے لیے مولوی امجد علی صاحب سے کہہ دوں گا۔ ( ملکتوبات امام احمد رضا خان ص ٦٣، ٦٢، مکتبہ نبویہً لاہور، ٢٠٠١)
نوٹ : مولانا رحم الٰہی قادر رضوی اعلیٰ حضرت کے ممتاز خلیفہ اور منظر الاسلام بریلی کے دوسرے صدر المدرسین تھے۔
شام کو مولوی امجد علی صاحب سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا۔ الخ ( مکتوبات امام احمد رضا خاں ص ٦٨ )
بنام مولانا ظفر الدین قادری، مولانا مولوی ظفر الدین۔ ( مکتوبات امام احمد رضا خاں ص ٥٣ )
اعلیٰ حضرت امام رضا نے اکابر دیو بند کے ناموں کے ساتھ بھی مولوی اور مولانا کے القاب لکھے ہیں :
مگر جناب کے مہذب، عالم، مقدس، متکلم، مولوی مرتضیٰ حسن صاحب دیو بندی چاند پوری کے کمال شستہ و شائستہ دشنام نامے۔ گرامی منشی مولانا ثناء اللہ امرتسری ممکن و موجود میں فرق نہ جان سکے۔۔۔۔ ( فتاویٰ رضویہ ج ١٥ ص ٨٨، رضا فائونڈیشن، لاہور، ١٤٢٠ ھ)
جناب مولوی گنگوہی صاحب نے لکھا ہے کہ تھانوی صاحب کافر ہیں۔ ( الیٰ قولہ) جناب مولوی تھانوی صاحب نے فرمایا ہے کہ گنگوہی صاحب مرتد ہیں۔ ( فتاویٰ رضویہ ج ١٥ ص ٩٢، ٩١ رضا فائونڈیشن لاہور، ١٤٢٠ ھ)
خلاصہ یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت نے علماء اہل سنت اور دیو بندیوں دونوں کے لیے مولانا اور مولوی کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔
لفظ شیخ کا معنی اور اس کے مواضع استعمال
شیخ : بوڑھا، بڑی عمر کا، استاد، عالم، قوم کے سردار اور بڑے اور ہر اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں کی نظر میں علم فضلت اور مرتبہ و درجہ کے لحاظ سے بڑا ہو۔ ( المنجد اردو ص ٥٥١، ٥٥٠ )
حضرت سید پیر مہر علی شاہ نور اللہ مرقدہ دو عنوانوں میں لکھتے ہیں : پہلا عنوان یہ ہے، شیخ ابن تیمیہ غفر اللہ لہٗ کے اس حدیث پر اعتراضات اور اہل تحقیق کے جوابات اور دوسرا عنوان یہ ہے، شیخ ابن تیمیہ کا حدیث مدینۃ العلم پر دوسرا اعتراض۔
(تصفیہ ما بین سنی و شیعہ ص ٧٣، ٦٣، مطبوعہ پر نٹنگ پروفیشنلز لاہور ٢٠٠٥ ء)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی نے ایک غیر مقلد عالم کی طرف مکتوب کے سر نامے میں لکھا :
بنام الشیخ محمد طیب مکی۔ ( مکتوبات ص ١٣١، لاہور)
نیز اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں : کالی بھوانی شیخ سدو ارواح خبیثہ کے ساتھ نبی اللہ خضر (علیہ السلام) سے استمداد کو ملانا صریح گمراہی اور نبی اللہ کی توہین اور امام الوھابیہ مخذولی کی طرز لعین ہے تو بہ فرض ہے۔ ( فتاویٰ رضویہ ج ١٠ ص ٣٢٠، مکتبہ رضویہ، کراچی)
دیگر علماء اہل سنت نے بھی مخالفین اہل سنت کے لیے شیخ کا لفظ استعمال کیا ہے :
مولانا حسن رضا خاں فاضل بریلوی متوفی ١٣٢٦ ھ کا شعر ہے :
عبد وہاب کا بیٹا ہوا شیخ بخدی اس کی تقلید سے ثابت ہے ضلالت تیری
(ذوق نعت ص ١١٣، مدینہ پبلی کیشنگ کمپنی، کراچی)
مولانا بدر الدین قادری لکھتے ہیں :
زمین کے وسیع علم کے بارے میں شیخ نجدی، ابلیس لعین کو بڑا عالم و سرکار کو چھوٹا عالم مانتے ہیں۔
(سوانح امام احمد رضا ص ٨٣، نوریہ رضویہ، سکھر، ١٤٠٧ ء)
مفتی آگرہ استاذ العلماء علامہ عبد الحفیظ حقانی قدس سرہٗ لکھتے ہیں :
افسوس کہ شیخ نجدی کی ” کتاب التوحید “ میں اور شیخ ہندی کی ” تقویت الایمان “ میں دوسرا باب بدعت موجود نہیں۔
(سنت و بدعت حقائق کی روشنی میں بد حوالہ النعیم، جون ٢٠٠٤ ء)
علامہ مفسی تید شجاعت علی قادری متوفی ١٤١٣ ھ لکھتے ہیں :
فترحم الشیخ محمود الحسن و بعدہ الشیخ اشرف علی تھانوی الشیخ ابو الاعلیٰ مودودی۔
(من ھو احمد رضا ص ٥٨، ٤٩، لاہور، ١٤٠٢ ھ)
مفتی محمد عبد القیوم قادری متوفی ١٤٢٤ ھ لکھتے ہیں :
شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی بارہویں صدی کی ابتداء میں پیدا ہوئے۔ ( تاریخ نجد و حجاز ص ٢٣، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)
مولانافیض احمد اویسی لکھتے ہیں :
ابن التیمیہ کی ” کتاب الروعلی الافنائی “ کا اردو ترجمہ شیخ محمد صادق اہل حدیث نے کیا ہے۔
(شرح حدائق بخشش ج ٣ ص ٢٦٧، مکتبہ اویسیہ، بہاولپور)
علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری لکھتے ہیں :
(١) وللشیخ محمد قاسم النانوتوی (٢) ھذا ھوا ما مھم الشیخ محمد اسماعیل الدھلوی (٣) قال الشیخ ابن تیمیہ (٤) قال الشیخ اشرف علی التانوی الدیوبندی (٥) قال الشیخ خلیل احمد الانبیتوی۔