جس نے ایک دوسرے کے اوپر سات آسمان بنائے ( اے مخاطب ! ) تو رحمن کے نظم تخلیق میں کوئی خلل نہیں دیکھے گا، پس دوبارہ دیکھ کیا تو ( ان میں) کوئی شگاف دیکھتا ہے ؟
الملک : ٣ میں فرمایا : جس نے ایک دوسرے کے اوپر سات آسمان بنائے ( اے محاطب ! ) تو رحمان کے نظم تخلیق میں کوئی خلل نہیں دیکھ سکے گا، پس دوبارہ دیکھ کیا تو ان میں کوئی شگاف دیکھتا ہے ؟
رحمن کے نظم تخلیق میں کسی قسم کی کجی کا نہ ہونا
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تم رحمن کی بناوٹ میں کوئی ٹیڑھ، تناقض اور تباین نہیں پائو گے بلکہ یہ بناوٹ بالکل مستقیم اور سیدھی ہے جو اپنے خالق کے حسن تخلیق پر دلالت کرتی ہے، اگرچہ اس بناوٹ کی صورتیں اور صفات مختلف ہیں۔
اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ آسمانوں کی بناوٹ میں کوئی عیب نہیں ہے۔
تفاوت کا اصل معنی فوت ہے، یعنی کسی چیز سے کسی چیز کا فوت ہوجانا اور اس کی وجہ سے اس کی بناوٹ میں کوئی خلل اور عیب آجائے۔
تفاوت کا اصل معنی فوت ہے، یعنی کسی چیز سے کسی چیز کا فوت ہوجانا اور اس کی وجہ سے اس کی بناوٹ میں کوئی خلل اور عیب آجائے۔
اور فرمایا : پس دوبارہ دیکھ کیا تو ان میں کوئی شگاف دیکھتا ہے۔
یعنی اپنی نظر آسمان کی طرف پھیر دیا اپنی نظر آسمان کی طرف پلٹائو اور کوشش کرکے آسمان کی طرف دیکھو، تمہیں آسمانوں میں کوئی شگاف نظر نہیں آئے گا۔