Site icon اردو محفل

وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ۚ فَلَمَّا نَـبَّاَتۡ بِهٖ وَاَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهٗ وَاَعۡرَضَ عَنۡۢ بَعۡضٍ‌ۚ فَلَمَّا نَـبَّاَهَا بِهٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡۢبَاَكَ هٰذَا‌ؕ قَالَ نَـبَّاَنِىَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِیْرُ سورۃ نمبر 66 التحريم آیت نمبر 3

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ۚ فَلَمَّا نَـبَّاَتۡ بِهٖ وَاَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهٗ وَاَعۡرَضَ عَنۡۢ بَعۡضٍ‌ۚ فَلَمَّا نَـبَّاَهَا بِهٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡۢبَاَكَ هٰذَا‌ؕ قَالَ نَـبَّاَنِىَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِیْرُ‏ ۞

ترجمہ:

اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کی بات کہی، پس اس نے اس راز کو خبر دے دی اور اللہ نے نبی پر اس کا اظہار فرما دیا، تو نبی نے اس کو کچھ بتادیا اور کچھ بتانے سے اعراض کیا، پھر جب نبی نے اس کو اس ( افشاء راز) کی خبر دی تو اس نے کہا : آپ کو کس نے اس کی خبردی ؟ نبی نے کہا : مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کی بہت کہی، پس اس نے اس راز کی خبردے دی اور اللہ نے نبی پر اس کا اظہار فرما دیا تو نبی نے اس کو کچھ بتادیا اور کچھ بتانے سے اعراض کیا، پھر جب نبی نے اس کو اس ( افشاء راز) کی خبر دی تو اس نے کہا : آپ کو کس نے اس کی خبردی ؟ نبی نے کہا : مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرو ( تو اچھا ہے) کیونکہ تمہارے دل اعتدال سے کچھ ہٹ چکے ہیں، اور اگر نبی کے خلاف تم دونوں ایک دوسرے کی مدد کرتی رہیں تو بیشک اللہ نبی کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک مسلمان اور اس کے بعد سب فرشتے بھی ( ان کے) مددگار ہیں

( التحریم : ٤، ٣)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حضرت حفصہ کی دل جوئی کے لیے ان کو راز کی بات بتانا اور ان کا راز۔۔۔۔۔۔ افشاء کرنا

امام عبد الرحمن بن محمد بن ابی حاتم متوفی ٣٢٠ ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ (رض) سے دو راز کی باتیں کہی تھیں، ایک یہ کہ آپ نے حضرت ماریہ سے مقاربت کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے اور دوسری یہ کہ تمہارے والد ( حضرت عمر) اور حضرت عائشہ کے والد ( حضرت ابو بکر) میرے بعد حکم ران ہوں گے۔ ( تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٨٩٢٢، ج ١٠ ص ٣٣٦٢، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم الثعلبی المتوفی ٤٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ کو بتایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کون خلیفہ ہوگا، حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ کو یہ راز بتادیا۔

میمون بن مہران نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : آپ نے حضرت حفصہ کو یہ راز بتایا کہ میرے بعد ابوبکر خلیفہ ہوں گے اور انہوں نے حضرت عائشہ کو یہ راز بتادیا۔

اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر دی کہ حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ کو یہ راز بتادیا ہے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ سے کہا : تم نے میرا راز افشاء کردیا ہے، اور اس کی سزا میں ان کو طلاق ( رجعی) دے دی، جب حضرت عمر کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا : اگر آل عمر میں کوئی خیر ہوتی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم کو طلاق نہ دیتے اور ایک ماہ تک تم سے الگ نہ رہتے، پھر آپ کے پاس حضرت جبرئیل آئے اور آپ سے کہا کہ آپ حضرت حفصہ سے رجوع کرلیں، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ماہ تک اپنی ازواج سے الگ رہے اور آپ نے حضرت ماریہ کے بالا خانہ میں رہائش رکھی حتیٰ کہ آیت تخییر نازل ہوئی، مقاتل بن حیان نے کہا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ کو طلاق نہیں دی تھی، آپ نے ان کو صرف طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا، تب آپ کے پاس حضرت جبرئیل آئے اور کہا : آپ ان کو طلاق نہ دیں، بیشک وہ روزہ رکھنے والی اور قیام کرنے والی ہیں اور یہ آپ کی جنتی بیویوں میں سے ایک ہیں، سو آپ نے پھر ان کو طلاق نہیں دی۔

حضرت حفصہ کی افشاء کی ہوئی خبروں میں سے بعض خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ کو جتا دی تھی اور بعض نہیں جتائی تھی۔

مقاتل نے یہ کہا ہے کہ حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ کو دونوں خبریں نہیں بتائی تھیں، صرف یہ بتایا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر اور حضرت عمر خلیفہ ہوں گے۔

جب آپ نے حضرت حفصہ کو یہ بتایا کہ تم نے میرا راز فاش کردیا تو انہوں نے پوچھا : آپ کو کس نے خبر دی ؟ آپ نے فرمایا : مجھ کو علیم وخبیر نے یہ خبر دی ہے۔ ( الکشف و البیان ج ٩ ص ٣٤٦، ٣٤٥ داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٢ ھ)

حسب ذیل مفسرین نے بھی واقعہ کو لکھا ہے، بعض نے قدرے اختصار کے ساتھ اور بعض نے قدرے تفصیل سے۔

امام مقاتل بن سلیمان متوفی ١٥٠ ھ ( تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص ٣٧٧، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٤ ھ)

علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی متوفی ٤٥٠ ھ (النکت والعیون ج ٦ ص ٤٠، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

امام الحسین بن مسعود البغوی المتوفی ٥١٦ ھ (معالم التنزیل ج ٥ ص ١١٧، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

علامہ محمود بن عمر زمخشری متوفی ٥٣٨ ھ (الکشاف ج ٤ ص ٦٩ ھ داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٧ ھ)

امام عبد الرحمان بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ (زاد المسیرج ٨ ص ٣٠٨، المتکب الاسلامی، بیروت، ١٤٠٧ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ (تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٥٧٠، ٥٦٩ دارا حیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ ( الجامع الاحکام القرآن جز ١٨ ص ٧٢، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

قاضی عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ (تفسیر البیضاوی مع الخفاجی ج ٩ ص ٢٠٥، ٢٠٤، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٧ ھ)

علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ ( الدر المنثورج ٨ ص ٢٠٤، داراحیاء التراث العربی، بیرو ت، ١٤٢١ ھ)

علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ١١٣٧ ھ ( روح البیان ج ١٠ ص ٦٠، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

علامہ اسماعیل بن محمد الخفی المتوفی ١١٩٥ ھ ( حاشیہ القونوی علی البیضاوی ج ٩ ١ ص ١٥٣، دارالکتب العلمیہ، بیرو ت، ١٤٢٢ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ ( روح المعانی جز ٢٢٤، دارالفکر ٢٢٤، دارالفکر، بیروت، ١٤١٤ ھ)

وحی خفی کا ثبوت

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ کو ایک راز کی بات بتائی تھی جس کو انہوں نے افشاء کردیا، مگر پورے قرآن میں کہیں مذکور نہیں ہے کہ وہ راز کی بات کیا تھی جس کو افشاء کرنے کی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دے دی، اور یہ قطعی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور کو اس بات کی خبر دی ہے اور خبر کا وہ ذریعہ بھی قطعی ہے، اور وہی وحی خفی ہے جس کو ہم حدیث سے تعبیر کرتے ہیں، جو لوگ حدیث کی حجیت اور وحی خفی کے قائل نہیں اور صرف قرآن کی وحی کو مانتے ہیں، وہ بتائیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی وہ خبر کہاں ہے ؟

تبیان القرآن سورۃ نمبر 66 التحريم آیت نمبر 3

Exit mobile version