کیا تم آسمان والے سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تم پر کنکریاں برسانے والی تیز ہوا کھینچ دے، پس عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا۔
الملک : ١٧ میں فرمایا : کیا تم آسمان والے سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تم پر کنکریاں برسانے والی تیز ہوا بھیج دے، پس عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا
کفار مکہ کو دنیاوی عذاب سے ڈرانا
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : تم پر ایسی کنکریاں برسادے جیسی حضرت لوط (علیہ السلام) کی مجرم قوم پر برسائی تھیں، اس آیت میں ” نذیر “ کا لفظ ہے اور اس سے مراد ” منذر “ ہے، یعنی ڈرانے والا اور اس سے مراد سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور اس کا معنی یہ ہے کہ ہمارے نبی نے تمہیں ہمارا پیغام پہنچایا اور یہ کہا کہ اگر تم نے اس پیغام کو قبول نہیں کیا تو تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے گا، پس اگر تم اللہ کے عذاب سے بےخوف ہو کر اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور اس کے نتیجہ میں تم پر آسمان سے کنکریاں برسنے کا عذاب آیا تو پھر تم کو ہمارے رسول کی وعید کے صدق کا علم ہوجائے گا اور ان کے ڈرانے پر یقین ہوجائے گا۔