Site icon اردو محفل

اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 14

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ۞

ترجمہ:

کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا حالانکہ وہ بہت باریک بین اور بہت خبر رکھنے والا ہے ؏

الملک : ١٤ میں فرمایا : کیا وہی نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے حالانکہ وہ بہت باریک بین اور بہت خبر رکھنے والا ہے

یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دلوں کی باتوں کو نہ جانتا ہو، دلوں کو بھی اس نے پیدا کیا ہے اور دلوں میں خیالات کو بھی اس نے پیدا کیا ہے تو وہ دلوں کی باتوں کو کیسے نہیں جانتا۔

استاذ ابو اسحاق اسفرائنی نے کہا : اللہ تعالیٰ کے اسماء صفات میں سے کئی اسماء کا تعلق علم سے ہے، ان میں سے ایک اسم علیم ہے، اس کا معنی ہے : وہ تمام معلومات کا عالم ہے، اور اس کا ایک اسم خیبر ہے، اس کا معنی ہے : وہ ہر چیز کو اس کے وقوع سے پہلے جانتا ہے اور ان میں سے ایک اسم حکیم ہے، اس کا معنی ہے : وہ ہر چیز کے باریک اسماء کو جانتا ہے اور ایک اسم شہید ہے، اس کا منی ہے : وہ ہر حاضر اور غائب کو جانتا ہے اور اس سے کوئی چیز غائب نہیں ہے، اور ایک اسم حافظ ہے، اس کا معنی ہے : وہ کوئی چیز بھولتا نہیں ہے اور ایک اسم المحصی ہے، اس کا معنی ہے : کسی چیز کی کثرت اس کے علم کے لیے مانع نہیں ہے مثلاً سورج کی روشنی شعائوں کے باریک ذرات، آندھیوں سے پتوں کا گرنا، وہ ان میں سے ہر ہر جز کو اور اس کی ہر ہر حرکت کو جانتا ہے اور وہ کیسے نہیں جانے گا اسی نے تو ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 14

Exit mobile version