Site icon اردو محفل

اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا وَّهِىَ تَفُوۡرُۙ – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 7

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا وَّهِىَ تَفُوۡرُۙ ۞

ترجمہ:

جب ان کو دوزخ میں جھونکا جائے گا تو وہ دوزخ کی خوف ناک چنگھاڑ سنیں گے اور وہ جوش میں آرہی ہوگی.

الملک : ٧ میں فرمایا : جب ان کو دوزخ میں جھونکا جائے گا تو وہ دوزخ کی خوف ناک چنگھاڑ سنیں گے اور وہ جوش میں آرہی ہوگی

دوزخ میں چنگھاڑ کی تفسیر میں تین اقوال

قیامت کے دن کفار کو اٹھا کر دوزخ میں جھونک دیا جائے گا اور وہاں کفار ایک خوف ناک چنگھاڑ سنیں گے، یہ چنگھاڑ کس کی ہوگی، اس کے متعلق تین قول ہیں :

(١) مقاتل نے کہا : یہ دوزخ کی چنگھاڑ ہوگی، ہوسکتا ہے کہ یہ دوزخ کی آگ کے شعلوں کی لپیٹ کی آواز ہو، زجاج نے کہا : کفار دوزخ کی چنگھاڑ سنیں گے اور وہ گدھے کی آواز کی طرح سب سے قبیح آواز ہے، مبرد نے کہا : یہ دوزخ کے سانس لینے کی آواز ہے۔

(٢) عطاء نے کہا : جو لوگ دوزخ میں پہلے سے پڑے ہوں گے وہ عذاب کی شدت سے چلا رہے ہوں گے، کفار ان کی آوازوں کو سنیں گے۔

(٣) وہ خود اپنی آوازوں کو سنیں گے، قرآن مجید میں ہے :

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَّشَہِیْقٌ (ھود : ١٠٦)

رہے بدبخت لوگ تو وہ دوزخ میں ہوں گے وہاں وہ چیخیں گے اور چلائیں گے

اس آیت میں ” شھیق “ اور ” زفیر “ کا ذکر فرمایا ہے ” شھیق “ کفار کی وہ آواز ہوگی جب انہیں دوزخ میں جھونکا جائے گا، ایک قول یہ ہے کہ ” شھیق “ وہ آواز ہوگی جو ان کے سینوں سے نکلے گی اور ” زفیر “ ان کی وہ آواز ہوگی جو ان کے حلق سے نکلے گی۔ ان تین اقوال میں مختار قول پہلا ہے۔ اس وقت وہ جوش میں آرہی ہوگی جیسے ہنڈیا میں پانی جوش مارتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 7

Exit mobile version