اور تم چھپا کر بات کرو یا ظاہر کر کے، بیشک وہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے.
الملک : ١٣ میں فرمایا : اور تم چھپا کر بات کردیا ظاہر کر کے، بیشک وہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے
اللہ تعالیٰ کے علم محیط پر دلائل
مشرکین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جو باتیں کرتے تھے وہ حضرت جبریل (علیہ السلام) آپ کو بتا دیتے تھے، تب مشرکین نے آپس میں کہا : آہستہ آہستہ باتیں کیا کرو کہیں ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خدا سن نہ لے، تب یہ آیت نازل ہوئی۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس آیت میں تمام مخلوق سے ان کے تمام کاموں اور ان کی تمام باتوں کے متعلق ارشاد ہے کہ تم کوئی کام چھپا کر کرو یا دکھا کرو یا کوئی بات چپکے سے کرو یا زور سے کرو، اللہ تعالیٰ کو تمہاری تمام باتوں اور تمام کاموں کا علم ہے۔