Site icon اردو محفل

اَفَمَنۡ يَّمۡشِىۡ مُكِبًّا عَلٰى وَجۡهِهٖۤ اَهۡدٰٓى اَمَّنۡ يَّمۡشِىۡ سَوِيًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 22

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَمَنۡ يَّمۡشِىۡ مُكِبًّا عَلٰى وَجۡهِهٖۤ اَهۡدٰٓى اَمَّنۡ يَّمۡشِىۡ سَوِيًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ۞

ترجمہ:

بھلا جو شخص منہ کے بل اوندھا چلے وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے یا وہ جو صراط مستقیم پر سیدھا چلے ؟

الملک : ٢٢ میں فرمایا : بھلا جو شخص منہ کے بل اوندھا چلے وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے یا وہ صراط مستقیم پر سیدھا چلے ؟

اس آیت میں ” مکبا “ کا لفظ ہے اس کا مادہ ” کبت “ ہے ” کبہ اللہ “ کا معنی ہے اللہ اس کو اوندھا گرا دے ” فلاں اکتب “ وہ سرنگوں گرپڑا۔

اس آیت کی حسب ذیل تفسیریں ہیں۔

(١) جو شخص سیدھا کھڑا ہو کر نہ چلتاہو، بلکہ وہ چلنے میں کبھی اوپر ہوتا ہو اور کبھی نیچے وہ چلنے میں لڑکھڑاتا رہتا ہے اور چلتے چلتے منہ کے بل گر جاتا ہے، اس کا حال اس شخص کے متضاد ہے جو سیدھا چلتا ہے اور اس کے چلنے میں لڑکھڑاہٹ ہے نہ کجی اور نہ ٹیڑھا پن۔

(٢) جو شخص کبھی ایک طرف چلتا ہے اور کبھی دوسری طرف چلتا ہے، وہ راستہ سے جہالت اور اسی کی وجہ سے حیرانی اور پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے۔

(٣) جو شخص اندھا ہو وہ راستہ میں ادھر ادھربھٹکتا رہتا ہے اور منہ کے بل ٹھوکر کھا کر گر جاتا ہے، اسکے برعکس جو شخص بینا ہو، اس کو راستہ کا علم ہو وہ سیدھا چلتا ہے اور کہیں بھٹکتا ہے نہ منہ کے بل گرتا ہے۔

اس میں بھی اختلاف ہے کہ ان دونوں آیتوں میں آخرت کی مثال ہے یا دنیا کی ؟ بعض مفسرین نے کہا : کافر دنیا میں اپنے گناہوں پر منہ کے بل گرا ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ حشر کے دن اس کو منہ کے بل اٹھائے گا، اور مؤمنین دنیا میں صراط مستقیم پر تھا تو اللہ تعالیٰ اس کو حشر کے دن سیدھا اٹھائے گا اور بعض نے کہا : یہ دنیا میں مومن اور کافر اور عالم اور جاہل کی مثال ہے، پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ یہ مثال تمام دنیا کے کافروں اور مؤمنوں کے لیے عام ہے اور اس سے مراد مخصوص مومن اور کافر ہیں۔ مقاتل نے کہا : اس سے مراد ابوجہل اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : اس سے مراد ابو جہل اور حضرت حمزہ بن عبد المطلب (رض) ہیں اور عکرمہ نے کہا : اس سے مراد ابو جہل اور حضرت عمار بن یاسر (رض) ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 22

Exit mobile version