Site icon اردو محفل

اَمَّنۡ هٰذَا الَّذِىۡ يَرۡزُقُكُمۡ اِنۡ اَمۡسَكَ رِزۡقَهٗ‌ ۚ بَلۡ لَّجُّوۡا فِىۡ عُتُوٍّ وَّنُفُوۡرٍ – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 21

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمَّنۡ هٰذَا الَّذِىۡ يَرۡزُقُكُمۡ اِنۡ اَمۡسَكَ رِزۡقَهٗ‌ ۚ بَلۡ لَّجُّوۡا فِىۡ عُتُوٍّ وَّنُفُوۡرٍ ۞

ترجمہ:

یا وہ کون ہے جو تمہیں روزی دے سکے، اگر اللہ اپنا رزق دینا بند کردے، بلکہ کافر اپنی سرکشی میں اور نفرس میں راسخ ہوچکے ہیں۔

الملک : ٢١ میں فرمایا : یا وہ کون ہے جو تمہیں روزی دے کسے، اگر اللہ اپنا رزق بند کردے۔

اس کا معنی ہے : تمہارے خود ساختہ خدائوں میں سے کون تمہیں رزق دے سکتا ہے اگر اللہ تمہیں رزق دینا بند کردے، کیونکہ رزق کے قوی اسباب سے آسمان سے پانی کو نازل کرنا ہے اور زمین سے غلہ، سبزیوں اور پھلوں کو اگانا ہے اور اللہ کے سوا کون آسمان سے بارشوں کو نازل کرسکتا ہے اور کون زمین سے غلہ کو پیدا کرسکتا ہے اور جن حلال جانوروں کا گوشت کھا کر تم اپنی نشو و نما حاصل کرتے ہو، اللہ تعالیٰ کے سوا ان جانوروں کو کون پیدا کرسکتا ہے، ان کافروں نے حق واضح ہونے کے باوجود ایمان لانے سے انکار کیا اور ہٹ دھرمی سے کام لے کر اپنے کفر پر ڈٹے رہے، دنیا پر حرص کرنے کی وجہ سے انہوں نے سرکشی کی اور اپنی جہالت کی وجہ سے ایمان لانے سے بھاگتے رہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 21

Exit mobile version