آپ کہیے : وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا ہے اور اسی کی طرف تم جمع کیے جائو گے۔
اللہ تعالیٰ کا انسانوں کی صفات سے اپنی قدرت پر استدلال
الملک : ٢٤ میں فرمایا : آپ کہیے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا ہے اور اسی کی طرف تم جمع کیے جائو گے
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت پر پہلے حیوانات کے حوالے سے استدلال کیا، پھر انسانوں کی صات، سمع، بصر اور عقل سے پانی قدرت پر استدلال کیا اور اب اس کائنات کے حددث اور اس کو عدم سے وجود میں لانے سے اپنی قدرت پر استدلال فرما رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت پر اس لیے دلائل قائم کیے ہیں تاکہ تاکہ حشر و نشر کا اور قیامت کا ممکن ہونا بیان کیا جائے، کیونکہ کفار مکہ یہ نہیں مانتے تھے کہ قیامت آئے گی اور تمام انسانوں کے مرنے کے بعد ان کو پھر دوبارہ زندہ کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ جب وہ اس کائنات کو ایک بار عدم سے وجود میں لا چکا ہے تو دوبارہ اس کائنات کو پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کیوں ممکن نہیں ہوگا۔