اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نون، قلم کی قسم اور اس کی جو فرشتے لکھے ہیں (اے رسول مکرم ! ) آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہے اور بیشک آپ کے لئے لا محدود ہے اور بیشک آپ عظیم اخلاق پر فائز ہیں ( القلم : ٤۔ ١)
نون اور قلم کے معانی اور ان کے متعلق احادیث
امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ القلم : ١ کی تفسیر میں اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ عزوجل نے جس چیز کو سب سے پہلے پیدا کیا وہ قلم ہے، پھر جو کچھ ہونے والا تھا اس کو قلم نے لکھا، پھر پانی سے بخارا اٹھا تو اس سے آسمان پیدا کیے گئے، پھر مچھلی کو پیدا کیا گیا ( نون کا معنی مچھلی ہے) اور زمین کو مچھلی کی پست پر پھیلایا گیا، زمین ہلنے لگی تو اس کو پہاڑوں سے ٹھہرایا گیا، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی :” ن والقلم وما یسطرون “ ( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٦٧٦٣، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
حافظ سیوطی نے لکھا ہے : اس حدیث کو امام عبد الرزاق، امام فریابی، امام سعید بن منصور، امام عبد بن حمید، امام بن جریر، امام ابن المنذر، امام ابن ابی حاتم، امام ابو الشیخ نے ” العظمۃ “ میں امام حاکم نے تصیح سند کے ساتھ ” المستدرک “ میں امام بیہقی نے ” الاسماء والصفات “ میں اور امام خطیب بغدادی نے اپنی ” تاریخ “ میں اور امام الضیاء نے المتخارہ “ میں روایت کیا ہے۔
( الدار المنثور ج ٨ ص ٢٢٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک اللہ نے سب سے پہلے القلم کو پیدا کیا، پھر اس سے فرمایا : لکھ ” تو اس نے ابد تک جو کچھ ہونے والا تھا وہ لکھ دیا۔ امام ابو دائود کی روایت میں ہے : قلم نے تمام ” ماکان وما یکون “ لکھ دیا۔
( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣١٩، ٢١٥٥، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٠٠، مسند احمد ج ٥ ص ٣١٧)
امام رازی نے کہا : نون کے متعلق یہ روایت کہ وہ مچھلی ہے اور اس پر زمین ٹھہری ہوئی ہے، ضعیف ہے اور حق یہ ہے کہ نون اس سورت کا اسم ہے یا یہ حرف تہجی ہے اور اس سے یہ بتایا ہے کہ یہ قرآن ان ہی حروف سے مرکب ہے جن سے تم کلام مرکب کرتے ہو اور اگر تمہاری رائے میں یہ کلام کسی انسان کا بنایا ہوا ہے تو تم بھی اس کی مثل کلام بنا کرلے آئو۔
(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٥٩٨، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)