Site icon اردو محفل

وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 25

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

وہ کہتے ہیں : ( عذاب کا) وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو ؟

الملک : ٢٥ میں فرمایا : وہ کہتے ہیں کہ ( قیامت کا) وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو ؟

کفار کے انکار عذاب کا بطلان

جب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ایمان نہ لانے پر اللہ تعالیٰ کی عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے کہا : آپ ہمیں معین وقت بتائیں جب عذاب آئے گا، وہ یا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑانے کے لیے آپ سے عذاب کے وقت کی تعیین کا مطالبہ کرتے تھے یا اپنے حامیوں اور کم عقل لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے کہتے تھے کہ جب عذاب جلدی نہیں آئے گا تو سمجھ لو عذاب نہیں آئے گا۔

مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ انہوں نے عذاب کے وقت کی تعیین کا سوال کیا تھا یا قیامت کے وقت کی تعیین کا سوال کیا تھا۔

القرآن – سورۃ نمبر 67 الملك آیت نمبر 25

Exit mobile version